میں ایک جھینگا ہوں

شہزاد غیاث

مجھے لبرل اقدار نے کرپٹ کر دیا ہے ۔ یہ اقدار اظہار رائے کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی پہچان ہے لیکن مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ میرے اندر ظلم کا نشانہ بننے سے بچنے کی خواہش اپنے خیالات کے اظہار کی خواہش سے زیادہ مضبوط ہے۔ اب میری آنکھیں کھل گئی ہیں اور مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حالت واحد درست حالت نہیں سمجھی جا سکتی۔ ریاست کی ناراضگی سے بچنے کے لیے میں نے اپنا رئیل سٹیٹ فروخت کر دیا ہے۔ لبرل اقدار کو اپنانے کے لیے میں نے عوام سے معافی مانگنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ عام معافی صرف سیاستدانوں کی قبول ہوتی ہے لیکن پھر بھی میں کوشش کرنا چاہتا ہوں۔

Image result for ‫جھینگا‬‎

شاید مجھے چاہیے کہ پہلے میں اپنے چہرے پر داڑھی رکھ لوں اور پھر معافی مانگوں تا کہ میرے الفاظ میں زیادہ وزن ہو لیکن چونکہ ابھی عمران خان زندہ ہیں ا س لیے مجھے نہیں لگتا کہ داڑھی رکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو گا۔ افلاطون کے غار سے نکل آنا ایک بہت بڑی غلطی تھی ۔ سورج ایک جھوٹ ہے اور میں انڈر ورلڈ کے اندھیرے میں گم ہو جانا چاہتا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جو میں سائے دیکھتا ہوں یہ سچائی کا عکاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی چیز حقیقت نہیں کہلا سکتی۔ سول آزادیوں کو بھول جائیں۔ میں تو لاہور کے لبرٹی راؤنڈ اباؤٹ کی حفاظت میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

آپ جائیں اور کسی بھی ثقافتی نشانی کو مٹا کر اس پر اورینج لائن ٹرین چلائیے۔ ایسی میٹرو بس چلائیں جو بادشاہی مسجد کے اندر سے گزرتی ہو۔ اگر آپ ایک دھاتی کنٹینر میں بیٹھ کر کیپیٹلسٹ سسٹم کی خدمت کر سکتے ہیں تو ثقافت، تاریخ اور کھلی ہوا کی کس کو فکر ہے۔ میں نے اب حکومت کے معاشی پلان کی قدر کا اندازہ لگایا ہے۔ میں ان کسانوں کے بارے میں اب بات نہیں کروں گا جن کا استحصال کیا جا رہا ہے نہ ہی اس زمین کی بات کروں گا جس پر آپ قبضہ کر کے پاکستان کو اپنے بین الاقوامی دوستوں کے لیے بہتر پراڈکٹ بنا سکتے ہوں۔ اس سے سب سے زیاہ متاثر ہونے والے لوگ پاکستانی ہیں اور پاکستانی دنیا کے نکمے ترین لوگ ہیں۔

Fatima Jinnah Women University lecturer Salman Haider has gone missing from Islamabad. PHOTO: FACEBOOK

کامیابی کسی قیمت پر ملتی ہے اور چونکہ میں قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں اس لیے مجھے کچھ اور راستہ ڈھونڈنا ہو گا۔ لاکھوں لوگوں نے اس بہترین وطن کے لیے قربانیاں دیں۔ اب مزید ہم کچھ ہزار لوگوں کی قربانیاں کیوں نہیں دے سکتے تا کہ اس وطن کو زیادہ عظیم بنا سکیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نئی پالیسی اس وطن کو دوبارہ عظیم بنانا ہے اور میں اس پالیسی سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں۔ جب بھی میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہوں گا تو اپنے منہ کو سی لینے کے لیے میں نے بہت بڑی تعداد میں ڈکٹ ٹیپ منگوا لی ہے۔ آج کل آرا کو کچھ زیادہ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

کسی کو رائے دینے پر اغوا کر لینا مناسب سزا نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم میرے بیوقوف لبرل دوست یہ کب سمجھ پائیں گے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ لوگ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں لیکن ابھی انہی لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ لبرل پالیسی یا یہی نقص ہے۔ اگر لبرل حضرات کو اغوا کر لیا جائے تو کوئی ان کے لیے آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے تھے۔ میں ایک جیتا ہوا کھلاڑی ہوں۔ جب میں ہاری ہوئی گیم دیکھتا ہوں تو اپنا راستہ بدل لیتا ہوں۔ میں لبرلز کے اس ڈوبے ہوئے ٹائٹینک میں سوار ہونے سے پہلے سو بار سوچوں گا۔

اب میں حبیب جالب کی شاعری نہیں پڑھوں گا اور مجھے اب یقین ہے کہ 'چین اپنا یار ہے اس پہ جان نثار ہے'۔ میں تمام سیاسی رہنماوں سے پیار کروں گا اور خود اپنی شاعری بھی لکھوں گا کہ 'نون لیگ اپنا یار ہے اس میں چوہدری نثار ہے'۔ اب بھی اگر آپ کو میری حب الوطنی پر یقین نہیں تو میں ایم ایس پینٹ پر کارٹون بنا کر یہ دکھانے کی کوشش کروں گا کہ میں کس قدر اس ملک سے پیار کرتا ہوں۔ میں تمام انڈین فیس بک پیجز پر جا کر ان کو گالیاں دوں گا۔ میں ویرات کوہلی کو کبھی اچھا بیٹسمین تسلیم نہیں کروں گا۔ شاہد آفریدی ویرات کوہلی سے کہیں بہتر تکنیک کے مالک ہیں۔

مساوات ایک جھوٹ ہے۔ دنیا غیر مساوی ہے۔ لبرلزم ایک جھوٹ ہے۔ سچ صرف ہمارا وجود ہے۔ میں اس ہوبسین ڈراؤنے خواب میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس دنیا میں کتے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ کراچی میں کتوں کے ہولو کاسٹ کے زریعے مشقیں کی جا رہی ہیں۔ اب آپ کے پاس 2 ہی آپشنز بچی ہیں۔ یا تو آپ اپنی اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کرو یا اپنی زندگی بچاؤ۔ آپ کے پاس فیصلہ کرنے کا تو اختیار ہے۔

اگر مجھے اغوا کرنا ہے تو مجھے ان الفاظ کے ساتھ یاد رکھا جائے: "پہلے تو وہ کتوں کو اٹھانے آئے اور میں نہیں بولا کیونکہ میں کتا نہیں تھا۔ (میری سابقہ گرل فرینڈ اس بات سے اتفاق نہیں کرتی)۔ پھر وہ اقلیتوں پر حملہ آور ہوئے لیکن میں نہیں بولا کیونکہ مجھے حقوق حاصل تھے۔ تب وہ لبرل لوگوں کو اٹھانے لگے تو میں بھی لبرل لوگوں کے خلاف ہو گیا کیونکہ میں غدار ہوں۔ تب وہ تمام انسانوں کو اٹھانے لگے اور میں نے اپنی ریڑھ کی ہڈی نکال پھینکی کیونکہ میں ایک جھینگا تھا۔ مجھے اغوا مت کرو کہ میں ایک جھینگا ہوں۔ "

http://tribune.com.pk/story/1291325/dont-kidnap-im-not-liberal/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *