فرشتے نما انسان

جاوید صدیقی
javed-siddiqui
آج سے تقریباً پچاس سال پہلے جب میں بچہ تھا اور مدرسہ میں ناظرہ پڑھنے جاتا تھا اُس زمانے میں مولوی صاحب ہمیں سب بچوں کو ناظرہ کیساتھ ساتھ دین کے اراکین کے علاوہ معاشرے کے اسلامی اصول، ادب و احترام اور حقوق العباد کی تعلیم بھی دیا کرتے تھے جس سے ہم سب بچے نہ صرف قرآن کی تعلیم سے بہرہ مند ہوتے تھے بلکہ ایک اچھا شہری بننے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے تھے، اُس زمانے میں بھی مسالک کا سلسلہ تھا لیکن کوئی بھی مسلک دوسرے مسلک پر تنقید نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے مسلک کے چیدہ چیدہ اصول سے آگاہ کرتا تھا یہی وجہ ہے کہ اُس دور میں لوگ ایک مسجد، ایک صف میں کھڑے ہوکر اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے اور حقوق العباد کا بے حد خیال رکھتے تھے، اُس زمانے میں آس پڑوس میں رہنے والوں کو گھرانے کا حصہ سمجھتے تھے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں معاونت کرتے تھے، بغیر لالچ، بغیر مطلب، بغیر خواہشات ایک دوسرے کی مدد کو ڈورے چلے آتے تھے ان سب کا ایک ہی مقصد اور مطلب ہوتا تھا وہ تھا رضائے الٰہی، یعنی چھوٹی سی چھوٹی نیکی بھی ہاتھ سے نہ جائے، کاروبار میں سچائی، دیانتداری، ایمانداری اور مناسب منافع ہی ان کا مقصد ہوا کرتا تھا کیونکہ زائد منافع کو سمجھتے تھے کہ وہ دھوکہ اور جھوٹ کے زمرے میں آجائیگا جس سے اللہاور اس کے حبیب ﷺ ناراض ہوسکتے ہیں، بڑے ایمان والے لوگ ہوا کرتے تھے، یہ وہی لوگ تھے جو قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور دیگر تحریک پاکستان کے مشن میں قدم بہ قدم ساتھ رہے جنھوں نے مدینۃ المنورہ کے بعد دنیا میں دوسری خالصتاً اسلامی ریاست کا قیام کیا، ان کی انتھک محنت اور سچائی سے پاکستان تیزی سے کامیابی و کامرانی کی جانب رواں دواں تھا، کارخانے ہوں یا فیکٹریز سب کی سب شب و روز پروڈکشن تیار کرنے میں مصروف رہتی تھیں، دن رات پاکستان کے بازار بلخصوص کراچی کے بازار کھلے رہتے تھے، کراچی بندرگاہ اور ایئرپورٹ سے تجارت کا سلسلہ متواتر جاری و ساری رہتا تھا بے انتہا روزگار تھا، سستائی اور سادہ کا زمانہ تھا، حرص و متاع کو برا سمجھتے تھے اُس زمانے کے لوگ ، لٹھا یا کارٹن کا لباس عام استعمال میں تھا، خیرات و صدقات کو خالصتاً اللہ کی راہ میں اس طرح خرچ کرتے تھے جس طرح خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، وہ جانتے تھے کہ ریاکاری سے تمام نیکیاں زائل ہوجاتی ہیں اس لیئے وہ اپنی نیکیوں کی حفاظت بہت احتیاط سے کیا کرتے تھے ان کے طریقے میں خاموشی اور پردہ پوشی کا عمل بہت زیادہ پایا جاتا تھا،مدارس ہوں یا تعلیم گاہیں تمام کی تمام اپنی فرائض منصبی سے اچھی طرح آگاہ تھیں اور اپنے فرائض کو اس طرح ادا کرتے تھے کہ گویا اللہ سامنے موجود ہو بیشک اللہ تمام ظاہر و باطن سے آگاہ ہے، اُس زمانے کے لوگوں کا وطیرہ تھا کہ وہ نیکیوں کی تلاش میں رہتے تھے اور نیکی کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی فکر میں رہتے تھے اللہ سے انتہائی خوف رکھتے تھے اور نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت اپنے اچھے اعمال سے کیا کرتے تھے، وہ ایسے پاکستانی تھے جن کے اعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان سب سے زیادہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا،پاکستانی شہری کو پاکستانی ہونے پر بہت فخر ہوتا تھا، میرے والد سردار حسین صدیقی حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولادوں سے تھے جبکہ والد محترم بدایوں کے موضع بازید پور  میں پیدا ہوئے،دادا علی حسین صدیقی اور پردادا سلیم اللہ صدیقی ایک بہت برے زمیندار تھے ، میرے والد محترم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن پاس کی اور میرا ننہال مظفر نگر کے سادات گھرانے سے تھا، والدہ محترمہ حضرت زین العابدین کی اولادوں میں سے تھیں زیدی اور مسلک کے لحاظ سے اہل تشیع تھیں ، اُس زمانے میں مسلک کی جنگیں نہیں ہوتی تھیں ایک دوسرے مسلک کا احترام کیا جاتا تھا ، ایک دوسرے مسلک میں شادہ بیاہ کیا جاتا تھا، میرے پرنانا نے میرے پر نانی کیلئے ایک محل تیار کیا تھا جسے موتی محل کہتے ہیں جو آج بھی بھارت میں موجود ہے، الحمد للہ ددہیال اور ننہیال دونوں صاحب دولت تھے اور صاحب ایمان بھی کیونکہ اُس زمانے میں دولت خالصتاً ایمانداری سے کمائی جاتی تھی اسی لیئے اُس وقت کے دولت مند وں میں ایمان کی دولت بھی بے انتہا تھی۔۔۔!! پاکستان بنانے والے اور اس تحریک کے بلواسطہ و بلاوسطہ تعلق رکھنے والے فرشتے نما انسان تھے کیونکہ ان میں انسانی اقدار کی تمام خواص موجود تھیں ، مہذب، با ادب، تہذیب یافتہ و تعلیم یافتہ، با اخلاق، خوش گفتاراور ملنسار انسان تھے۔۔۔۔!! لیکن پھر۔۔۔۔ ایسے فرشتہ صفت لوگوں کے انتقال کے بعد نیک لوگوں کی کمی کا احساس بیدار ہونے لگا کیونکہ پاکستان کے ہر شعبہ میں بد کرداروں، بد اخلاقوں،بد تمیزوں، بے حیااور بے شرموں کے گروہ در گروہ نے اپنے پنجے جمالیئے کہیں زور جبر تو کہیں خون خرابے سے اپنا ڈر و خوف بٹھالیا، نا جائز دولت کے ذریعے اداروں کو خریدنا شروع کردیا، معاشرے میں برائی کو ہوا دی گئی، عریانیت، وحشت،ظلم و زیادتی کو پروان چڑھایا، سیاست کو ایک بھیانک شکل دیدی گئی، ایوانوں میں غیر خاندانی لوگ شامل ہونے لگے، اس قوم کا مستقبل ایسے لوگوں کے ہاتھوں چلا گیا جنہیں نہ انسانی اقدار اور نہ مذہب کی پاسداری کا احساس ہے ،وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نشے میں دھت، عیاش، بدکردار اس ملک کے سربراہ بنتے چلے گئے، لوٹ مار، جھوٹ، دھوکہ، مکارپن ان کی سیاست کا حسن ثابت ہواہے، قتل و غارت گری ان کا شیوہ بن چکا ہے  اس کی اصل وجہ کیا ہے آج تک کوئی بھی میڈیا پرسن اس کی وضاحت کرتے نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔!! !
فرشتے نما انسان پاکستان سے کیونکر غائب ہوگئے اس کی سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ عدل و انصاف کی کمی ہے دوسرے نمبر پر تفتیش کا غلط طریقہ کار بھی ہے، اگر جزا و سزا کا عمل صحیح طور پر نافذ کردیا جائے تو شیطان نما انسان بھی فرشتے نما انسان بن سکتے ہیں کیونکہ دین محمدی میں سزا و جزا کا عمل اس لیئے رکھا کہ دین اسلام درحقیقت فطرت انسانی بنا ہوا ہے اللہ جانتا ہے کہ انسان کا رخ کس طرح درست کیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام مین چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا لازم ہے، زنا کی سزا سنگسار قرار دی گئی ہے اگر اسلامی سزا و جزا کو ہی رائج کردیا جائے تو برائیاں یکدم ختم ہوجائینگی گویا کسی لوہے پر زنگ لگ جائے تو گندک کا تیزاب جس طرح عمل کرتا ہے اسی طرح مسلم معاشرے کیلئے اسلامی سزا معاشرہ کو شفاف بناتی ہیںلیکن اس کیلئے سب سے پہلے ایسے لوگ منتخب کیئے جائیں جو خود پرہیز گار،دیندار، متقی اور با عمل ہوں لیکن کیا ہمارے منتخب ممبرانوں کے کردار شفاف ہیں ۔۔۔؟؟؟ یقیناً ہرگز نہیں! بدکردار سے بھی بد تر! کیا ہمارے اداروں کے سربراہ اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے ادا کرتے ہیں یقیناً ہرگز نہیں بلکہ حکمرانوں کی دلالی کرتے تھکتے نہیں! کیا ہمارے تھانوں میں تفتیش سچائی اور حقیقی بنیادون پر کی جاتی ہے یقیناً ہرگز نہیں بلکہ رشوت اور بلیک میلنگ کے ذریعے کمزور افراد کو لوٹا جاتا ہے اور انہیں بلا قصور کیس میں پھنسا دیا جاتا ہے تو پھر کس طرح پاکستان ترقی کرسکتا ہے ، پھر کس طرح پاکستان غداروں اور عیاروں سے محفوظ رہ سکتا ہے اس میں سب سے زیادہ قصور کس کا ہےیقیناً ہماری افواج پاکستان اور اسٹبلشمنٹ کا آخر کیوں ۔۔۔؟؟؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ افواج پاکستان دعویٰ کرتی ہے کہ اس میں ڈسپلین ہے، منظم انداز میں رہتے ہیں ،قانون کی پاسداری کی جاتی ہے، آئین کے مطابق عمل کیا جاتا ہے تو کیا پاک فوج پاکستان کی نہیں۔۔۔؟؟؟
پاکستان کی بقا و سلامتی کیلئے سول انتظامیہ کی خامیوں کو کیوں نہیں ختم کیا گیا کئی بار جنرلوں نے اقتدار کی کرسی سنبھالی کیوں نہیں اپنے دور اقتدار اور اختیارات میں پاکستان کے ہر شعبے کی اصلاح کی گئی۔۔۔؟؟؟؟ عوام کا کہنا ہے کہ ہر طرف افراتفری ہے کہیں بھی قانون نظر نہیں آتا ، سیشن کورٹ ہو یا سٹی کورٹ یا پھر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا کرادار کیوں نہیں مثبت رہتا ہے ، کیوں عدالتی فیصلے مدتوں سے پڑے رہتے ہیں ، کیوں بے قصور اپنی تمام زندگی نا کردہ گناہ کی سزا بھگتے ہیں۔۔۔ ؟؟؟ فرانس ، جرمنی اور دیگر غیر مسلم ممالک نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کے زمانے کا قانون نافذ کیا ہوا ہے ،افسوس صد افسوس ہمارے پاس دنیا و کائنات کا سب سے اعلیٰ ترین نظام ہے مگر ہم اپنی خواہشات، تمنا کی ناجائز تکمیل کیلئے اسلامی نظام کو مروج نہیں کرتے کیونکہ اس سے تمام ایوان میں بیٹھے لوگ پھنس جائیں گے بلکہ قید و سزا کے مرتکب ہونگے کیونکہ ان کے کردار ہی مشکوک ہیں یقینا ً یہ بدکرداری سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے اسی لیئے یہ پاکستانی عوام کو بھی شیطان نما انسان بنائے رکھنا چاہتے ہیں ،اب دیکھنا ہے کہ فرشتے نما انسانوں کا پاکستان کون بنائے گا اس کیلئے نہ تو پی پی پی ، پی ایم ایل این، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، جے آئی،اے این پی، جے یو آئی گویا کوئی ایک ایسی سیاسی جماعت نہیں جس میں با کردار ، با عمل شخصیت ہو جسے ہم کہ سکیں کہ یہ فرشتے نما انسان ہے جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔سابق جنرلوں میں بھی ایسے شخصیت نظر نہیں آتی اب تو صرف عوام کو ہی اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ،اپنے اعمال کو دین الٰہی کے تحت ڈھال کر اللہ سے رجوع کرکے ولی صفت سربراہ کی التجا کرنی ہوگی،اللہ سے ایسے سربراہ کی التجا کرنی چاہیئے جیسے نورالدین زنگی، خالد بن ولید یا سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے باکردار ولی صفت سربراہ ہوں ، تک کہیں جاکر ہم کہ سکیں گے کہ اب فرشتے نما انسان پاکستان مین بستے ہیں اور حقیقی معنوں میں پاکستان کے خواب کی تعبیر اب ہوئی ہے بصورت پاکستان آج کل کے ناپید نظام کی وجہ سے تباہی کی جانب بڑھتا رہے گا، ہمارے درمیقان معاشرتی و اخلاقی برائیوں کا خاتمہ فی الفور کرنا لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔!! !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *