پارک لین فلیٹس۔حقائق کیا ہیں؟

حذیفہ رحمان

huzaifa rehman

ہمیں حق بات کہنے کا حکم ہے اور آج کل حق بات کہنا ہی بے انتہامشکل ہوگیا ہے۔مخالف نقطہ نظر رکھنے والے انسان کا سب سے پہلا حملہ ہی آپکی ذات پر ہوتا ہے۔مگر حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا اور ظالم کا ہاتھ روکنا بھی جہا د ہے۔آجکل تمام ملکی اشاعتی و نشریاتی اداروں میںلندن کے پارک لین فلیٹس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے اہم مرحلے پر برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیقاتی خبر آنا ایک غیر معمولی بات ہے۔طے کیا تھا کہ پاناما کیس کی سماعت کے دوران اس کے حوالے سے کچھ تحریر نہیں کرونگا مگر چونکہ آج ملک کے متعدد اخبارات میں برطانوی خبر کا حوالہ دے کر پارک لین فلیٹس کے حوالے سے ایک پہلو کو تذکرہ کیا گیا ہے تو بطور صحافی میری ذمہ داری ہے کہ آج پارک لین فلیٹس کے حوالے سے تمام حقائق قارئین کے گوش گزار کروں۔
برطانوی اشاعتی ادارے کی تحقیقاتی خبر میں کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔مجھے یاد ہے کہ دی نیوز کے تحقیقاتی صحافی احمد نورانی نے چند ماہ قبل انتہائی تفصیل سے انہی دستاویزات اور معلومات پر خوب لکھا تھا۔گزشتہ روز چھپنے والی خبر میں کچھ ایسا نیا نہیں تھا ،جو برادرم احمد نورانی کی خبر سے کچھ مختلف ہوتا۔برطانوی اشاعتی ادارے کی خبر کے مطابق پاناما لیکس میں سامنے آنے والی دو آف شور کمپنیوںنیلسن او ر نیسکول نے لندن کے پوش علاقے مے فیئر میں 90کی دہائی میں فلیٹس خریدے تھے اور تب سے لے کر آج تک ان کی ملکیت تبدیل نہیں ہوئی۔بی بی سی کی سرکاری دستاویزات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مے فیئر فلیٹس کے اسی بلاک میں ایک اور فلیٹ 12اے بھی ہے۔جو ایک برطانوی کمپنی فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے اور وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔جبکہ اس کمپنی نے یہ فلیٹ 29جنوری 2004میں خریدا تھا ۔برطانوی خبر کا یہ بھی کہنا ہے کہ حسن نواز نے اپنی فلیگ شپ سمیت دیگر کمپنیوں جن میں کوئنٹ پیڈنگٹن،کوئنٹ گلاسٹر،فلیگ شپ سیکوریٹیزاور کیو ہولڈنگز پر بھی پارک لین فلیٹ کا پتہ ہی درج کیا ہوا ہے۔جبکہ دستاویزات کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ مے فیئر میں پہلا فلیٹ سترہ ایون فیلڈ ہاؤس یکم جون 1993کونیسکول لمیٹڈ نے خریدا تھا۔جبکہ ایون فیلڈ ہاؤس کی عمارت میں دوسرا فلیٹ نمبر سولہ اکتیس جولائی1995کو نیلسن انٹرپرائز لمیٹڈ نے خریدا اوراسی عمارت میں تیسرے فلیٹ 16Aکی خریداری بھی اسی تاریخ کو نیلسن کمپنی نے ہی کی۔جبکہ چوتھا فلیٹ 17A بھی تیئس جولائی 1996کو نیسکول لمیٹڈ نے خریدا۔یوں یہ چاروں فلیٹ نیلسن اور نیسکول کی ملکیت1990کی دہائی میں بنے اور آج یہ دونوں کمپنیاں وزیراعظم کی بچوں کی ملکیت ہیں۔خبر سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ90کی دہائی سے وزیراعظم کے بچے ان فلیٹس کے مالک ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مئے فیئر کے ان فلیٹس کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کے ایک رہنما جو ایف آئی اے میں بھی ملازم رہے ہیں۔انہوںنے اپنی جلاوطنی کے دوران ان پر خوب تحقیق کی تھی۔جس پر بعد میں برطانوی نشریاتی ادارے کی مدد سے دستاویزی فلم بھی بنوائی گئی تھی۔مگر کچھ نہیں نکل سکا۔سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں احتساب کے اداروں نے انہی فلیٹس کو جواز بنا کر بڑے پیمانے پر تحقیق کی مگر تب بھی ہاتھ کچھ نہیں آیا۔آج برطانوی نشریاتی ادارے کی جس خبر کا حوالہ بار بار دیا جارہا ہے۔اگر اسی کو درست مان لیا جائے تو تب بھی تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا گیا ہے۔جس کا مقصد صرف سپریم کورٹ کے کیس پر اثر انداز ہونابھی ہوسکتا ہے۔مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ وزیراعظم کے بچے 90کی دہائی سے ان فلیٹس میں بطور کرائے دار رہ رہے تھے۔2006میں جب ان فلیٹس کو خریدنے کا فیصلہ ہوا تو نئی کمپنیاں بنانے کے بجائے انہی کمپنیوں(نیلسن اور نیسکول) کو خرید لیا گیا ۔جن کے نام یہ فلیٹ تھے۔برطانیہ اور یورپ اکثر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔اس لئے قارئین کو بہتر بتا سکتا ہوں کہ لندن اور یورپ میں زیادہ تر جائیدادیں افراد کے بجائے کمپنیوں کے نام ہوتی ہیں تو جب 2006میں نیلسن اور نیسکول کو ہی خرید لیا گیا تو کمپنیوں کے اثاثوں میں جو فلیٹ تھے وہ بھی وزیراعظم کے بچوں کی ملکیت میں چلے گئے۔یہ بات صرف یورپ،لندن ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ہوتی ہے کہ آپ جس گھر میں ایک طویل عرصے سے کرائے پر رہ رہے ہوں تو اس سے ایک جذباتی وابستگی ہوجاتی ہے اور انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے معقول پیسوں میں خرید لیا جائے۔اس لئے کئی سال تک کرائے پر رہنے والے فلیٹ کا مالک بن جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔اسی طرح مختلف کمپنیوں کے فارم میں رہائش خانے میں اسی جگہ کا پتہ درج کرایا جاتا ہے،جہاں پر آپ رہ رہے ہوتے ہیں اور بہتر خط و خطابت کرسکتے ہیں۔ہمارے اپنے کئی ایڈریس ایسے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہیں لیکن ہماری وہاں پر رہائش ضرور ہے۔اسی طرح سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب کے بیٹے ارسلان پر جب تنقید کی جارہی تھی تو ناقدین کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ انہوں نے رہائشی خانے میں سرکاری گھر کا ایڈریس لکھا ہے۔تو بھئی جب آپ کا اس شہر میں ملکیتی گھر کوئی نہیں ہوگا تو پھر آپ اپنی سرکاری یا کرائے کی جگہ کو ہی رہائشی پتہ بتائیں گے ۔یہ ایک آسان سی بات ہے۔اس لئے خط و خطابت کے لئے کسی جگہ کا ایڈریس لکھنا اس چیز کا ثبوت نہیں ہے کہ یہ آپ کی ملکیت ہے۔بلکہ مجھے یاد ہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید جب سینیٹ کا الیکشن لڑ رہے تھے تو ایک شخص نے ان کے خلاف ایک درخواست جمع کرادی کہ پرویز رشید10گھروں کے مالک ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید خود بھی ہل گئے کہ دس گھر وں کا نزول کہاں سے ہوگیا۔کیونکہ پرویز رشید اس ملک کے ان چند سیاستدانوں میں ہیں۔جن کی ساکھ اور ایمانداری پر حریف بھی انگلی نہیں اٹھاسکتے۔تین سال سے زائد موثر وزیر ہونے کے باوجود وزراکالونی میں رہنے کے بجائے ایک عام سے سادہ کمرے میں رہنے والے کی کیا ساکھ ہوگی؟ قارئین بہتر اندازہ کرسکتے ہیں۔بہرحال جب معاملے کی تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ درخواست گزار نے ان دس گھروں کے حوالے اور پتے دئیے ہیں ،جن میں پرویز رشید مختلف ادوار میں بطور کرائے دار کی حیثیت سے رہتے رہے ہیں۔لیکن آج پاناما کیس نے وزیراعظم کو یہ سوچنے پر تو مجبور کردیا ہوگا کہ اپنے آپ کو بری جان کر کسی بھی ایشو کو نظر انداز(unattended)نہیں کرنا چاہئےاور جب آپ پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت قتل کا مقدمہ درج ہوجائے،چاہے و ہ سراسر جھوٹاہی کیوں نہ ہو تو پھر یہ سمجھ کر لڑیں کہ آپ نے قتل کیاہے،تب ہی مقدمے سے باعزت بری ہونگے۔اگر یہ سمجھتے رہیں گے یہ معاملہ جھوٹا ہے اور میں بری ہوجاؤنگا تو ایسا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *