داتا کی نگری میں بزم ظرافت کا افتتاح 

syed arif mustafa

الحمدللہ بزم ظرافت نے لاہور میں بھی کام کرنا شروع کردیا ہے اور آج بروز اتوار صبح دس بجے اسکی افتتاحی تقریب بزم ظرافت کے صدر جناب پروفیسر سلیم ہاشمی کی سرکردگی میں منعقد ہوئی ۔۔۔ اس تقریب کی کہانی تو خود ہمارے دوست سلیم ہاشمی کے قلم کی زبانی سنیئے و پڑھیئے گا اور اسکی تصاویر بھی وہی شیئر کرینگے
لیکن اس موقع پہ وہاں بحیثیت مرکزی صدر میرا جو پیغام پڑھ کے سنایا گیا وہ یہاں ذیل میں آپکی بھی نذر کرتا ہوں - اس تقریب کے انعقاد پہ میں پروفیسر سلیم ہاشمی صاحب اور انکے زندہ دل احباب کو ازحد مبارکباد پیش کرتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ گاہے گاہے ہمیں راوی کنارے سے راوی چین لکھتا اور بھیجتا رہے گا- -
اس تقریب کے بعد اگلے ماہ چکوال میں ہمارے دوست ڈاکٹر اکرام الحق اور ڈی جی خان میں بھائی یاسر شیخ بھی ایسی ہی تقاریب منعقد کرنے والے ہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی اپنے ضلع یا تحصیل میں زندہ دلوں کی اس بزم کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو آخر میں دیئے گئے ای میل پتے پہ یا بذریعہ فیسبک رابطہ کرسکتے ہیں- اگلے اتوار کے روز شام 6 بجے آرٹس کونسل میں بزم ظرافت کراچی کی جانب سے ہماری بزم کے ایک اہم رکن اور نامور محقق و شاعر عقیل عباس جعفری کی تقریب پزایرائی منعقد ہوگی کیونکہ انہیں انکی بے پایاں تحقیقی خدمات کے اعتراف میں وفاقی حکومت نے اردو ڈکشنری بورڈ کا ایڈیٹر انچیف مقرر کیا ہے- سبھی قارئین کو اس میں شرکت کی دعوت عام ہے-
کہتے ہیں کہ ایک نامعقول بندے کو بھی دیکھنے کے لیئے دو ہی آنکھیں درکار ہوتی ہیں لیکن اگر وہ معقول بننا چاہتا ہے تو اسے ایک تیسری آنکھ کی لازمی ضرورت ہوتی ہے کہ جسکی مدد سے وہ ان گوشوں میں بھی جھانک سکتا ہے کہ جہاں تک ان دو آنکھوں والی نظر نہیں جاتی ۔۔۔۔ لیکن اگر وہ ظرافت نگار بننا چاہتا ہے تو اسے تیسری ہی نہیں چوتھی آنکھ بھی درکار ہوتی ہے کہ جو قطرے میں سمندر دکھاتی ہے اور دیو میں سے بونے کو برآمد کرتی ہے ۔۔۔ کیونکہ اس آنکھ میں نہ تو تعصب کا کوئی کچرا پڑا ہوتا ہے اور نہ ہی بغض و عناد کا آشوب حد نگاہ کو محدود کرتا ہے ،،،، یہاں یہ وضاحت کرنا ناگزیر ہے کہ ہم نے جو یہ بزم ظرافت قائم کی ہے اسکا رکن بننے کے لیئے ظرافت نگار ہونا قطعی ضروری نہیں بس ظرافت شعار ہونا لازمی ہے ،،، یہ ظرافت شعار وہ ہوتا ہے کہ جو زندگی کی کٹھن راہوں کو زندہ دلی و بشاشت سے طے کرتا ہے اور جو کھل کے مسکراتا ہے اور اپنی ہی نہیں اپنے سے جڑے لوگوں کی زندگی کو بھی مسرت اور شگفتگی سے ہمکنار کرتا یہے اور آسانیاں تقسیم کرتا ہے ،،، ایسا ا اہر شخص اپنی دھرتی اور اپنے ماحول کا محافظ ہوتا ہے اوراعلٰی اخلاقی اقدار کا نگہباں بن کے کثافت میں سے بھی لطافت کو کشید کرتا ہے اوریوں زندگی کو بھگتتا نہیں بسر کرتا ہے اور جس دائرے میں بھی موجود ہوتا ہے وہاں موجود لوگوں کی زندگی میں بھی خوشیوں و بشاشت کے رنگ بھر دیتا ہے
بزم ظرافت کی تشریح کی ضمن میں ہم ظرافت کو اس طرز احساس کا نام دیتے ہیں کہ جس میں کشادہ دلی سے اپنی کوتاہیوں پہ ہنسنے کا ظرف جھلکتا ہے اور یوں دوسروں کو بھی اپنے ہی جیسا مجبور و خطا کار سمجھ کے انکی خامیوں و غلطیوں سے درگزر کیا جاتا ہے اور صرف ایسے ہی وسیع النظر لوگ اس بزم کا حصہ بن سکتے ہیں کہ جو ذات برادری ، مسلک و فرقہ اور زبان و عقیدہ نہیں‌ انسانیت کے تقاضوں کو مقدم رکھتے ہوں اس بزم کے ممبران میں نہ تو مال و منصب کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی اختیار و قوت کو کوئی برتری دی گئی ہے ۔۔۔ اسکے ممبران وقتاً فوقاً باہر کہیں کسی گھر یا ڈھابے میں اکٹھے ہوتے ہیں اور انکی اس میٹنگ میں شاعری و افسانے بھی سنے جاتے ہیں ، طنزومزاح کے شہ پارے بھی سنائے جاتے ہیں اور کسی اہم قومی مسئلے کو بھی شگفتہ و لطیف پیرائے میں زیر بحث لایا جاتا ہے- گھمبیر مسائل میں پھنسی اپنی ذات کے پریشر ککر کو پھٹنے سے بچانے کے لیئے یہ بزم ایک طرح کا سیفٹی والو ہے جو کہ آپکو نئے اور قابل عزت دوست بھی فراہم کرتی ہے اور کسی اہم قومی مسئلے پہ سرجوڑ کے غور و خوص کرنے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے
اور یوں آپکی ذات میں چھپے ایک ذمہ دار فرد کو تلاش کرکے ابھارتی ہے اور آپکی صلاحیتوں کو بھرپور طور پہ اجا گر کرتی ہے- مجھے خوشی ہے کہ بزم ظرافت کا کارواں صرف کراچی یا ڈی جی خان یا چکوال اور پندی تک محدود نہیں رہا بلکہ برصغیر میں زندہ دلوں کے سب سے بڑے شہر یعنی لاہور میں بھی اس بزم کی شاخ قائم کردی گئی ہے اور یوں آپ لوگوں کی محنت اور تعاون سے ہم آج داتا کی نگری میں بھی پہنچ گئے ہیں کہ جہاں اب اس بزم کے سائبان تلے وہ اہل ذوق بھی نمایاں ہونگے کہ جنکی صلاحیتیں اور فن کسی سبب سے نظر انداز کیئے جاتے رہے اور جنہیں بھرپور طور پہ نمایاں کیا جانا چاہیئے تھا-
بقول اقبال ۔۔۔ کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد ۔۔۔ تو لیجیئے نئی بستیاں‌ بسانے کی نوید لیئے ہم حاضر ہو گئے ہیں بس اب تلاش ہے تو قافلہء جنوں کے لیئے چند آشفتہ سروں کی اور یوں ظرافت اور زندہ دلی کو ایک طرز زندگی بنانے کا مرحلہ آن پہنچا ہے اور آپ سے یہ التماس ہے کہ ہمیں اس رستے پہ گامزن کرنے اور استقامت سے کھڑے رہنے میں ہم سے تعاون کیجیئے،،،
سید عارف مصطفیٰ صدر بزم ظرافت-پاکستان
[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *