آنکھیں کھولو متروکہ وقف املاک بورڑ

ظہیر حسین شاہ

zaheer-hussain-shah

خداوند عالم نے اپنی لاریب کتاب میں انسانوں کو حکم دیا ہے عد ل و انصاف کا ، مساوات کاہر انسان کو اس کا حق دینے کا ۔ بحثیت انسان اور قوم ہم پر فرض ہے کہ ہم حق اور سچ کا ساتھ دیں ۔ عدل و انصاف اور مساوات کے زریں اور آفاقی اُصولوں پر عمل کر کے اپنا ازلی مقام جنت حاصل کریں ۔ اس وقت ملک عزیز میں متروکہ وقف املاک کے ریکارڈ کو Revisit کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ آفیسروں اور ماتحت عملہ کی نااہلی کی وجہ سے متروکہ وقف املاک کی بہت سی جگہوں پر ناجائز قبضہ ہو چکا ہے ، کتنی ہی ایسی جگہیں ؍ مکانات ؍ جائیدادیں ہیں جن کے حقیقی کرایہ دار کہیں اور جاچکے ہیں یا وفات پا چکے ہیں اور دوسرے لوگ غیر قانونی طریقوں سے وہاں قبضہ کر چکے ہیں جبکہ اکثر ملازمین جب سروے کرتے ہیں یا پراپرٹی کی دیکھ بھال کرتے ہیں غالباً مٹھی گرم ہونے کی وجہ سے چپ ہو جاتے ہیں جس سے محکمہ اور حکومت کو کافی زیادہ نقصان ہو رہا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں (گردواروں ) کو ختم کر کے غیر قانونی طور پر ان میں رہائش اختیار کیں جاچکی ہیں اور محکمہ کو کوئی کرایہ بھی ادا نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ سارا کچھ اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر ہونا ناممکن ہے لیکن اہلکا ر پتہ نہیں کیوں خاموش ہیں ۔ یہ ان کرایہ داروں کے ساتھ امتیازی سلوک اور بے انصافی ہے جو باقاعدہ محکمہ کو کرایہ ادا کر رہے ہیں محکمہ متروکہ وقف املاک کو فوراً اس بات کا نوٹس لینا چاہیے ، ضروری ہے کہ محکمہ متروکہ وقف املاک فوراً اپنی جائیداد کا قابل اور ایماندار ماہرین سے سروے کرائے اور تمام جائیداد کا ریکارڈ عدل وانصاف اورمساوات کے اُصولوں کے مطابق مرتب کرے ۔ جن لوگوں نے عبادت گاہوں ( Religious Places) کو گرایا ہے یا قبضہ کیا ہے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے ۔ خالی جگہوں پر قبضہ ختم کروا کر ان کو متعلقہ فریقین میں انصاف و مساوات کے ساتھ تقسیم کرے اور تمام جگہوں پر کرایہ لاگو کیا جائے تا کہ قومی خزانے کو فائدہ ہو
حقیقت میں کتنی ہی ایسی جگہیں ہیں جو کاغذوں میں تو Common Yard یا Court Yard ہیں لیکن وہاں ناجائز قبضے ہو کر بڑی بڑی بلڈنگز بن چکی ہیں لیکن سرکاری خزانے میں ایک پیسہ بھی جمع نہیں ہو رہا ہے ، ہر ماہ محکمہ کا عملہ بل دیتا ہے اور پتہ نہیں کیوں خاموش رہتا ہے ۔ آخر کیوں محکمہ عد ل و انصاف اور سرکاری خزانے کو فائدہ پہنچانے کی بجائے خاموش ہے ۔

Image result for Evacuee Trust Property Board ETPB Lahoreمحکمہ کے افسران نے پتہ نہیں کیسے ، کس قانون اور Logic کے تحت ایک ہی فرد کو 3,3, ، 4,4 جگہیں الاٹ کر دی ہیں ۔اس طرح کتنی ہی ایسی جائیدادیں اور جگہیں ہیں جن پر ایک ہی فرد نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ ایسے ہی کتنی ایسی جائیدادیں جن کا اچھا خاصہ کرایہ سرکاری خزانے میں جمع ہونا تھا ، ان جائیدادوں پر ناجائز قبضہ ہے ، لہذا ضروری ہے کہ محکمہ فوری طور پر عدل و انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے تحت اپنی تمام جائیدادکا سروے کروائے اور پھر نیلامی کے ذریعے جو سب سے زیادہ کرایہ دے اسے وہ جگہ الاٹ کی جائے اس طرح محکمہ اور قومی خزانے کو فائدہ ہو گا ۔
محکمہ کی کارکردگی کیلئے اپنا ذاتی اور حقیقت پر مبنی تجربہ اور واقعہ تحریر کر رہا ہوں تا کہ سچ اور حق سب کے سامنے آئے ۔ پراپرٹی نمبر 1-638 رسول نگر تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرنوالہ میں ایک عدد مذہبی عبادت گاہ Religious Place کو گرا کر رہائش اختیار (قائم ) کی گئی ہے لیکن محکمہ کو کسی قسم کا کوئی کرایہ ادا نہیں کیا جا رہا ہے ، اسی طرح محکمہ کے کاغذات میں جگہ Common Yard لکھی ہوئی ہے جبکہ جگہ پر قبضہ کر کے جگہ کو رہائش میں شامل کیا گیا ہے ، لیکن کرایہ اتنا ہی ہے ۔ اسی طرح اس پراپرٹی میں ایک ہی فرد کو ایک سے زیادہ پراپرٹیز الاٹ کی گئیں ہیں ۔ اسی پراپرٹی میں واقع دو عدد کامن رومز جو تمام مکینوں کے دکھ سکھ میں کام آتے تھے ان کو گرا کر اس کا ملبہ فرد غبن کر چکا ہے ۔ جبکہ محکمہ صرف اور صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہے ، اس طرح اس پراپرٹی کا ایک عدد Court Yard جو کہ اہل علاقہ کی غمی و خوشی میں کام آتا تھا اس پر نا جائز طریقے سے قبضہ کر کے مکانات بنائے گئے ہیں اور ظلم پہ ظلم یہ کہ کسی قسم کا کوہی کرایہ بھی ادا نہیں کیا جا رہا ہے ، ابھی حالیہ دنوں میں Court Yard کی کچھ بچی ہوئی جگہ پر بھی ناجائز دیوار تعمیر کر کے قبضہ کر لیا گیا ۔ تعمیر جوں کی توں قائم ہے ، ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ Court Yard بازار کے ساتھ ملحق ہے اگر تمام ناجائز تعمیرات ختم کروا کر اوپن نیلامی کے ذریعے جگہ کرایہ پر دی جائے تو محکمہ کو اچھا خاصا روپیہ حاصل ہو گا جس سے قومی خزانے کوبھی فائدہ ہو گا ، یہ صرف ایک مثال اور نمونہ ہے باقی پورے ملک میں اللہ جانے ۔ ان تمام اقدامات کے خلاف اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک گوجرانوالہ کو اپریل 2016 میں درخواست دی گئی جو کہ تا حال انصاف کی راہ ’تک‘ رہی ہے ۔
اگر محکمہ متروکہ وقف املاک اصلاحات نہیں کرتا ، عدل و انصاف اور مساوات نہیں کرتا تو اس کو ختم کر کے اس کی تمام جائیداد کسی اور محکمہ کے سپرد کر دینی چاہیے ، جو بہتر طور پر جائیداد کا خیال رکھ سکے جس سے ملکی خزانے اور ریاست کو فائدہ ہو ۔ )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *