یہ تحریک انصاف ہے یا داعش ہے؟

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

عاصمہ جہانگیر نے ایک جملے میں عمران خان کا مسئلہ بیان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمران کا مسئلہ سیاسی نہیں نفسیاتی ہے۔ مجھے اس تشخیص سے مکمل اتفاق ہے، چنانچہ اس کے بعد پارلیمنٹ، عدلیہ، قانون ،آئین ، حکومت، اپوزیشن، دانشور، دوسرے طبقے اور ادارے ان کا علاج نہیں کرسکتے۔ ان کا علاج اگر کسی کے پاس ہے تو وہ ماہرین نفسیات ہیں اور سچی بات پوچھیں تو ا ب ان کا ’’علاج‘‘ بلکہ’’معالجہ‘‘ بھی بہت ضروری ہوگیاہے۔ اب وہ اسٹیج پر آتے ہیں تو ہذیان کی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، چنانچہ انہوں نے دیگرمشاہیر اور زعماء کے حوالے سے جولب و لہجہ استعمال کیا وہ سب چپ رہے، گزشتہ ہفتے وہ اس سے بھی آگے بڑھے اور عاصمہ جہانگیر ایسی بلند قامت ایکٹی وسٹ خاتون رہنما اور مولانا فضل الرحمان ایسے ذہین و فطین اور لفظوں کا صحیح استعمال جانے والے سیاستدان پر جو کیچڑ اچھالا تو مولانا کا جوابی بیان قدرے سخت تھا ،مگر عاصمہ نے خان صاحب کو بونگا خان اور ان کے مسئلے کو سیاسی کی بجائے نفسیاتی مسئلہ قرار دے کر ایک’’مصرعے‘‘ میں ساری بات کہہ دی اور یوں عمران خان کی گالی کو دل پر نہیں لیا ،تاہم عمران خان کا نفسیاتی علاج ضروری ہوگیا ہے کیونکہ وہ اپنےکپڑے ایک ایک کرکے اتارتے چلے جارہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ ایک دن وہ دیوانگی کے عالم میں کنٹینر سے باہر آئیں تو خواتین منہ چھپاتی پھریں اور مرد ان کے گرد جمع ہو کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیں اور کہیں’’بابا جی‘‘ہمارے لئے دعا کریں‘‘۔
اور ہاں، چھوٹے میاں سو چھوٹے میاں، بڑے میاں سبحان اللہ، اب اللہ جانے شیخ رشید اور عمران خان میں سے چھوٹے میاں اور بڑے کون ہیں۔ میرے لئے تو بہرحال یہ دونوں چھوٹے ہیں، سو گزشتہ روز ننگانہ صاحب میں تحریک انصاف کے جلسے میں شیخ رشید نے تقریر کرتے ہوئے کہا’’لوگو!گھروں سے نکلو، مارو، مرجائو، جلائو اور گھیرائو کرو، حکومت سے نجات دلائو‘‘ عمران خان نے کہا’’تیس نومبر کے بعد حکومت کا چلنا مشکل ہوجائے گا‘‘۔ ایک اطلاع کے مطابق اس ’’سیاسی کمپنی‘‘ کے تیسرے پارٹنر طاہر القادری صاحب بھی تیس نومبر سے پیشتر پاکستان پہنچ رہے ہیں ، انہوں نے اس کمپنی کے عزائم نیویارک میں میڈیا کے سامنے یہ کہہ واضح طور پر بیان کردئیے ہیں کہ ’’ہم چین کے ساتھ ہونے والی ڈیویلپمنٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔ قادری صاحب یہ بلی تھیلے سے باہر نہ بھی نکالتے تو عوام کو پہلے سے علم تھا کہ چین کے ساتھ مجوزہ معاہدوں کو روکنے کے لئے چینی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ،چنانچہ انہیں یہ دورہ ملتوی کرنا پڑا، مگر معاہدے تو پھر بھی ہو کر رہے اور یہ معاہدے کیا ہیں، چین کی طرف سے اپنے دوست پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے پروانوں کا تحفہ ہیں۔ بس اسی مجبوری کے تحت تحریک انصاف اور اس کے ہم نوائوں کو تیس نومبر کی نئی تاریخ دینا پڑی اور ان عزائم کے ساتھ کہ ہم حکومت کو چلنے نہیں دیں گے، اگر چین کی مدد سے وہ سارے منصوبے مکمل ہوجاتے ہیں جو موجودہ حکومت نے ترتیب دئیے ہیں تو لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا، کارخانے چلیں گے، لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا، غربت میں کمی آئے گی۔یہ سب کچھ ہوگا مگر جو اپنے اقتدار کے لئے اپنے ہی کارکنوں کی دو سو لاشیں گرانے کی خواہش دلوں میں رکھتے تھے ان کا کیا بنے گا؟ کیا ان کی بقیہ عمر بھی دربدری ہی میں گزرے گی اور محض جلسوں سے خطاب ہی ان کی تقدیر بنے گا؟ یہ جلسے بھی آخر کب تک ان کا ساتھ دیں گے .....آہستہ آہستہ یہ بھی تو جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے مگر پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوجائے گا جو ان کو اور پاکستان دشمنوں کو’’سوٹ‘‘ ہی نہیں کرتا۔ چنانچہ فرمایا گیا’’ہم تیس نومبر کے بعد حکومت چلنے ہی نہیں دیں گے۔
شیخ رشید کی ’’مارو مرجائو‘‘ والی تقریر ایک بار پھر سینکڑوں لاشیں گرانے کی خواہش کی مظہر ہے جو ا نشاء اللہ اس دفعہ بھی پوری نہیں ہوگی‘‘۔تجزیہ نگار قدرت اللہ چودھری نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ سابق آئی جی چیف بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ کی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعجاز تھا یا ناکام دھرنوں کے نفسیاتی اثرات کے شیخ صاحب ننکانہ صاحب میں تتےّتوے پر بیٹھ گئے اور اپنی تقریر میں وہ کچھ کہہ دیا جو ایک دل جلا ہی کہہ سکتا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو’’کمی کمینوں‘‘ کی حکومت بھی قرار دیا، عمران خان، شیخ رشید اور اس طرح کے دوسرے’’زعماء‘‘ عوام کو ’’کمی کمین‘‘ ہی سمجھتے ہیں اور یوں وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں ایسی حکومت برسراقتدار رہے جو عوامی یعنی کمی کمینوں کی خوشحالی کے لئے کام کررہی ہو، چنانچہ انہوں نے کھل کر’’مارو اور مرو‘‘ کا نعرہ بلند کردیا، راجہ ظفر الحق نے کیا پتے کی بات کہی کہ اس بیان سےداعش اور ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہا جو بےگناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا چاہتے ہیں، یہ نئے داعش تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہوئے، پی ٹی وی پر قبضہ کرلیا اور ہر وہ حرکت کی جس سے انتظامیہ مشتعل ہو کر ان کی لاشیں گرانے کی خواہش پوری کردے۔ کیاکوئی سیاسی جماعت اور اس کے رہنما اتنے سنگدل بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ عوام کے ووٹوں کی بجائے ان کی لاشوں کے ذریعے ایوان اقتدار تک پہنچنے کی پلاننگ کرتے ہوں؟ ایسا ہورہا ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے۔ قانونی ماہرین نے کہا کہ دفعہ124Aکے تحت شیخ رشید کا بیان بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور یہ بھی کہ پرتشدد کارروائی کی دعوت دینے والا ملک دشمن ہے، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آدمی ایک دفعہ سارے’’تکلفات‘‘ ختم کرکے سامنے آجائے تو اس کی خوہشات کے رستے میں کوئی امر رکاوٹ نہیں بنتا۔ عمران خان اور ان کے ہمنوائوں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں۔ خان صاحب کہتے ہیں، آئو اور مجھے گرفتار کرلو۔ قادری صاحب کی جماعت کے رہنما رحیق عباسی صاحب للکاررہے ہیں کہ جس میں ہمت ہے وہ آئے اور مجھے گرفتار کرکے دکھائے۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر پنجابی کی ایک کہاوت صادق آتی ہے کہ اگر ’’غلط جگہ‘‘ پر بیری اگ آئی ہے تو کیا ہوا، اس کی چھائوں میں بیٹھا کریں گے‘‘۔
اس صورتحال میں اب عوام کو خود سوچنا ہے کہ کیا وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ ان ہاتھوں میں دے سکتے ہیں جو ہاتھ ان کی گردنوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور میرے خیال میں عوام کی سوچ کا رخ اس سمت کو ہو چکا ہے۔ عمران خان کی کہہ مکرنیوں ،بدزبانیوں، بہتان تراشیوں اور پگڑیاں اچھال مارکہ تقریروں نے سلیم الطبع لوگوں کو ان سے دور کردیا ہے۔ کالم نگار، میڈیا اینکرز، وکلاء صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ لوگ، ذی ہوش نوجوان اور دوسرے طبقات کے وہ افراد جو عقیدت میں بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں ، عمران خان سے پوری طرح مایوس نظر آتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ خوشی کی بات نہیں بلکہ ایک المیہ ہے کہ عمران خان اگر اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہو کر ملک و قوم کے مفادات کو ٹھوکر نہ مارتا، وہ دن بلکہ وہ دن بہت قریب بھی ہوسکتا تھا جب اس کی قیادت پاکستان کے لئے ایک نعمت ثابت ہوتی، مگر افسوس ہمارےخان صاحب نے عزت کی زندگی پر ایسی زندگی کو ترجیح دی جو زندگی حشرات الارض بھی گزارتے ہیں، بہرحال مجھے یقین ہے کہ پاکستانی عوام جو پاکستان کی خوشحالی کا خواب دیکھنے والے لوگ ہیں ایسے لوگوں کے پیچھے کبھی نہیں چلیں گے جو انہیں خوشحال کی بجائے بے حال دیکھنا چاہتے ہوں، تحریک انصاف کی صورت میں داعش جنم لے چکی ہے اور عوام یہ حقیقت جان چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *