جیل مینوئل میں فوری تبدیلی کی ضرورت

ہمارے ملک کی جیلوں میں تحفظ کا نظام مکمل طور پر اپنے’’ پایۂ تکمیل‘‘ تک پہنچ چکا ہے اور اگر بنوں جیل کے واقعے سے کسی کو کوئی شک تھا تو وہ ڈی آئی خان جیل پر حملے کے بعد رفو ہو چکا ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان واقعات سے کچھ حتمی نتائج نکال لیے جائیں۔ سب سے پہلے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ جیلوں میں امتیاز پیدا کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ہر صوبے میں اہلِ تشیع قیدیوں کے لیے الگ جیلیں ہونی چاہیں تاکہ ، جیسا کہ ڈی آئی خان میں ہوا، جب اگلی مرتبہ طالبان کسی جیل پر حملہ کریں تو شیعہ قیدی ذبع ہونے سے محفوظ رہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک مسلۂ پھر بھی موجود رہے کہ یہ جیلیں کہاں واقع ہوں تا کہ طالبان کی دراز دستی سے محفوظ رہ سکیں؟ اگر جی ایچ کیو، مہران نیول بیس اور کامرہ ائیر بیس جیسی جگہیں محفوظ نہیں ہیں تو پھر شیعہ جیلوں کو فول پروف سیکورٹی کیسے فراہم کی جا سکتی ہے؟تاہم کچھ نہ کرنے سے کچھ کوشش کر کے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
ویسے آپس کی بات ہے ، جی ایچ کیو اور مہران بیس پر حملے سیکورٹی کی مکمل ناکامی کا شاخسانہ تھے لیکن کامرہ پر حملے کی’’ ناکام کوشش‘‘ کو ہمارے دفاعی تجزیہ کاروں نے شاندار کامیابی سے تعبیر کیا کیونکہ دھشت گرد تین اواکس طیاروں میں صرف ایک کوئی تباہ کر نے میں کامیاب ہوئے... اس طیارے کی قیمت 250 ملین ڈالرتھی۔ تاہم اگر موجودہ حکومت بجلی پیدا کرنے والی ایک نجی کمپنی کو پانچ سو بلین روپے بغیرکوئی سوال کیے، خاموشی سے دے سکتی ہے تو پھر اواکس طیارہ کی قیمت تو’’ دوستوں‘‘کے درمیان ہاتھ کا میل ہے۔
میرا خیال ہے کہ ایسی جیلیں جہاں اہلِ تشیع قیدیوں کو تحفظ حاصل ہو سکے، کہوٹہ ایٹمی لیبارٹریز، دسویں کارپس ہیڈکواٹرز چکلالہ اور شاید سپریم کورٹ کے عقب میں قائم کی جا سکتی ہیں۔ کراچی اب اس تجربے کے لیے ’’نو گو ایریا‘‘ ہے ، اور یہی صورتِ حال بلوچستان میں بھی ہے۔ جس طرح کوئٹہ ( جو کبھی بہت ہی پرسکون شہر تھا) میں شیعہ برادری پر حملے ہوتے ہیں ، کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتاہے کہ وہاں شیع جیل قائم کرنا ایسے ہی ہے جیسے Auschwitz (پولینڈ میں قائم جرمنی کا عقوبت خانہ جہاں ایک اندازے کے مطابق تیس لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا گیا) میں یہودیوں کے لیے پناہ گاہ تعمیر کرنا۔
اس معاملے میں ایک مسلۂ تو سیکورٹی کا ہے، تاہم دوستوں کی سہولت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگلی مرتبہ جب کوئی جیل طالبان کے حملے کی زد میں آئے تو اُنہیں جیل بھر کا دورہ کرکے شیعہ قیدیوں کی شناخت کی مشقت نہ اُٹھانی پڑے۔ اس طرح کسی کو مذہب کے نام پر بھی قتل کی ضرورت نہیں رہے گی تاکہ کوئی ہمارے عقیدے کو وحشیانہ قرار نہ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ ، ہمیں ایسے واقعات پر ضمیر پر بوجھ برداشت کرنے یا ندامت سے سرجھکانے کی ضرورت نہ ہو۔ کیا ہمارے مذہبی رہنماؤں ، جن کی وجہ سے ہماری سرزمین انتہا پسندانہ نظریات کی آماجگاہ بن چکی ہے، نے دیکھا ہے کہ ڈی آئی خان جیل میں شیع قیدیوں کو کس طرح شناخت کرنے کے بعد قتل کیا گیا؟ کیا اُنھوں نے اس پر کوئی فتوی دیا ؟کسی نے کوئی ریلی نکالی؟ہر گز نہیں، بات یہ ہے کہ کچھ معاملات میں ہم بہت شورو غل کرتے ہیں جبکہ کچھ میں ہمیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ صدارتی الیکشن کا شیڈول تبدیل کیا جا سکتا ہے کیونکہ، اب ہو سکتا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں میں رہنے والے افراد کو یہ بات ناقابلِ یقین لگے، وزیرِ اعظم اور اُن کے اہلِ خانہ نے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مقدس سرزمین کی طرف عازمِ سفر ہونا تھا۔ ایسے معاملات میں ہم یدِ طولیٰ رکھتے ہیں لیکن دیگر مسائل کے حوالے سے تو بات کرنے کے ہمیں درست الفاظ ہی نہیں ملتے ، جبکہ مشہور انگریز ی شاعر Yeats کے الفاظ میں حالات یہ ہیں ...’’بہتی ہے موجِ خوں کسی سیلاب کی طرح،ہر سمت گویا ایک قیامت بپا ہے آج‘‘...یعنی بربادی اور موت کے عفریت نے شہریوں کی رگِ جاں میں پنجے گاڑ لیے ہیں۔
جب امریکہ نے القاعدہ کا کوئی پیغام پکڑا تو اس نے حملوں کے پیشِ نظر افریقہ بھر میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے۔ اسکے ساتھ ہی ہماری وزارتِ داخلہ بھی جاگی اور مارگلہ پہاڑیوں پر سیکورٹی دستے تعینات کر دیے۔ کسی بیرونی تحریک کے بغیر سوچنے کی زحمت ہمارے خمیر میں ہی شامل نہیں۔ آخری مرتبہ جب میں ایڈمنسٹریٹر سٹاف کالج میں گفتگو کے لیے مدعو تھا تو وہاں وزیرِ اعظم کے سیکرٹیریٹ سے بھی کوئی صاحب آئے ہوئے تھے۔ دورانِ گفتگو، اُن سے حکومت کی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کے بارے میں پوچھاگیا تو اُس نے لکھے ہوئے نوٹسز سے صدر اوباما کا کوئی بیان پڑھ دیا اور پھر اُس نے دومرتبہ وضاحت کی ابھی ہم نے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ ہمارا دشمن کون ہے؟ بہت خوب، اگرایوانِ وزیرِ اعظم میں قومی سلامتی کے حوالے سے عقل و دانش کے یہی گوہر بانٹے جاتے ہیں تو پھر ہمیں خوش فہمی کی دبیز چادر اُڑھ کر اطمینان سے سوجانا چاہیے کہ سب خیر ہے۔
اب ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک طرف دفاعی ادارے ہیں تو دوسری طرف گزشتہ انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والے قائدین، نواز شریف اور عمران خان، ہیں ۔ دشمن واضح طور پر سامنے ہے اور جیلیں توڑ کر اپنے قیدی لے جارہا ہے اور ابھی انھوں نے دشمن کا تعین کرنا ہے۔یہ ہیں ہمارے صاحبِ بصیرت لیڈر جن کو پہاڑ تو نظر نہیں آتے لیکن اُنھوں نے بل کھاتی ہوئی پیچیدہ راہوں میں ہماری رہنمائی کرنی ہے۔ نہر سویز کے اس پار آئی ایس پی آر سے زیادہ برق رفتار کوئی چیز نہیں ہے ، خاص طور پر جب فوج کی شان میں کوئی گستاخی کا ارتکاب کر بیٹھے، لیکن حیرت ہے کہ ڈی آئی خان جیل پر حملے پر تاسف اور ندامت تو کجا، وضاحت میں بھی ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔ خدا کی پناہ!یہ جیل چھاؤنی کے نزدیک ہے اور دفاعی اور سولین ادارے ، سب جانتے تھے کہ طالبان کے حملے کا خطرہ ہے۔ اور پھر یہ کوئی گھات لگا کر حملہ کرنے کی کاروائی نہیں تھی کہ چالاک دشمن نے موقع پر حملہ کیا اور بھاگ گیا۔ طالبان نے جیل میں نہایت دل جمعی سے کافی دیر تک کاروائی کی... جیل کے دروازے کھولے، اپنے ساتھیوں کورہاکرایا اور نعرہِ تکبیر بلند کرتے ہوئے شیعہ قیدیوں کو ذبع کیا۔ کیا کوئی سوال کرنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ اس دوران دفاعی ادارے کہاں تھے؟
ذرا یاد کریں کہ ایبٹ آباد میں ہونے والی کاروائی پر ہمیں اس بات پر خفت نہیں تھی کہ اُسامہ بن لادن اس حساس شہر میں روپوش تھا اور ہمیں علم ہی نہیں تھا، بلکہ ہمیں تاؤ اس بات پر آیا کہ امریکیوں نے چپکے سے حملہ کیا اور اُسے ہلاک کر کے چلے گئے اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ یعنی بن لادن کی آمد کی بجائے امریکی کمانڈوز کی دراندازی نے ہماری عزتِ نفس پر چرکالگایا ۔ امریکی ایبٹ آباد میں صرف چالیس منٹ تک رہے اور پھر افغانستان چلے گئے ۔ اس مکارانہ حملے پر ہرکوئی چکرا کر رہ گیا ، لیکن ڈی آئی خان میں صورتِ حال ایسی نہ تھی۔ اگر ہمارے دفاعی ادارے یہی کچھ کر سکتے ہیں جو جیل پر حملے کے موقع پرکیا تو پھر سمجھ لیں کہ ہم سوچ سے کہیں زیادہ خطرات میں گھرے ہوئے ہیں ۔
بات یہ ہے کہ طالبان تو اپنے مقصد کے لیے یک سو اور پر عزم ہیں اور ان کی صفوں میں مکمل اتفاق اور اتحاد پایا جاتا ہے لیکن ہم سراسیمگی، منتشر خیالی اور فکری کج روی کا شکار ہیں۔ ابھی تو ہم دشمن کو ہی نہیں پہچان پائے ہیں تو کیسا عمل ، کہاں کی کاروائی؟وہ افراد جنہیں قدم آگے بڑھاتے ہوئے قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے، کچھ دیگر بے کار کاموں میں الجھے ہوئے ہیں۔ دہری شہریت، جس کی وجہ سے ہمارے ہاں بہت ہاہاکار مچی ہوئی ہے، کے حامل افراد وہ نہیں ہیں جن کے پاس دہرے پاسپورٹس ہیں بلکہ وہ ہیں جن کے پاؤں یہاں لیکن دل، خاندان، بنک اکاؤنٹس اور کاروبار دیگر ممالک میں ہیں۔ معمول کے حالات میں ایسی باتیں بے معنی ہوتی ہیں لیکن جب ایک قوم زندگی اور موت کی کشمکش میں سے گزررہی ہو تو پھر یہ دیکھنا پڑتاہے کہ اس کے رہنما کون ہیں اور کہاں ہیں؟ابیٹ آباد سے تو شرمندگی کی گرد اُڑی تھی، اصل سنگ باری تو جیلیں ٹوٹنے سے ہوئی ہے۔ یہ ہمیں جگانے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ ہم اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیارہوجائیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *