محاورے

ali raza ahmed

شایدمحاوروں کا سالانہ اجتماع شروع ہو چکا ہے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال رونق کم نظر آ رہی ہے کیونکہ کچھ محاورے چل بسے ہیں جیسے ’’ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ‘‘ اب تو یہ پیسہ کاسکہ بھی کہیں جا بسا ہے ۔ کچھ محاورے ایک جگہ اکٹھے پائے گئے ہیں مگران میں سے کچھ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے کچھ کمزور واقع ہونے کی وجہ سے مار کھا گئے جنہیں موقع پردھر لیا گیا ان میں کچھ کی شناخت پریڈ کی گئی جو حاضر خدمت ہے۔
مار کھانا:
اس مرادد جوتوں اور ہاتھوں کا آزادانہ استعمال نہیں بلکہ کئی دفعہ انسان اختیار ،دولت اور مرتبے کے باوجود بھی مار کھا جاتا ہے اور کئی دفعہ شکل عقل اورنقل کے باعث بھی ۔ پرویز مشرف کے ساتھ بھی کچھ نیا نہیں ہوا ۔بے چارے اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مار کھا گئے حالانکہ انہوں نے آئندہ2020کا صدارتی حلف ایک ہاتھ سے اٹھانے کا پلاؤ پکا رکھا تھا ۔انہوں نے کئی پراجیکٹ کا مشینی ’’ افتتاح‘‘ کیا اور ریفرنڈم میں 98فی ’’ہاں‘‘ حاصل کی تھی۔ویسے ان کے پاس کوئی گیدڑ سینگھی ضرور تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ شیر دکھائی دیے۔دیکھا گیا ہے لڑائی میں انسان ادھر ادھر بھاگ کر ایک دو مکے بچا ہی لیتا ہے اور اگر بھاگ میں نہ لکھا ہو تو مار کھا ہی جاتاہے جسے دل سے نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دل سے نکالنا :
بھول جانے کو کہتے ہیں لیکن بیماری کا خیال دل سے نکالنے کبھی فائدہ نہیں ہوتا جب تک اس کا علاج نہ کروایا جائے۔ آپ حیران ہونگے کہ ہومیو پیتھک میں ایسی ادویات بھی ہیں جو کسی بیماری کا خیال بھی دل سے نکال سکتی ہیں بلکہ ایک ہومیو ڈاکٹر کا دعوی ہے کہ اس کے پاس خاندانی دشمنی کو دل سے نکالنے کی دواء بھی موجود ہے اور رات کو دراؤنے خواب سے نجات کی بھی۔اسی ڈاکٹر نے وقار مجروح کو بائی پاس اپریشن یا ’’ سٹنٹ‘‘ ڈلوانے کا خیال’’ دل سے نکالنے‘‘ کا عندیہ دیا ہے کیونکہ ہارٹ سرجن کے سامنے سینہ زوری نہیں چلتی ورنہ گڑبڑ کا خدشہ ہوتا ہے۔
گڑبڑ:
شک و شبے اور خرابی کو کہتے ہیں کئی لوگ ایسے ذہن کے مالک ہیں کہ انہیں ہر وقت کوئی نہ کوئی شبہ لگا رہتا ہے یعنی ان کا شعبہ ہی کسی نہ کسی شبے گرفتار رہنا ہے ۔گڑبڑ کوئی ایسی شئے نہیں جو نظربھی آئے لیکن وقار مجروح کو ہر جگہ کوئی نہ کوئی نظر آ ہی جاتی ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس گڑبڑ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا اور ہر ناکامی کے پیچھے قانون کا ہاتھ ہوتا ہے اگر اسے ہاتھ میں لے لیا جائے تو!!!جی ہاں یہ ہاتھ کسی کی گردن دبدوچ لے توپھر قانون کامیاب دکھائی دیتا ہے ۔قانون کو اگر کسی جگہ گڑبڑ نظر آئے تو دھاوا بول کر گڑبڑ،بڑبڑاور کھڑکھڑ کرنے والوں کوموقع پر جکڑ لیا جاتا ہے جس کے لئے پھر قانون کے تلوے چاٹنا پڑتے ہیں۔
تلوے چاٹنا:
یہ بھلے چاپلوسی کے معنوں میں ہی آتا ہے لیکن چاپلوس کا ویسے بھی سر پیر نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے اعضاء میں تمیز نہیں کرتا ۔یہ ایک بڑا اخلاقی جرم ہے اس لئے قانون نے اس کو بالکل دفع کیا ہوا ہے اور اس بارے میں اپنی کوئی ’’دفعہ‘‘ بھی مرتب نہیں کی ہے۔چاپلوسوں کے بقول چاپلوسی کانقصان اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک’’ معصوم‘‘ اسے ہضم نہ کر لے ویسے چاپلوسی ہوتی زود ہضم ہے اور پھر نتیجہ علامہ اقبال کی نظم مکڑا اور مکھی کی صورت میں نکلتا ہے لیکن اگر کسی سے مقدر ہی چاپلوسی کر جائے تو سب سے بڑی بدقسمتی ہوتی ہے اور بعد میں وہ اپنی رونی صورت لئے پھرتا ہے۔
رونی صورت:
ہر چالاک بیوی اپنے خاوند کو اسی صورت میں دیکھنا پسند کرتی ہے اس کے منہ مسکراہٹ اسی صورت آ سکتی ہے جب خاوند رونی صورت لے کر پاس آئے۔کئی دفعہ بیوی کے منہ پر مسکراہٹ کے آثار ہی سے اس کی اپنی صورت رونی صورت میں بدل جاتی ہے ۔اگر اس کا عملی صورت میں مظاہرہ دیکھنا ہو تویہ اس وقت مناسب ہوتا ہے جب خاوند بیوی کو ضروت سے زیادہ شاپنگ کروا رہا ہواور شاپر بیگ کے بوجھ تلے دبا بھی ہو۔ان جوڑوں میں کچھ ایسے پیس بھی آ جاتے ہیں جو پیدا ہوتے ہی روتے ہیں اور اسے ہمیشہ چہرے میں سجائے رکھتے ہیں بلکہ یہ سمجھ لیں کہ انہیں اپنی رونی صورت سے بھی دل لگی ہو جاتی ہے۔مجھے اپنے ان مسلمان ملکوں پر بہت افسوس ہوتا ہے جنہوں نے وسائل ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پاؤں پر کھڑا نہیں کیا اور آج ان ملکوں کی رونی صورت سب کے سامنے عیاں ہے؂
ایک وہ ہیں کہ جہنیں تصویر بنا آتی ہے ایک ہم ہیں کہ لیا صورت کو اپنی بگاڑ
دل لگی:
وقار مجروح کی یہ بات دل کو لگی تھی کہ کئی تیسرے درجے کے جعلی مریضوں کا ہسپتال میں بھی دل لگ جاتا ہے حالانکہ وہاں پر دل لگی کے لئے دل بھی بڑا چاہئے ہوتا ہے ورنہ ہسپتال کے خرچوں سے دل ڈوبنے کا بہت خدشہ زیادہ ہوتاہے بالآخرکسی مشین کے ذریعے تسلی دینا پڑتی ہے اور وہ دل کے ہسپتال میں ہی دستیاب ہوتی ہے ۔دل لگی کو اکثر اچھا سمجھا نہیں جاتا اور وہ بھی دل وارڈ کے ساتھ...ادھر شریانوں میں خون کی رکاوٹ ادھر ہاتھ سے دولت کا بہاؤ تیز ہونے کی خبریں شروع ہو جاتی ہیں...
رکاوٹ بننا:
بارہ سینگھے کا واقع سنا ہو گا جس میں وہ پانی میں اپنی خوبصورت سینگھ دیکھتا ہے لیکن ساتھ ہی اپنی بدصورت ٹانگوں پر تحفظات کا اظہار کر دیتا ہے لیکن پھر وہی سینگھ جنگل میں اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کئی محکموں میں ملازمین کی سینئرٹی بھی آڑھے آ جاتی ہے اور پھر مجبورامیدان چھوڑنا پڑتا ہے اور کئی دفعہ کام میں مہارت رکاوٹ بن کر چھٹی سے روک دیتی ہے ۔ خوش شکل کام والی کے ساتھ بھی کچھ ایسی بد قسمتی ہاتھ پاؤں بندھے کھڑی رہتی ہے بہر حال اپنے حسن یا خوبی پر زیادہ فخر باعث زوال و پریشانی بن جاتا ہے اور دوسروں کو آپ میں نظر آنے والے منفی معاملات آپ کی خوش قسمتی کے باعث بن جاتے ہیں۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *