چنبہ ہاؤس میں خاتون کی پراسرار ہلاکت, مقدمہ درج!

samia-ch2

لاہور کے چنبہ ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کی خاتون کی پراسرار ہلاکت کا مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خاتون کے قتل کے حوالے سے تیار کی گئی فرانزک رپورٹ میں نشے کی زیادتی کو موت کی وجہ قرار دیا گیا تھا، جس پر مقدمہ خارج کیا گیا۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل 27 نومبر 2016 کو چنبہ ہاؤس سے ایک 35 سالہ خاتون کی لاش برآمد ہوئی تھی، بعد ازاں ان کی شناخت سمعیہ چوہدری کے نام سے ہوئی جبکہ فوری طور پر ان کی موت کی وجہ اور محرکات سامنے نہ آ سکے تھے، بعد ازاں پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد فرانزک سائنس ایجنسی سے مدد لی۔

فرانزک رپورٹ میں خاتون کی موت کے وجہ منشیات کا استعمال بتایا گیا، جس پر اب موت کو حادثاتی قرار دیتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ یاد رہے 2 دسمبر کو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے بتایا تھا کہ خاتون سمیعہ کی موت کی وجہ تشدد نہیں، فرانزک رپورٹ میں آنے والی معلومات کے حساب سے وہ کوکین کے زائد استعمال کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ یاد رہے کہ 26 نومبر کو جہاں سے سمیعہ کی لاش برآمد ہوئی تھی، یہ ریس کورس کے علاقے میں قومی اسمبلی کے قائم فیڈرل لاجز کا کمرہ تھا جبکہ یہ کمرہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کو الاٹ تھا۔

پولیس نے بتایا تھا لاش ساہیوال سے تعلق رکھنے والی سمیعہ چوہدری کی تھی جو 22 نومبر سے اس کمرے میں رکن اسمبلی چوہدری محمد اشرف کے ریفرنس سے مقیم تھیں۔ کے شوہر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمے کا اندراج کرلیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ رانا ثنااللہ نے فیڈرل لاجز کے کمرے میں خاتون کے ٹھہرنے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ایک ریسپشنسٹ کی ملی بھگت سے ممکن ہوسکا اور پولیس ریسپشنسٹ سے تفتیش کررہی ہے , تاہم یہ واضح نہ ہو سکا کہ اس حوالے سے کسی قسم کی کارورائی ہوئی یا نہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *