زندگی کاتصور اور مشاہیر

زندگی کیا ہے؟ زندگی کے حوالے سے ہم اس سے زیادہ نہیں جان پائے ہیں کہ ہم زندہ ہیں اور یہ زندگی ایک مخصوص مدت کے لیے ہے اور یہ کہ اس میں ہم ’’سرمایہ و محنت‘‘ یا اتفاقات کی بدولت کچھ چیزیں حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنا وقت گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ کیا زندگی صرف پیدائش اور موت کے درمیان کچھ تگ و دو، کچھ سود و زیاں اور کچھ گرم طلبی ، کچھ کم کوشی کا ہی نام ہے؟کیا پیدائش سے پہلے کی دنیا میں بھی ہم زندہ تھے؟ کیا مرنے کے بعد بھی ایسی ہی زندگی ہماری منتظر ہے؟ ان سوالات کا جواب مذہب کے گناہ و سزا کے تصور میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ ہم اس کے ضمنی پہلووں پر بھی فکر نہیں کر پاتے ہیں۔ ایک انگریزی محاورہ ہے ...’’جب آپ خود فریم کا حصہ ہوں تو آپ تصویر کو نہیں جانچ سکتے ہیں۔‘‘شایداگرہم اس فریم (زندگی) سے باہر نکل کر دیکھ سکیں تو ہمیں اس کی اصل ماہیت کا اندازہ ہوجائے لیکن کیا اس دنیا میں ایسا ممکن ہے۔ ایک اردو شاعر کا کہنا ہے،
وائے ناکامی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
کیا ہم ایک طویل خواب دیکھ رہے ہیں اور ایک دن ہماری آنکھ کھل جائے گی ؟ گویا جب آنکھ بند ہو گی ،تب آنکھ کھلے گی؟ایک اور سوال، کیا ہمیں زندگی کے بارے میں اس قدر کھوج لگانے کی ضرورت ہے یا نہیں، یا پھر ، جیسے ڈاکٹر فاسٹس کہتا ہے...’’جو ہو گا دیکھا جائے گا۔‘‘
سائنسی فکر زندگی کے ان دھاروں کا کھوج لگا رہی ہے جو فی الحال عام انسانی سوچ سے ماور�أ رہے ہیں۔ جہاں تک زندگی کے طبیعاتی پہلو کا تعلق ہے تواس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس اس کے خلیات میں جھانک ڈی این اے کی دنیا کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھا رہی ہے۔ تاریخ اس کے ماضی کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ نفسیاتی علوم کے ماہرین اس کے افعال کے پیچھے محرکات اور اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ صوفی بھی قلب پر بیتنے والی روحانی واردات کوزماں ومکاں کے پیمانے پر جانچنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وقت کی طنابیں اُسے گریز پر مجبور کر دیتی ہیں۔ فی الحال سائنس کے سامنے ایک مجبور ی ہے کہ وہ ایک حدود ، جو اسے حواس فراہم کرتے ہیں، سے باہر نہیں جھانک سکتی اور حدود پیدائش اور موت کے درمیانی عرصے تک ہیں۔ اگر زندگی کا سیکولر نظریہ مان لیا جائے کہ زندگی یہی ہے تو بھی معاملہ آسان نہیں ہوتا ہے کیونکہ انسان کوئی مشین تو ہے نہیں ہے کہ اُسے خوراک ، لباس اور دیگر سہولیات ملتی رہیں تو وہ آرم سے زندہ رہے گا اور پھر ایک وقت آئے گاجب وہ مر جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو فکر کی کیا بات تھی، لیکن بات یہ ہے کہ سانس کی آمد ورفت کے درمیان ایک نازک سا وقفہ اس کی سوچ میں ایک خلا پیدا کرتا ہے اور اس خلا میں افکار، تصورات، تخیلات، التباسات اور اوہام کا دریابہتا رہتا ہے۔ یہ بہاؤ اس کا مادی دنیا کے ساتھ تعلق تبدیل کرتا رہتا ہے۔ یہ تعلق ، جس کی جہت غیر متبدل نہیں ہے، اس کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ اپنے من کی دنیا کو دو جہتوں میں تبدیل کر لیتا ہے... ایک یقین کی دنیا اور ایک گمان کی دنیا۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *