فرش پہ تڑپتی جنت

baba-jevna

ایک لمحے کے لیے آپ ذرا اپنی آنکھیں بند کریں،اور خود کو کسی سرکاری ہسپتال میں کھڑا محسوس کریں،اور ایک ایسا منظر اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ دسمبر جنوری کی سخت سردی میں کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوں جس کا علاج فوری اور جلد از جلد ہونا بہت ضروری ہو ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے جان بھی جا سکتی ہو آپ ہسپتال کے عملے کی منت سماجت کر رہے ہوں اور کوئی آپ کی بات پہ کان نہ دھرے آپ خود کو بے یا رو مدد گار پائیں،ابتدائی طبی امداد تو درکنار آپ کو اپنی والدہ محترمہ کے لیے بیڈ تک نہ دستیاب ہو اور وہ عظیم ہستی ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پہ لیٹی ہوں،آپ اپنی والدہ کا سر مبارک اپنی گود میںرکھے ان کی آنکھوں میں موت کا ڈر دیکھ رہے ہوں۔آپ کے چہرے سے چھلکتی مایوسی آپ کی ماں کو جھوٹا دلاسہ تک نہ دے پارہی ہو ،آپ کی جنت آپ سے سوال کرے کہ بیٹا مجھے دوائی نہ دے مجھے بس اس ٹھنڈے فرش سے اٹھا مجھے کسی بیڈ پہ لٹا دے ۔پتر مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ ،آپ اپنے اشکوں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوں،آپ کی آنکھو ںسے اشکوں کا ایک سیلاب امنڈ آئے اور آپ کی والدہ وہ عظیم ہستی جس نےآپ کی پرورش کے لیے جس نے اپنے منہ کا نوالہ تک آپ کو کھلا دیا ہو،جو سردیوں کی راتوں میں آپ کی گیلی  جگہ پہ خود لیٹ گئی ہو اور آپ کو خشک جگہ لٹا یا ہو ،جس نے آپ کی خوشیوں کے لیے منتیں مانی ہوں،وہ آپ کی آنکھوں سے محرومی اور بے بسی سے گرتے آنسو دیکھ کر برداشت نہ کر پائے اور اپنی جان خالق حقیقی کے سپر کردے موت کی آغوش میں جاتے وقت بھی اس ماں کا ہاتھ آپ کے آنسو پوچھنے کے لیے آپ کی آنکھوں کی طرف اٹھے اور آپ کی آنکھوں تک پہنچنے سے پہلے ہی بے جان ہو کر آپ کی گود میں گر جائے ،اگر ایک زندہ ضمیر اور درد دل رکھنے والا انسان ایسا سوچے گا تو یقینا اس کی روح کانپ جائے گی ،اس کے جسم میں جھرجھری پید اہوگی ،ایسا سوچ کے ہی آنکھوں سے اشک جاری ہو جائیں گے ،او ر آپ ایک بار پلٹ کے اپنی ماں کی طرف ضرور دیکھیں گے اگر وہ آپ کے پاس ہیں تو،اگر دور ہیں تو فون کر کے ان کی آواز ضرور سننا چاہیں گے -aurat

ایسا فرض کرنے سے اگر ایسی حالت ہو سکتی ہے تو سوچیے ذراا س بیٹے کا جس کے ساتھ یہ حادثہ چند دن پہلے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں پیش آیا ،جس کی ماں سردیوں کے سخت موسم میں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پہ بیڈ نہ ملنے کی وجہ سے ٹھٹھرٹھٹھرکے موت کے منہ میں چلی گئی ،ہماری حکومت کے تمام عوامی خدمت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے صرف حکومت اور ہسپتال کے عملے کو ہی الزام دینا کافی نہیں ہے ، ہم پوری قوم احساس کے جذبے سے خالی مٹی کے بے جان بت بن چکے ہیں کیا پورے ہسپتال میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں تھاکہ زمین پہ تڑپتی کانپتی ایک ماں کو دیکھ کے جس کی پیشانی پہ پسینہ آگیا ہو ،کیا پورے اس وارڈ میں کوئی ایک بھی بیڈ ایسا نہیں تھا جس پہ اس لاچار ماں کے لیے جگہ نہ بنائی جاسکتی ہو ،سب کچھ ممکن تھا لیکن ہم صرف اپنی ماں کو ماں تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وزیر کی ہو یا فقیر کی ماں تو ماں ہوتی ہے، میں نے تو جانوروں کو بھی دیکھا ہے جب جانوروں کے غول میں کوئی جانور کسی حادثے کی وجہ سے زخمی ہو جاتا ہے تو دوسرے جانور بھلے ہی اس کے لیے کچھ نہیں کر پاتے ہوں لیکن اس کے قریب جا کے اسے سونگھتے اور اپنے ہونے کا احساس ضرور دلاتے ہیںاے اشرف المخلوقات یہ تونے کیا کر دیا ایک غریب ماں علاج کی غرض سے آئی ہسپتال کے فرش پہ پڑی کسی انسان کا انتظار کرتی رہی لیکن اس کا انتظار ختم ہی نہ ہوا اور وہ ہم جیسی جانور صفت اولاد سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ناراض ہوکے اپنے اس خالق کے پاس چلی گئی جو ستر ماﺅں سے زیادہ اپنی مخلوق سے پیار کرتاہے ،ہم روز حشر کیا منہ لے کے اس اپنے خدا کے سامنے جائیں گے، ہمارے مذہب میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ،اب اس حادثے کو انسانیت کا قتل کہوں،ہسپتال کے عملے کی بے حسی کہوں،یا محض ایک حادثہ ہی کہوں میں اسے کوئی بھی نام دے دوں لیکن یہ وقوعہ ہمیں مجبور کرتا ہے ان ماﺅں کے بارے سوچنے پہ جن کا اگر کسی وجہ سے جی گھبرا جائے تو ان کی سانس انگلینڈ ،امریکہ ،فرانس اور دبئی کے پُر فضاءمقامات پہ جا کے بحال ہوتی ہے،جس ہسپتال میں یہ زندہ روحوں کو تڑپا دینے والا حادثہ ہوا اس کی بنیاد رکھنے سے لے کے آج تک جتنے بھی لوگوں نے اس کی تعمیر کی مد میں ملنے والے فنڈز میں خرد برد کی وہ سب اس انسانیت کے قتل میں ملوث ہیں اور قیامت کے دن اس غریب ماں کا ہاتھ ان کے کفن کے گریبان میں ہوگا ،مجھے ترس آتا ہے ایسی اولادوں پہ جو دنیاوی آسائشوں کے حصول کے لیے چوری چکاری ،لوٹ کھسوٹ ، دوسروں کی حق تلفی،رشوت ستانی اور سرکاری خزانوں میں خورد برد کی لعنت می ںدن بدن دھنستے جارہے ہیں اور اپنے والدین کے سامنے اپنی کامیابیوں کے ڈنکے بجا رہے ہیں، جس قوم کی مائیں اس طرح ظلم کا شکار ہونے لگیں اس قوم میں پھر مسیحا پیدا نہیں ہو ا کرتے بلکہ ایسی اقوام زوال پذیر ہو جایا کرتی ہیں -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *