برصغیر میں بیٹی پیدا کرنے کا بوجھ

رائیہ سہیل ہاشمی

raiya-sohail-hashmi

"میری تین بہنیں اور میں آج تک غیر شادی شدہ ہیں کیوں کہ ہمارے والد کے پاس ہمیں جہیز میں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ "

"میرے پاپا کو ہارٹ اٹیک ہو گیا جب میری بہن کے متوقع سسرال والوں نے تین سال منگنی کے بعد جہیز کی ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر منگنی توڑ دی۔" جہیز بھارت اور پاکستان میں پائی جانے والی ایک ایسی رسم ہے جس نے بہت سے تعلقات اور شادیوں کو بُرے انجام تک پہنچایا ہے۔ والدین جہیز کے لیے بہت بڑٰی رقم ادھار لیتے ہیں تا کہ اپنی بیٹی کے سسرال والوں کے مطالبات پورا کر سکیں اور بیٹی کو شادی کے بعد طعنے نہ سننے پڑیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ معاشرے کے ہر کلاس کے لوگ اس رسم پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ شادی کے وقت جہیز سے ہی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

بعد میں بھی لڑکی کے سسرال والے اس کے گھر والوں سے بڑی بڑی توقعات جوڑ لیتے ہیں۔ کچھ دن پہلے میرے ایک دوست نے پوچھا کہ کیا میں چوچک کے بارے میں کچھ جانتی ہوں؟ اس نے بتایا کہ وہ اپنے آنے والے بچے کے لیے شاپنگ لسٹ بنا رہی تھی تو اس کی ساس بولی: یہ کس چیز کی لسٹ بنا رہی ہو؟ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ پہلے بچے کے لیے تمام چیزیں لڑکی کے والدین لا کر دیتے ہیں۔ اس رسم کو چوچک کہا جاتا ہے ۔ یہ بچے کا جہیز ہوتا ہے۔ اس کے بعد ساس روزانہ کچھ اسطرح کے جملے بولنے لگی: میں نے اپنی بیٹی کو چوچک میں یہ دیا، وہ دیا وغیر ہ وغیرہ۔ شادی کے جہیز کی طرح لڑکی کے والدین پہلے بچے کی پیدائش پر بچے کی ضروریات کی تمام چیزیں مہیا کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

خاوند جو اس بچے کا باپ ہے اور اس کے والدین کو کوئی خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ میری یہ دوست اور اس کے خاوند اچھا خاصا کماتے ہیں۔ اس لیے اس نے اپنے والدین کو کچھ بھی لانے کی درخواست نہیں کی۔ اس نے اپنے سسرالیوں کو کہا کہ وہ اپنے جہیز میں پہلے ہی بہت چیزیں لے کر آئی ہے اب وہ بچے کے لیے کچھ نہیں مانگے گی۔ مجھے ساس کی یہ سخت دلی بہت خطر ناک محسوس ہوئی۔ والدین اپنی بیٹیوں کی دیکھ بھال اپنی اوقات سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں۔ انہیں تعلیم دلواتے ہیں جو آج کے دور میں آسان نہیں ہے۔ وہ ان کی اچھے سے شادیاں کرواتے ہیں اور انہیں جہیز دے کر خوشی خوشی رخصت کرتے ہیں ۔جہیز میں انہیں گھر کی ہر چیز فراہم کرنی پڑتی ہے جیسے فرنیچر، کراکری، ٹی وی ، فریج، سونے کے زیورات، ان سب چیزوں کے لیے ایک بڑی رقم درکار ہوتی ہے۔ اب آگے شادی کے بعد سسرال والے بچے کے لیے بھی سامان کی توقعات رکھنے لگتے ہیں۔ یہ نہ صرف غیر اخلاقی بات ہے بلکہ ایک لالچی انسان ہونے کی علامت ہے۔ اب یہ رسم کی صرف بچے کی بنیادی چیزیں خریدنے تک محدود نہیں رہتی۔ کئی دوستوں نے بتایا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے وقت ہسپتال کے بل اور بچے کے کپڑے بھی والدین کو دینے پڑتے ہیں۔ بچے کے کپڑوں کے علاوہ، ایک چارپائی، سٹرالر، باؤنسر، باتھ چئیر، جھولا وغیرہ بھی والدین کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔ اس رسم کی وجہ سے بچے کے والد کے تمام اخراجات بچ جاتے ہیں۔

اگلا بچہ والد کا ہوتا ہے جیسے کہ پہلا بچہ والدہ کا کہلاتا ہے۔ پاکستان میں جہاں بچہ اپنے والد کے نام و نسل کو آگے بڑھاتا ہے اس طرح کے اخراجات ماں کے والدین سے لینا سرا سر نا انصافی ہے۔ یہ احمقانہ رسم ان والدین کے لیے مشکل نہیں ہوتی جو اپنی بیٹی کےبچے کے لیے یہ سب چیزیں اپنی مرضی سے خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن سب والدین کو ایسا کرنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں ایسی رسومات سے جان چھڑانی ہو گی۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں ایسے دعوے کرنا تو آسان ہے لیکن ایسی رسموں کا خاتمہ بہت مشکل کام ہے۔

لڑکیوں کو شروع دن سے ہی قربانی دینا اور کمپرومائز کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہماری سوسائٹی بیٹیوں کے لیے سسرال کا مقابلہ کرنا ناممکن بنا دیتی ہے۔ یہ بات قابل سمجھ ہے کہ حمل کی حالت میں عورتیں سٹریس سے بچنےکے لیے دباو کا مقابلہ کرنا بہتر نہیں سمجھتیں۔ لیکن پھر بھی تمام عورتوں کو چاہیے کہ اٹھ کھڑی ہوں اور اپنی آواز بلند کریں۔ لوگوں کو اپنی آواز دبانے نہ دیں۔ اپنی خاوند اور سسرال والوں کو بتائیں کہ بچہ ماں باپ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ عورتیں آواز اٹھانے سے اس لیے گھبراتی ہیں کہ وہ معاشی طور پر اپنے خاوند پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر لڑکی جاب کرتی ہو تو وہ خود ہی بچے کے لیے سب کچھ خرید سکتی ہے۔

میری یہ تجویز ہے کہ اپنے آپ کو کمزور مت سمجھیں۔ اپنے سسرالیوں کے طعنوں کو برداشت مت کریں اور اس غیر اخلاقی رسم کو ختم کریں۔ بچہ اس دنیا میں آئے تو ہمارے لیے خوشی کا باعث ہو نہ کہ ہمارے اوپر معاشی دباو کا باعث بنے۔ جب سسرال والے آپ کے والدین کو جہیز اور چوچک کا بندو بست کر لیتے ہیں تو پھر وہ مزید مطالبات سے باز نہیں آتے۔ شاید آپ ایسی لڑکی ہوں جو ہسپتال میں اپنی بچی کو گود میں لیے یہ پریشانی سر لیے ہوں کہ آخر یہ لڑکی پیدا ہی کیوں ہوئی۔ اپنے آپ کو ایسی لڑکی بننے سے بچائیں۔ رسم کا مقابلہ کیجیے اور خاموشی کو توڑیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *