داستان محبت

صارم عرفان

sarim-irfan

ہمارے خاندان میں شادی کی دھوم دھام کئی دنوں تک رہتی ہے۔ ہر پاکستانی خاندان کی طرح ہم پہلے بہت کام میں مصروف رہے، پھر کچھ آرام ملا اور بالآخر اپنی بہن کی شادی کے پر سکون انجام پذیر ہونے پر ہم اللہ کے سامنے شکر کے لیے سربسجود ہو گئے۔ جب تمام مہمان چلے گئے تو ہم نے رات کے وقت گفٹ پیک کھولنے شروع کیے۔ میرے والداپنی گھومنے والی کرسی پر پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھے۔ ہر چیز صحیح حالت میں تھی اور کراچی کے دسمبر کے موسم میں جیسے ہمیشہ دیکھنے میں آتا ہے ہر کوئی سکڑ کر بیٹھا تھا ۔ میں نے شیریں کی آنکھوں میں دیکھا۔ ہماری منگنی ہوئے 6 ماہ گزر چکے تھے۔ میں ایک بڑا اعلان کر کے سب کو حیران کرنے والا تھا اس لیے میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، اس نے ابو سے کہا:" انکل ، میں آپ کی لو سٹوری سننا چاہتی ہوں۔" میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرا دی۔ "علی آپ کی محبت کی کہانیاں لاتا رہتا ہے اور بتاتا ہے کہ آپ آنٹی سے کیسے ملے۔میں یہ کہانی آپ سے سننا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر اس وقت جب آنٹی یہاں موجود نہیں ہیں۔"وہ مسکرائی۔میں شریں کو بہت پسند کرتا تھا۔ وہ بہت بہادر تھی اور جب وہ کسی کو تنگ کرتی تو شرارت اس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دیتی تھی اور مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل جاتی تھی۔ جو لوگ اسے نہیں جانتے تھے وہ اس شرارت کو حقارت آمیز سمجھنے لگتے تھے۔ میرے خیال میں اس مسکراہٹ میں شرارت کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس وقت بھی اس کے لبوں پر وہی مسکراہٹ تھی۔ لیکن مجھے پتا تھا کہ ابو اس کی بات کا جواب ضرور دیں گے۔ اس طرح کا موقع کبھی کبھار ملتا تھا اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ابو کی کہانی غور سے سنیں۔

میرے والد نے کہانی یوں شروع کی۔ "میں لندن میں تھا اور وہاں میرا پہلا سردیوں کا موسم تھا۔ تھیچر نے ابھی کچھ دن قبل ہی الیکشن جیتے تھے۔ عوام میں کچھ بے چینی تھی لیکن پھر بھی سکون تھا اور سڑکوں پھر دھند موجود تھی۔ میں کسی کو نہیں جانتا تھا اور نہ کوئی مجھے جانتا تھا۔ انہی سردیوں میں ایک رات جب میں ٹرین سٹیشن سے باہر آیا تو میں نے اسے دیکھا۔ ایک ہڈیوں کا ڈھانچا نما لڑکی جینز اور ڈھیلی جیکٹ پہنے وہاں موجود تھی اور دونوں ہاتھوں میں شہر کا نقشہ تھامے اس کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے سوچا شاید یہ کوئی سیاح ہے۔ چونکہ مجھے لندن گئے ابھی 2 ماہ ہی ہوئے تھے اس لیے سیاحوں اور وہاں کے لوگوں میں فرق پہنچاننے پر میں بہت فخر محسوس کرتا تھا۔ وہ نقشہ سے ہٹ کر سٹریٹ بورڈ کی طرف دیکھنے میں مشکل محسوس کر رہی تھی۔ میں نے سگریٹ جلایا اور اس کی مدد کرنے چل دیا۔ وہ اتنی خوبصورت نہیں لگ رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور وہ پر اعتماد بھی دکھائی دیتی تھی۔ وہ اتنی دلکش تھی کہ انسان اس کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیے اور اس کی آنکھوں میں ڈوب جائے۔" شیریں نے میرا ہاتھ زور سے دبوچا اور سرگوشی کی۔ اووو۔

میرے والد پھر گویا ہوئے۔ "وہ تھیٹر ہاوس ڈھونڈ رہی تھی۔ میں اسے وہاں لے گیا۔ وہ تیسری قطار میں تھی۔ مجھے آج بھی اس کا قہقہ یاد ہے جب میں نے اسے ایک مزاحیہ واقعہ سنایا۔ یہ میرا زندگی کا سب سے برُا تجربہ تھا۔ میں اپنی لائینیں بھول رہا تھا اور اس کی موجودگی کو بھول نہیں پا رہا تھا۔ اس رات، شو کے بعد میں نے اس سے ساتھ باہر چلنے کو کہا۔ "

اس وقت تک میرے بھانجے بھی کہانی سننے ہمارے پاس جمع ہو چکے تھے اور ہمارا لِونگ روم ایک پرانے زمانے کی غار جیسا نظر آنے لگا تھا۔ شیریں نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ لیا۔ میرے والد ایک بار پھر بولے: "وہ نئی تھی اور میں ابھی میچور نہیں تھا۔ میں نے اسے شہر دکھایا اور اس نے مجھے پیار دکھایا۔ جب آپ اپنا وقت پلان کے مطابق نہیں بانٹتے تو آپ کو اس کے پیار کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن اسی دوران قدرت آپ کے لیے دوسرے پلان بنا لیتی ہے۔ جب پھول بیچنے والا اسی روڈ پر آپنچے جہاں آپ اس کے ساتھ موجود ہوں ، جب چاند اسی وقت نکل آئے جب آپ اس کے ساتھ چلتے ہوئے گھر کی طرف رواں ہوں۔ یہ سب بہت پرفیکٹ تھا۔

اسے میرا سگریٹ پینا پسند نہیں تھا اس لیے میں نے سگریٹ چھوڑ دیے۔ اسے معلوم پڑ گیا کہ میں نے سگریٹ چھوڑ دیے کیوں کہ مجھے ایک اور چیز کا نشہ ہو گیا تھا۔ یہ نشہ وہ خود تھی۔ ہم نے مل کر پورا شہر دیکھا اور اس دوران ایک دوسرے کو بھی اچھی طرح پرکھ لیا۔ ہم ہر رات جب ٹرین سٹیشن پر جدا ہوتے تو ایک دوسرے کو چوم لیتے۔" میں تھوڑا حیران تھا۔ میرے والد نے پہلی بار اس قدر کھل کر گفتگو کی تھی۔ وہ بولے: وقت کی سب سے اچھی اور بُری خوبی یہ ہے کہ یہ بیت جاتا ہے۔ وہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔ وقت بیت گیا اور اس کے لوٹنے کا وقت آ گیا۔ ہم نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ جب آخری بار اس کو اللہ حافظ کہتے وقت میں نے سگریٹ سلگایا تو اس نے سگریٹ چھین کر اپنے ہاتھ سے مسل دیا ۔ اس کے ہاتھ کی چمڑی پیلی پڑگئی۔ اس کے ہاتھ پر نشان بن گیا اور میرے اندر اس سے بھی بڑا نشان بن گیا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں دوبارہ کبھی سگریٹ نہ پیوں۔ "

میں شیریں کی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ میرے والد نے کہا: "ا سکی رخصتی نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔ جب ٹرین جانے ہی والی تھی تو میں رک نہیں پایا اور اس سے محبت کا اظہار کر دیا ۔ وہ محبت جو آج بھی میرے ساتھ ہے۔" تبھی ماں کی آواز آئی: "چائے تیار ہے۔" ہم سب واپس اصل دنیا میں آ گئے۔ شریں نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا: "تم بہت لکی ہو کہ تمہارے والدین اتنے رومانوی طبیعت کے ہیں۔" میں نے جواب میں مسکراہٹ دی اور اپنا چائے کا کپ لینے چلا گیا۔ ماں نے مجھے ساسر پکڑایا۔ میری آنکھیں ان کے چہرے سے سفر کرتی ہوئی ان کے ہاتھوں اور پھر بازو پر پہنچیں۔ میں نے معصومیت سے پوچھا: "امی، وہ زخم کہاں ہے جو آپ نے سگریٹ بجھاتے ہوئے لگایا تھا جب پاپا سگریٹ پینے والے تھے؟ " ماں نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا: بیٹا ہمارے ملنے سے قبل ہی تمہارے پاپا سگریٹ چھوڑ چکے تھے۔ میں نے کہا اچھا؟ مجھے لگا انہوں نے آپ کے لیے سگریٹ چھوڑے تھے۔ ماں مسکرا دی اور بولی۔ بیوقوفوں والی باتیں مت کرو۔ میں تجسس میں تھا اس لیے پوچھا۔ آپ کس سال لندن گئی تھیں؟ ماما نے کہا: کیا ہوا بیٹا؟ یہ 1981 تھا۔اب اور سوالات مت پوچھنا۔ شیریں آ رہی ہے۔ اس کی طرف توجہ دو۔" شیریں میرے پاس آ گئی تھی اور میرا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ میں نے اسے پوچھا: "کیا تمہیں یاد ہے تھیچر نے الیکشن کب جیتے تھے؟ اس نے ایسے پرجوش طریقے سے جواب دیا جیسے بچے امتحان میں جواب دیتے ہیں:" 1979 میں۔ وہ اہم سال تھا ۔ تھیچر پہلی ایسی خاتون تھی جو۔۔۔۔۔۔ "

اس کی آواز مدھم ہو گئی جب اس نے مجھے اپنے خیالات میں گم پایا ۔ جب میں واپس خیالات کی دنیا سے باہر آیا تو وہ بول رہی تھی اور کہ رہی تھی: شاید یہ وہی سال تھا جب انکل کی آنٹی سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔

میں نے کہا: 'ہاں شاید'۔

اس نے پوچھا: تم کیا سوچ رہے ہو؟

میں نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا: "بس کچھ نہیں ۔ میں تو بس سچے پیار کے بارے میں سوچ رہا تھا۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *