برطانیہ نے پنجاب کو کس طرح نوازا؟

ایازا میرAyaz Amir

پہلی جنگ ِ عظیم کے آغاز کے سو سال پورے ہونے پر اس خوفناک واقعہ کی یاد منانے کے لئے برطانیہ میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ایسی ہی تقریبات میں ہندوستان کے اُن فوجیوں کو بھی یاد کیا جارہا ہے جنھوں نے اس جنگ میں کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ان فوجیوں میں تین مسلمان سپاہی بھی شامل ہیںجو برٹش آرمی کا حصہ تھے ۔ ان کی بہادری کے اعتراف کے طور پر اُنہیں وکٹوریہ کراس، جو کہ برٹش مسلح افواج کو دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ہے، دیا گیا۔
ان فوجیوں کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کے لئے برٹش ہائی کمیشن میںایک تختی رکھی گئی ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق اس تختی کوشکر پڑیاںکی پہاڑیوں پر نصب کیا جائے گا۔اس کی تنصیب غالباً مشرف دور میں بلامقصد تعمیر کی گئی ایک بدنما یادگار کے قریب عمل میں آئے گی۔ لیکن کیا وکٹوریہ کراس پانے والے فوجیوں کے ناموں والی تختی کو عوامی جگہ پر اس طرح پذیرائی دینا ایک ارفع خیال ہے؟ یہ مذکورہ سپاہی یقینا ہیرو تھے لیکن وہ اپنی سرزمین (ہندوستان) کی بجائے برطانوی سلطنت کی عظمت کے تحفظ کے لئے لڑ رہے تھے۔ اگر ان کی عظمت کو اجاگر کیا جانا مقصود تھا تو اُس کی مناسب جگہ برٹش وار میوزیم ہےتاکہ اہل ِ برطانیہ کو اُن ہندوستانی سپاہیوں کی قربانیوںسے آگاہ کیا جا سکے لیکن اس کی تنصیب کے لئے پاکستان میں کسی جگہ کا انتخاب کرنا اس وجہ سے بھی بے محل ہے کہ انگریزوں نے ہندوستانی سپاہیوں کی جنگی خدمات کا کھلے دل سے کبھی اعتراف نہیں کیا ۔
پہلی جنگ ِ عظیم کے دوران اگست 1914 سے لے کر نومبر 1918تک ہندوستان سے 683,149 فوجی بھرتی کیے گئے (تان تائی ینگ، گریژن ا سٹیٹ، صفحہ 98)۔ ان میں سے ساٹھ فیصد سے زائد جوان پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس عظیم جنگ میں داد ِ شجاعت دینے والے جوانوں کو وکٹوریہ کراس ملنااہل ِ پنجاب کی دلیری اور شجاعت کا اعتراف تھا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ جنگ کے خاتمے پر برطانوی راج کی طرف سے ہندوستانی شہریوں پر زیادہ اعتما د کا اظہار کرتے ہوئے یہاں سیاسی اصلاحات کے اقدامات اٹھائے جائیں گے، تاہم جون 1918کو Montagu-Chelmsford کی پیش کردہ اصلاحات محض سطحی تھیں ۔ امپیریل دستور ساز کونسل کا نام بدل کر مرکزی دستور ساز اسمبلی رکھ دیاگیا۔ تاہم سامنے لائی جانے والے اصلاحات جنگ کے خاتمے کے دوماہ بعد اپنی موت آپ مرگئیں جب رولٹ بلز (Rowlatt Bill) کی صورت میں غداری کے خلاف اقدامات تجویز کئے گئے۔ جنگ کے دوران قائم ہونے والی کمیٹی نے سر سڈنی رولٹ کی سربراہی میں ان اقدامات کے لئے سفارشات پیش کیں ۔ اس دوران روس میں انقلاب کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے تھے۔ کمیٹی نے خدشہ محسوس کیا کہ بیرونی خطوںسے اُٹھنے والی آوازیں ہندوستانی شہریوں کو راج کے خلاف اُکسا سکتی ہیں۔ اس امکان کا سدّ باب کرنے کے لئے راج کے خلاف ذرا بھی آواز بلند کرنے والوںکے خلاف سخت اقدامات تجویز کئےگئے۔ یہ اُس وقت ہوا تھا جب فرانس اور دیگر جنگی محاذوں پر برطانوی افسران کی قیادت میں نصف ملین کے قریب ہندوستانی جوانوں نے جنگ کی اور اپنا لہو دیا۔ رولٹ بل نے کسی بھی ٹرائل کے بغیر گرفتاری اور کسی بھی گرفتاری پر اپیل کے حق کو خارج کردیا۔کسی کے پاس بھی حکومت کے خلاف کوئی پمفلٹ یا مواد مل جاتا تو اُسے دوسال کیلئے جیل میں بندکردیا جاتا۔ یہ تھا پنجاب کی قربانیوں کا صلہ !اس پرتعلیم یافتہ ہندوستانیوں کا مشتعل ہونا فطری بات تھی۔
جنگ کے بعد کا ہندوستان مختلف تھا۔مہنگائی، اشیائے ضروریات کی قلت کے ساتھ ساتھ جنگ سے واپس آنے والے سپاہیوں کے لئے روزگارکا مسئلہ بھی پیدا ہوچکا تھا۔ اسی دوران رولٹ بل ہندوستانیوں کے منہ پر ایک طمانچے کی طرح لگا۔ اُس وقت تک گاندھی جنوبی افریقہ سے واپس آچکے تھے۔وہاں اُنھوں نے عدم تشدد مزاحمت (satyagraha) کا عملی تجربہ کیا تھا۔ لاہور میں رولٹ بل کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے۔ ہندو اور مسلمان پہلی مرتبہ اکٹھے کسی سیاسی احتجاج میں شرکت کررہے تھے۔ 13اپریل کو لاہور کی بادشاہی مسجد میں ایک بہت بڑے اجتماع سے شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان، ہندو اور سکھ رہنمائوں نے خطاب کیا۔اس سے پہلے برطانوی حکام ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بڑی آسانی سے راج کررہے تھے، لیکن اب اس اتحاد نے اُن کی نیندیں حرام کردی تھیں۔ سب سے زیادہ پریشانی پنجاب کے گورنر مچل او ڈائر(Michael O'Dwyer) کو ہورہی تھی۔
تین دن تک ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران لاہور میں راج کی عملداری تحلیل ہوکر رہ گئی۔ اس پر مارشل لا نافذ کر کے غیر معمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے عوام کو خائف کیا گیا۔آج یہ بات ناقابل ِ یقین لگتی ہے ، لیکن رائل ایئرفورس کے جنگی جہازوں نے نہتے ہجوم پرگوجرانوالہ میں بمباری اورمشین گنوں سے فائرنگ کی۔ بعد میں ہونے والی سرکاری انکوائری میں ہلاکتوں کی تعداد کم کر کے بتائی گئی اور کہا گیا کہ ’’ہجوم کے منتشر ہونے کے بعد بم گرائے گئے اور فائرنگ کی گئی‘‘۔ عوام پر لاٹھیاںبرسائی گئیں اورگوجرانوالہ میں ہر ہندوستانی کے لئے فرض قرار دے دیا گیا کہ وہ گزرنے والے ہر سرکاری افسر کو اپنی سواری سے اتر کر سیلوٹ کرے۔
تاہم یہ سب کچھ امرتسر میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ وہاں ہجوم تشدد پر اتر آیا اورکئی ایک انگریز شہری ہلاک کردئیے گئے۔ ان میںسے کچھ بنکار بھی تھے۔ ایک برطانوی مشنری خاتون مرسیلا شیرووڈ(Marcella Sherwood) پر ہجوم نے حملہ کیا۔ وہ اُسے مردہ چھوڑ کر چلے گئے لیکن اُس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ اُسے کچھ مقامی ہندوستانیوں نے بچا لیا۔ اُس کے شاگردوں میں سے ایک کے والد نے اُسے گھر میں چھپا لیااور ہجوم کی آنکھ سے اوجھل ہوکر گوبندگڑھ فورٹ میں پہنچا دیا(Wikipedia)۔ کچھ اہم رہنمائوں، جن میں سیف الدین کچلو اور سیتیاپال شامل تھے،کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ جلیانوالہ باغ میں جمع تھے۔جنرل رگینالڈ ڈائر (Reginald Dyer) کی قیادت میں فوج کے ایک دستے نے باغ کے دروازے کے سامنے پوزیشن سنبھال لی اور منتشر ہونے کی کوئی وارننگ دئیے بغیر فائرکھول دیا۔ اُس وقت کے سرکاری ذرائع کے مطابق 379 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 1200 افراد زخمی ہوئے۔آزاد ذرائع کے مطابق ایک ہزار افراد ہلاک اور دوہزار سے زائدزخمی ہوگئے تھے۔یہ سب کچھ صرف دس منٹ کی شدید فائرنگ کے دوران ہوا تھا۔ جنرل ڈائر کے نام بھیجے گئے ٹیلی گرام میں گورنر اوڈائر نے کہا،’’تمہارا ایکشن درست تھا اور لیفٹیننٹ گورنر اس کو منظور کرتا ہے۔‘‘
انیس اپریل کو مرسیلا شیرووڈ کے گھر جاکر جنرل ڈائر نے اعلان کیا کہ جوبھی اس کی گلی سے گزرے اُس کے لئے لازم ہے کہ وہ چاروں ہاتھ پائوں کے بل چلتا ہوا گزرے۔ بعد میں جنرل ڈائر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا،’’کچھ ہندو اپنے دیوتائوں کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ہیں۔میں اُنہیں یہ احساس دلانا چاہتاتھا کہ ایک انگریز عورت بھی کسی ہندودیوتا سےکم مقدس نہیں۔اس لئے اُنہیں اس کے سامنے رینگنا ہوگا۔‘‘ سرونسٹن چرچل کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اُنھوں نے اس قتل ِ عام کی مذمت کی اوراُن کی تقریر کے بعد ہائوس میں جنرل ڈائر کے خلاف رائے شماری کی گئی۔ تاہم بہت سے انگریزاُنہیں ہیرو سمجھتے تھے۔ مس شیرووڈ نے اُنہیں ’’پنجاب کا نجات دہندہ ‘‘ قرار دیا۔ اس ظلم پر رابندرناتھ ٹیگور نے اپنا سر کا خطاب واپس کرتے ہوئے وائسرائے، Lord Chelmsford کو لکھا،’’وہ وقت آگیا ہے جب توقیر کے یہ نشانات بے حد توہین آمیز دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
تیرہ مارچ1940کو لندن کے Caxton Hall میں اُدھم سنگھ، جو امرتسر کے واقعات کے چشم دید گواہ تھے، نے مچل او ڈائر کو گولی ماردی۔ اپنے ٹرائل کے موقع پر اُنھوںنے کہا’’میںنے ایسا اس لئے کیا کیونکہ میرے دل میں اُس کے لئے شدید غصہ تھا۔ وہ ا س کا مستحق تھا۔ مجھے موت سے کوئی ڈر نہیں۔ میں اپنے وطن کے لئے مر رہا ہوں۔ میںنے برطانوی راج میں اپنے لوگوں کو بھوک سے مرتے دیکھا ہے۔ میں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا، یہ میرا فرض تھا۔ میرے لئے اس سے بڑا شرف اور کیاہوسکتا ہےکہ میں اپنے وطن پر جان قربان کررہاہوں۔‘‘ اُدھم سنگھ خود کورام محمدسنگھ آزادکہلانا پسند کرتے تھے۔ 1952 میں پنڈت نہرو نے اُنہیں ’’شہید ِ اعظم اُدھم سنگھ‘‘ قرار دیا۔ 1920 میں گاندھی کی شروع کردہ سول نافرمانی کی تحریک پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔
اس کی پاداش میں ہزاروں افرادکو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس تحریک میں پنجاب کے مسلمانوں کی طرف سے حصہ نہیں ڈالا گیا۔ فضل ِ حسین، جنھوں نے پہلے رولٹ ایکٹ پر احتجاج کیا تھا اورجنھوںنے ایک سال قبل پنجاب کانگریس اور پنجاب لیگ کی قیادت کی تھی، نے نئی برطانوی کونسل میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ ہندو مسلم اتحاد، جس کا مظاہرہ ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران دیکھنے میں آیا تھا، دیر پا ثابت نہ ہوسکا۔ ہندوستان کے ہندووں ، مسلمانوں اور سکھوں نے اپنی راہیںجدا کرلیں۔ 1920میںناگپور میں ہونے اجلاس میں محمد علی جناح ، جو اُ س وقت کانگریس اورلیگ، دونوں کے رکن تھے،نے گاندھی کے ساتھ ہونے والے اختلافات کی بنا پر کانگریس کو چھوڑدیا۔ اہل برطانیہ اپنی جنگی فتوحات کی یاد ضرور منائیں۔ دوسری طرف ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ سےآشنائی حاصل کریں۔تلخی اور نفرت کے بیج بونے کے لئے نہیں بلکہ اپنی اصلیت کو جاننے کے لئے۔ یقیناً انگریزوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والوں کو یاد رکھیں۔ہماری اپنی تاریخ کے بھی بہت سے کراس ہمارے کندھوں پر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *