جنت : جنس اور پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرنے کا اڈہ ؟

نوٹ: سائٹ پر دیئے گئے تمام کالمز اور بلاگز مصنفین کی ذاتی آرا ہیں، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

naeem-baloch1

یہ حقیقت ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اصل میں انسان کو یہ بتانے آئے تھے کہ انسان کو اس دنیا میں آزمایش کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ کامیاب یا ناکام آزمایش پراس کی منزل جنت ہو گی یا جہنم۔ گویا آخرت کی منادی وہ اہم ترین اور اصل بات ہے جس کو بتانے کے لیے اللہ نے اپنے پیغمبر مبعوث کیے، شریعت نازل فرمائی، الہامی کتب عطا فرمائیں۔ اب یہ جنت اور دوزخ کیا ہیں؟اس کی کچھ رال ٹپکاتی تفصیل آپ فضائل کی مذہبی کتب میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اور یہ تفاصیل اس قدر باعث کشش ہیں کہ ان کے لیے ترک دنیا سے لے کر خود کش دھماکے اور خدمت خلق اور ویلفیئر کے بھی بے مثال کام کیے گئے ۔لیکن اس کی حقیقت جاننے کا عمل ماضی میں صرف علماء ہی میں جاری رہا لیکن یہ دور جدید ہی کا اعجاز ہے کہ یہ موضوع عام آدمی کے درمیان بھی زیر بحث آگیا ۔ طوفان تو اس وقت آیا جب فیس بک پر کسی فاطمہ خان نامی قابلِ احترام خاتون نے کچھ کانٹے دار تمام سوالات پوری بہادری سے اہل علم کے سامنے اعتراضات کی شکل میں رکھ دیے۔ ان اعتراضات کے مطابق اگر جنت کا وہی تصور ہے جو بیان کیا جاتا ہے تو :
* بظاہر جنت جنسی عیاشی اور انتہائی اعلیٰ کھابوں کا بے مثال مرکز لگتاہے جہاں یہ چیزیں مفت اور بے حساب میسر ہوں گی ۔
* کیا نیک عورتیں اپنے مردوں کے لیے حوروں سے بڑھ کر ہو ں گی؟ اور مرد ،ان کی قدر کیسے کریں گے جبکہ حوریں ان سے زیادہ خوبصورت ہوں گی اور انھوں نے وہاں کوئی اولاد بھی پیدا نہیں کرنی؟
* اسلام جس اللہ کا تصو ر دیتا ہے کیا وہ جنت میں انسان کو انھی دو کاموں تک محدود کر دے گا ؟کیا انسان کا اصل مصرف ’’ جنسی ربوٹ ‘‘ اور چٹورا اور پیٹو انسان نما حیوان بننا ہے؟
*جنت کے اس تصور پر غور کیاجائے تو یہ تضادات کا ایک بے ہنگم مجموعہ ہے جو نہ کسی حکیم پروردگار کا کام ہو سکتا ہے نہ اعلیٰ انسانی دماغوں کا پسندیدہ مقام !
اعتراضات کے اس خلاصے کے بعد کچھ مزید اعتراضات لطیفوں کی شکل میں سن لیں کہ جنت کے ایک ’گجر ‘کو کچھ فرشتے پھینٹی لگا رہے تھے ۔ کسی نے اس’ عزت افزائی‘ کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ اس گُجر نے جنت کی دودھ کی نہر کو ’’ جاگ ‘‘ لگا کر ’دہی‘ میں بدل دیا تھا ۔
اور ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں :
دوزخ کی دیوا ر پر چڑھ کر میں نے اور ابلیس نے دیکھا
سہمی ہوئی حور کے پیچھے وحشی ملا بھاگ رہا ہے !
ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ سوالات و اعتراضات کس نیت سے کیے گئے ہیں، اور سچی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے کئی سوالات تو ایسے ہیں جو ہمار ے ذہنوں میں بھی کانٹے کی طرح چبھتے رہے لیکن ہم نے یہی سمجھا کہ ہم کوئی عقل کل نہیں کہ ہمارے سمجھ میں اگر کوئی بات نہیں آتی تو یہ دین کا نقص ہے، بلکہ اسے اسی طرح کے سوالات قرار د یے جس طرح کسی گھڑ سوار کے ذہن میں پائلٹ کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ چنانچہ اہل علم کی رہنمائی میں تمام گتھیاں ایک ایک کرکے سلجھ گئیں ۔ الحمد للہ !
ہمارے ایک جاننے والے سے نیٹ پر کسی غیر مسلم نارویجین نے بڑی دلچسپی سے اسلام کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ باسط صاحب نے بتایا کہ وان نامی اس نارویجین نے بڑے تجسس سے پوچھا کہ کیا تم ایک جملے میں بتا سکتے ہو کہ اسلام کا اصل’’ issue‘‘ کیا ہے؟ وہ لوگوں کو کیا بات بتانا چاہتا ہے ؟ باسط نے اسے بتایا کہ اسلام ہر انسان کو یہ یاددہانی کراتا ہے کہ یہ دنیا آزمایش ہے اور اس آزمایش میں اللہ کی طرف سے دیے گئے اختیار کے ذریعے سے اسے ثابت کرنا ہے کہ وہ ایک اچھا انسان ہے یا برا۔باسط نے بتایا کہ اس کی نظر سے سورۂ ملک کی آیت نمبر۲گزر چکی تھی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ کارخانۂ حیات اس لیے بنایا ہے کہ معلوم ہو جائے کہ تم میں اچھا کون ہے اور برا کون !
باسط نے اسے بالکل ٹھیک جواب دیا تھا۔ اس کے بعد مسٹر وان نے اس سے پوچھا کہ یہ کون طے کرے گا کہ اچھا کون ہے اور برا کون؟ باسط نے بتایا کہ زندگی کی اس آزمایش میں ڈالنے والا، اس ساری دنیا اور کائنات کو پیدا کرنے والا ایک اللہ۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اس کے بعد مسئلہ اس وقت پیدا ہو جب وان نے باسط سے پوچھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اس انسان کے ساتھ کیا کرے گا جس نے اپنے آپ کو اچھا ثابت کر دیا ۔ باسط نے کہا کہ ایسے شخص کو قیامت کے بعد اللہ جنت میں داخل کرے گا۔ اور برے انسان کو جہنم میں۔ اب جب جنت و جہنم کی تفصیل مسٹر وان کو بتائی گئی تو اس نے باسط کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ مثلاً باسط نے بتایا کہ جنت میں باغ ہوں گے جہاں ٹھنڈی نہریں ہوں گی۔ سایہ دار درخت ہوں گے، ٹھنڈے مشروبات کی نہریں ہوں گی۔ اس پرو ان نے کہا کہ ہم لوگ تو ٹھنڈ اور سردی کو عذاب سے کم نہیں سمجھتے، آپ نے جنت کی جو تصویر کھینچی ہے، ہمارے لیے یہ ایک ٹھنڈی دوزخ (نعوذ باللہ) سے کم نہیں۔پھر جب باسط نے ایک مرد کے لیے متعدد حوروں کے متعلق بتایا، حوروں کے حسن کا تذکرہ کیا، انواع و اقسام کے کھانوں کس ذکر کیا تو وان نے کہا کہ جہاں تک میں مذہب کے متعلق جانتا ہوں ، اس میں تودنیا کی اس عیش و عشرت کو ناپسند کیا جاتا ہے، لیکن جنت میں یہی کام درست کیسے ہو گا؟ باسط اس سوال پر بہت پریشا ن ہوا۔
دراصل قرآن کی آیات کی دو اقسام ہیں۔ ایک محکم اور دوسری متشابہ ۔ جنت اور دوزخ کے متعلق زیادہ تر آیات متشابہ ہیں۔ میں نے جب اس کا ذکر باسط سے کیا کہ جنت و دوزخ کو ان کی متشابہ آیات میں بیان کیا گیا ہے تو وہ بولا ہاں، مجھے علم ہے کہ محکم آیات وہ ہیں جو واضح ہوں اور متشابہ وہ جو غیر واضح ہوں اور جن کا صحیح مفہوم سوائے اللہ اور اس کے رسول کے کوئی نہیں جانتا۔ اس پر ہم نے استغفار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا کلام اس سے پاک ہے کہ اس میں غیر واضح بات ہو، متشابہ کا مطلب ہر گز یہ نہیں بلکہ قرآن کے ایک محقق(امام حمیدالدین فراہی )کے مطابق یہ ہے کہ قرآن کی وہ سب آیتیں محکم ہیں جن پر اس کی ہدایت کا مدار ہے اور متشابہات میں ایک تو وہ آیتیں ہیں جن میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کی سزاؤں میں سے کسی نعمت یا سزا کا بیان تمثیل اور تشبیہ کے انداز میں ہوا ہے۔ میں نے اپنی بات کی تفہیم کے لیے ایک دوسرے صاحب علم کی کتاب کے حوالے سے اسے بتایا کہ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے صفات و افعال اور ہمارے علم اور مشاہدے سے ماورا (Beyond)اس کے کسی عالم(World )کی کوئی بات تمثیلی اسلوب میں بیان کی گئی ہے ، مثلاً آدم میں اللہ تعالیٰ کا اپنی روح پھونکنا یا سیدنا مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا کرنا یا جنت اور جہنم کے احوال و مقامات وغیرہ ۔ وہ سب چیزیں جن کے لیے ابھی الفاظ وجود میں نہ آئے ہوں، انھیں تمثیل اور تشبیہ کے اسلوب ہی میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ کسی نادیدہ جگہ یا چیز کے حقائق دنیا کی سب زبانوں کے ادب میں اسی طرح بیان کیے جاتے ہیں ۔مثلاًآج سے دو صدی پہلے ہم میں سے کوئی شخص اگر مستقبل کا علم پا کر بجلی کے بلبوں کا ذکر کرتا تو غالباً اسی طرح کرتا کہ دنیا میں ایسے چراغ جلیں گے جن میں نہ تیل ڈالا جائے گا اور نہ انھیں آگ دکھانے کی ضرورت ہو گی ۔اب اس میں ہم تیل کو بھی جانتے ہیں ، آگ کو بھی اور چراغ کو بھی ،لیکن دوسو برس پہلے کا شخص اس سے بلب کی حقیقت کاادنیٰ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ متشابہ آیات کی نوعیت بالکل یہی ہے ۔ وہ نہ غیرمتعین ہیں اور نہ ان کے مفہوم میں کوئی ابہام ہے ۔ان کے الفاظ عربی مبین ہی کے الفاظ ہیں اور ان کے معنی بھی ہم بغیر کسی تردد کے سمجھتے ہیں ۔ہاں ،یہ ضرور ہے کہ ان کی حقیقت ہم اس دنیا میں نہیں جان سکتے ۔ہم نہیں جان سکتے کہ قرآن میں بیان جنت میں ’’شہد کی نہروں ‘‘ یا ’’ حوروں ‘‘کی کیا حقیقت ہے لیکن اس جاننے یا نہ جاننے کا قرآن کے فہم سے چونکہ کوئی تعلق نہیں ہے ،اس لیے کسی صاحب ایمان کو اس کے درپے بھی نہیں ہونا چاہیے ۔( مفہوم ازمیزان ، جاوید احمد غامدی )
آئیے اس بات کو قرآن کی ایک مثال سے سمجھتے ہیں : سورۂ یوسف میں آیا ہے : ’’اس (حضرت یوسف ؑ ) نے کہا:ابا جان ،یہ ہے میرے اس خواب کی حقیقت جو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا ،میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا ہے )۔حضرت یوسف ؑ کا خواب جن لفظوں میں قرآن نے بیان کیا ہے ، (یعنی گیارہ ستارے اور سورج چاند ان کو سجدہ کرتے ہیں )اب اس خواب کے الفاظ کے معنی ہر شخص پر واضح ہیں ۔ عربی زبان کا ایک عام طالب علم بھی قرآن کی اس آیت کا مفہوم ، جس میں یہ خواب بیان ہوا ہے، بغیر کسی دقت کے سمجھ لیتا ہے ۔ لیکن سورج ،چاند اور ان گیارہ ستاروں کا اصل مطلب یعنی مصداق کیا تھا جنھیں یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو سجدہ کرتے دیکھا؟ اس سے پوری قطعیت کے ساتھ کوئی شخص اس وقت تک واقف نہیں ہو سکتا تھا جب تک یہ مصداق اپنی اصل صورت میں لوگوں کے سامنے نہ آ جاتا۔ متشابہ، قرآن نے ایسی ہی چیزوں کو کہا ہے ۔ہم باغوں ، پھلوں ، نہروں ،عورتوں ۔۔۔غرض ہم جنت کے حوالے سے بیان کی گئی تمام چیزوں کو جانتے ہیں لیکن ان کی اصل حقیقت کیا ہوگی، اس سے بالکل بھی واقف نہیں ۔
رہا مسٹر وان کا یہ تبصرہ کہ قرآن نے جنت کی ٹھنڈک اور جہنم کی تپش اور آگ کا جوتصور پیش کیا ہے اس میں ٹھنڈے علاقے کے رہنے والوں کے لیے کوئی کشش یاعبرت نہیں، ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہے ۔ وہ یہ کہ اصل میں قرآن نے جنت کا تصور اپنے مخاطبین اول کے تصور کے مطابق پیش کیا ہے۔ عرب چونکہ انتہائی گرم خطہ ہے، وہاں پر ٹھنڈی نہریں، یخ مشروبات اور اس قسم کی چیزیں ہی بہترین تصور کی جاتی تھیں۔ اس لیے قرآن نے ان کی رعایت کی ورنہ اگر وہ ناروے اور سیکنڈے نیوین ممالک کے لوگوں کو مد نظر رکھتا تو ارشاد ہوتا کہ جنت میں ہر جگہ ہیٹر کی گرم ہوائیں ہوں گی ۔ وہاں برفانی ٹھنڈک کا نام و نشان نہ ہو گا۔ ہر طرف گرما گرم مشروبات ہوں گے،جبکہ جہنم میں ہر طرف برف ہی برف اور ٹھٹھرتی ہوائیں چل رہی ہوں گی تو عرب اس کا اسی طرح مذاق اڑاتے جس طرح مسٹر وان نے ٹھنڈے باغات اور مشروبات کا مذاق اڑایا۔ اب ظاہر ہے ہر مصنف اپنے مخاطب اول کا لحاظ رکھتا ہے۔ چونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہو رہا تھا، اس لیے اس نے عربوں کی آب و ہوا اور انھی کے مزاج اور ذوق کا خیال رکھتے ہوئے جنت کی تصویر کھینچی۔ اصل میں تو جنت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسی اعلیٰ ترین اور نفیس ترین رہنے کی جگہ ہو گی جس کا کوئی سلیم الفطرت انسان تصور ہی کر سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے جنت کی زندگی کا بہترین نقشہ ایک آیت میں یوں بیان کیا ہے:
’’تو اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے تو ان کے لیے نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا(خوف) ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ (حذن ) ہوگا‘‘ (البقرۃ۳۹)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دنیا کی زندگی کی بہترین تصویر کھینچ دی ہے بلکہ جنت کی زندگی کا اصل حسن بھی نمایاں کر دیا ہے ۔ اگر دنیا کی اس زندگی کا بغور مطالعہ کیا جائے کہ وہ کیا ہے ؟ وہ اس کے سو اکچھ نہیں کہ ہم اپنی غلطیوں ،غفلتوں اور کوتاہیوں کی سزا اور نتائج سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں ، بدنصیبیوں ،حادثوں اور مواقع کے کھو دینے پر ماتم کرتے رہتے ہیں ، کاش یہ نہ ہوتا ، کاش وہ نہ ہوتا کا رونا روتے رہتے ہیں ، دوسرے لفظوں میں اپنے ماضی کو کوستے رہتے ہیں ، اس پر پچھتاتے رہتے ہیں ۔پھر اگر ہمیں کوئی کامیابی مل جاتی ہے ، دولت حاصل ہوجاتی ہے ، صحت کی نعمت میسر آجاتی ہے،بہترین مواقع مل جاتے ہیں ، تو پھر اس اندیشے میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں یہ چھن نہ جائے۔لیکن اس دینا کی ہر نعمت ، وہ جوانی ہو یا صحت ، مال ہو یا اقتدار، وہ چھن کر رہتی تھی ، حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے ،چنانچہ اللہ کے نیک بندے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ، ان نعمتوں سے ، ان عنایات سے ہاتھ اٹھا نہ لینا اور اس سے بے پروا لوگ اپنا مستقبل بہتر کرنے اور آنے والے برے حالات کے خدشات کی وجہ سے ہر جائزو ناجائز کی تمیز اٹھا کر زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں انسان ہر دم مستقبل کے اندیشے میں مبتلا رہتا ہے ۔ بس یہی ہے جنت کی نعمتوں کی حقیقت ! ہماری ان ساری کیفیات کو قرآن نے انتہائی بلاغت سے دو لفظوں میں بیان کردیا ہے ، وہ ہے’’ خوف ‘‘ اور ’’ حزن ‘‘ ۔یہ خوف و حزن اردو کے نہیں ، بلکہ عربی کے الفاظ ہیں جن کا ترجمہ ا ستاد محترم جناب جاوید احمد غامدی نے کیا خوب کیا ہے: ماضی کا پچھتاوا اورمستقبل کا اندیشہ۔ چنانچہ قرآن نے جنت کی حقیقت کے لیے یہی بیان کیا کہ وہاں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہو گی۔ میرا چیلنج ہے کہ آپ کسی آئیڈیل زندگی کی تعبیر کے لیے اس سے زیادہ مناسب الفاظ اور اسلوب کا تصور نہیں کر سکتے ! اب رہ گیا دوسری نعمتوں کا ذکر تو وہ متشابہات ہیں ۔ وہ یقیناً اس سے بدرجہا بہتر اور مختلف صورت میں ہوں گی جن کا ہم اس دنیا میں نظارا کرتے ہیں ۔ لیکن کیونکہ ہم اسی دنیا کی نعمتیں دیکھتے اور برتتے ہیں اس لیے قرآن نے انھی کا ہمیں حوالہ دیا ، لیکن یہ محض تمثیلیں (Exemples )ہیں، تشبیہیں ہیں ، ان کی اصل حقیقت ہماری سوچ اور فہم سے اسی طرح ماورا ہے جس طرح ایک اردو دان کے لیے فرنچ اور جرمن زبان ، جس طرح ایک انجینئر کے لیے دل گردوں کی ساخت کا فہم ، جس طرح ساتویں صدی عیسوی کے شخص کے لیے کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کا تصور !ان حقائق کی روشنی میں آپ قرآن کے تصور بہشت و جہنم کا مطالعہ کریں گے تو کسی وان اور شان کو مذاق اڑانے کا موقع نہیں ملے گا بلکہ وہ قرآن کے معجزاتی بیان و کلام کا معترف ہو جائے گا! اس لیے حور ، جنس، کھانے پینے کی اصل حیثیت کیا ہوگی ، اس کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اسی طرح ہمارے لیے ناقابل تخیل ہے جس طرح موہنجوڈرو کے شخص کے آج کی جدید معاشرت کا تصور !
(جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *