ٹرمپ کی پسند مونیکا نے اپنی کتاب کا زیادہ تر مواد چوری سے حاصل کیا

اینڈریو کیزنسکیtrump n monica

کنزرویٹو مصنف اور ٹیلیویژن کی مشہور شخصیت  مونیکا کرولی جنہیں ٹرمپ  نے اپنا نیشنل سکیورٹی کمیونیکیشن کا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے نے 2012 میں لکھی جانے والی کتاب کا بہت سے مواد چوری کیا تھا۔ یہ انکشاف سی این این کے فائل کے ریویو میں کیا گیا ہے۔ مونیکا کی کتاب 'What The (Bleep) Just Happend' میں ریویو کے دوران 50 سے زیادہ بار نقل شدہ مواد سامنے آیا ہے۔

 انہوں نے یہ مواد مختلف ذرائع سے لیا ہے جس میں نیوز آرٹیکلز، کالمسٹ، تھنک ٹینک، اور وکی پیڈیا شامل ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر جو ہارپر کولنز امپرنٹ براڈ سائیڈ بکس نے شائع کی میں کوئی ببلیوگرافی موجود نہیں ہے۔ اس معاملے میں جب کرولی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں  نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس ہفتے اپ ڈیٹ میں ہارپر کولنز نے کہا ہے کہ کتاب کی فروخت فوری طور پر روکی جا رہی ہے۔ ہارپر کولنز کے بیان کے مطابق 'جب تک کتاب میں موجود مواد کے حوالہ جات شامل نہیں کیے جاتے ہم اس کی مزید کاپیاں نہیں خریدیں گے۔'

کرولی جو ایک ریڈیو میزبان، کالمسٹ اور فاکس نیوز ڈسٹریبیوٹر تھیں  ٹرمپ کی ٹیم میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے شعبہ سے منسلک ہو کر ڈائریکٹر سٹریٹجک کمیونیکیشن کے فرائض سر انجام دیں گی۔ٹرمپ کی ٹرانیزیشن ٹیم نے کرولی کے ساتھ کھڑے رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرانزیشن ٹیم کے ایک ترجمان نے کہا: مونیکا کے قابل فخر بصیرت، اعلٰی کارکردگی، اور دوسری قابلیتوں کی وجہ سے وہ ہماری ایڈمنسٹریشن کا حصہ رہیں گی۔ " انہوں نے مزید کہا: "ہارپر کولنز جو ایک دنیا بھر کی مشہور پبلشنگ کمپنی ہے نے مونیکا کی کتاب شائع کی جو ایک بیسٹ سیلر ثابت ہوئی ۔

مونیکا کو اس معاملے میں ٹارگٹ کرنے کا مقصد محض ان پر سیاسی حملہ ہے تا کہ انہیں ملک کے معاملات پر توجہ دینے سے روکا جا سکے۔ "اپنی کتاب کے کائنیزین سیکشن میں کرولی نے پورا مواد آئی اے سی کی ویب سائٹ انویسٹوپیڈیا سے اٹھایا ہے۔ ایک موقع پر سور کے گوشت کے بہت سے بنائی جانے والی بہت سی چیزوں کی فہرست شامل کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ یہ چیزیں 2009 کے سٹیمولس کا حصہ تھیں۔ بہت سا مواد پورک بیرل سپینڈنگ میں سے اٹھایا گیا جن میں سے کچھ چیزیں 1990 کی دہائی کی ہیں۔ نقل کیے گئے مواد ایک پیڈیا ٹرسٹ ویب سائٹ پر موجود پایا گیا جو 2004 میں بنائی گئی تھی۔

 آرگنائزڈ لیبر کے عنوان سے کتاب کا ایک حصہ قانونی طور پر 2004 کے ایک آرٹیکل سے لیا گیا ہے جو لبرٹیرین تھنک ٹینک نے لکھا تھا جسے مائزز انسٹیٹیوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ٹارچر کے عنوان سے موجود کتاب کا حصہ فاکس نیوز آرٹیکل سے لیا گیا ہے۔ نیشنل ریویو کے مصنف اینڈریو سی میکراتھی کے آرٹیکلز میں سے بھی بہت سی معلومات لی گئی ہیں جب کہ یہ مصنف کرولی کے دوست رہ چکے ہیں۔ نیشنل ریویو کے رِچ لوری، مِچل مالکن، سٹیفن مور، کارل روو، رامیش پنورو،اور بلوم برگ ویو سے بھی بہت سے جملے جوں کے توں اٹھا لیے گئے ہیں۔ کچھ ایسے ہی اقتباسات ایسوشئیٹڈ پریس، دی نیو یار ک ٹائمز، پولیٹیکو، دی وال سٹریٹ جورنل، دی نیو یارک پوسٹ، دی بی بی سی اور یاہو نیوز سے بھی لیے گئے ہیں۔

 اس سے قبل بھی کرولی پر نقل کرنے کے الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ 1999 میں سلیٹ نے کرولی کا ایک کالم  دی وال سٹریٹ جرنل میں شائع کیا جو 1988 کے ایک آرٹیکل بعنوان 'کمنٹری' سے ملتا جلتا تھا۔ جرنل کے ایڈیٹر نے اس وقت جواب میں کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ آرٹیکل اس میگزین آرٹیکل کے جیسا ہے تو ہم کبھی نہیں چھاپتے۔ اس وقت کرولی نے نقل کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا: میں نے کوئی چیز کاپی نہیں کی۔ میں کبھی حوالہ دیے بغیر کسی کا مواد اپنی تحریروں میں شامل نہیں کرتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *