نئے چیف الیکشن کمیشنر کی بدنامی کس کے نام۔۔فیصلہ جلد متوقع

SECPمحمد طارق فاروقی

سپریم کورٹ کی جانب سے 13؍ نومبر کی حتمی تاریخ کے بعد اب نئے چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ جلد ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں فخرالدین جی ابراہیم نے اس اہم ترین منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جب سے ریاست کا یہ اہم ترین ادارہ اپنے سربراہ کا منتظر ہے۔ اگر چہ اس کے لئے اب تک جتنے نام زیرِگردش ہیں وہ سب معزز ریٹائرڈ جج صاحبان کے ہیں۔ مگر کسی بھی قابلِ احترام ریٹائرڈ جج کے لئے اب اس منصب کی قبولیت کوئی نیک نام کام نہیں رہا۔ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے ریٹائرڈ جج صاحبان کوآڑے ہاتھوں لینے کی روش نے ہر باضمیر شخص کو اپنی عزت سنبھالنے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اس کھکھیڑ سے دور رہنے کی طرف مائل کر دیا ہے۔ شاید اُن کے لئے اب پانچ سال تک ہر ماہ پانچ لاکھ کی رقم اُ س عزت کے مقابلے میں کچھ بھی نہ ہو جو اُنہیں ہر جلسے میں ’’تم‘‘ کہہ کر مخاطب کرنے والے عمران خان کے ہاتھوں بار بار گنوانی پڑے گی۔عمران خان نے نیک نام فخرو بھائی (فخرالدین جے ابراہیم ) کے ساتھ گزشتہ چند ماہ سے جو سلوک روا رکھا ہے اور اُنہیں جن جن ناموں سے مخاطب کر رہے ہیں وہ بلا تخصیص ہر ریٹائرڈ جج کے لئے ایک لمحہ فکریہ بن چکا ہے۔ شاید یہی وجہ رہی ہو کہ اپنی نیک نامی کے حوالے سے نہایت حساس سابق جج رانا بھگوان داس نے اپنے نام کے سامنے آتے ہی معذرت کر لی۔رانا بھگوان داس کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری میں اگرچہ آئینی رکاوٹ بھی ہے مگر یہ رکاوٹ دور کرنے کے لئے سیاسی جماعتیں تیار بھی ہو سکتی تھیں مگر اُنہوں نے اس عمل سے پہلے ہی خود کو اس عاشقی میں عزت سادات گنوانے سے دور کر لیا۔
اب تک چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے جتنے بھی نام سامنے آئے ہیں اُن میں سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی،جسٹس رانا بھگوان داس،جسٹس ناصر اسلم زاہد،جسٹس غوث محمداور جسٹس محمد اجمل کے نام شامل ہیں۔ اب مضحکہ خیز صورتِ حال یہ ہے کہ اِن میں سے کچھ ناموں پر کچھ جماعتوں نے اعتراض کر دیا ہے اور کچھ ناموں پر کچھ دوسری جماعتوں نے اپنے اعتراض وارد کر دیئے ہیں۔ مثلا جسٹس سعید الزماں اور جسٹس ناصر اسلم زاہد کے ناموں پر پیپلز پارٹی کو اعتراض ہیں۔ اسی طرح جسٹس محمد اجمل کے نام پر مسلم لیگ نون کو اعتراض ہے۔اور پی ٹی آئی کو تقریباً تمام ہی ناموں پر اعتراضات ہیں۔ اِن اعتراضات کے اسباب سے قطع نظر معزز جج صاحبان میں سے شاید ہی کوئی نام ہو جس پر تمام جماعتیں متفق ہو سکیں۔ ایک موہوم سی امید حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کے حوالے سے تھی کہ شاید اُن کے نام پر تمام حلقوں میں کوئی اتفاق پید اہو سکے کہ عمران خان ماضی قریب میں ہی اُن پر اپنے اعتماد کا کھلا اظہار کرچکے تھے۔ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے رشتہ داری کے باوجود اُن پر مسلم لیگ نون کی طرف سے کبھی کوئی اعتراض وارد نہیں ہوا تھا۔ اس طرح نظام کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اُن کے نام پر ایک اتفاق پیدا ہونے کا قوی امکان تھا۔ مگر بدقسمتی سے عمران خان نے رحیم یار خان کے تازہ جلسے میں اُن کے نام پر بھی برسر عام اعتراض وارد کر دیا ہے۔ جس کے بعد اب کوئی ایک نام بھی ایسا باقی نہیں رہ گیا ہے کہ جس پر تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے اتفاق کا کوئی ماحول پید اہو سکے۔ مگر اس کے باوجود عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے 13؍ نومبر کی حتمی ڈیڈ لائن کے بعد اب حکومت کے لئے کسی بھی طرح چیف الیکشن کمشنر کی تقرری ایک چیلینج بن چکی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کے لئے زیر گردش ناموں پر کوئی اتفاق ہوتا ہے یا پھر کوئی نیا نام اچانک سامنے آتا ہے۔ تاہم یہ ایک واضح امر ہے کہ زیر گردش ناموں میں سے اب کوئی بھی نام ایسا نہیں ہے جس پر تمام جماعتیں مکمل اتفاق کر سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *