غیرشادی شدہ عورت سماج کے لیے مسئلہ کیوں؟

farah kamalٖفرح ایس کمال
ہم میں سے اکثر لوگوں نے اپنے گھروں میں ایک صدا کی کنواری پھوپھو یا خالہ کو ضرور دیکھا ہو گا جی ہاں وہی جن کی شادی نہیں ہوتی۔ شادی نا کرنے کی اُن سب کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں اور اُن کو گھرمیں بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اُن میں سے کچھ کے پاس اچھی نوکری ہوتی ہے اور وہ خوشدلی سے اپنا پیسہ اپنی بھتیجیوں اور بھانجوں پہ خرچ کرتی ہیں۔ کبھی بھی ہم اُنہیں اُن کی خود کی زندگی گزارتے نہیں دیکھتے نا ہی گھر اور نوکری سے باہر اُن کی کوئی زندگی ہوتی ہے اور اپنی زندگی کے ہر معاملے میں وہ اپنے گھر والوں پر ہی انحصار کرتی ہیں۔
اب یہ سوچیں کہ وہ اپنا کمرہ یا تو اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ بانٹتی ہیں یا پھر کسی بچے کے ساتھ، اس کے ساتھ ساتھ مہمان بھی ہمیشہ اُن کے ہی کمرے میں ٹھہرتے ہیں اور اس کے علاوہ گھر کا بچا کچھا سامان بھی اُسی کمرے میں رکھا جاتا ہے۔وہ صرف گھر والوں کے ساتھ ہی گھر سے نکلتی ہیں اور وہی کرتی ہیں جو باقی گھر والے اُن کو کرنے کو کہتے ہیں۔جب اُن کے بھائی بھابھی کہیں باہر جاتے ہیں تو گھر اُن کے بچوں کا خیال بھی یہی رکھتی ہیں۔ادھر اُدھر کے رشتے داروں سے ملنے کی ذمہ داری بھی اُنہی کی ہوتی ہے۔اپنے خود کے دوستوں کے لیے اُن کے پاس کوئی ٹائم نہیں ہوتا اور ویسے نھی وہ ساری شادی شدہ ہوتی ہیں اور اُن کی زندگیوں کے مسئلے مختلف ہوتے ہیں۔
لیکن یہ پھر بھی خوو قسمت عورتیں ہوتی ہیں کہ ان کی تعریف تو ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا میں کچھ عورتیں ایسی بھی ہیں جن کو عورت سمجھا ہی نہیں جاتا اور جن کو شادی کے قابل نا ہونے کا طعنہ دے کر اذیت دی جاتی ہے اور یہ لڑکیاں اسلیے شادی نہیں کرتیں کیونکہ اُن کو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنی ہوتی ہے۔
اگر یہ پڑھ کر آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ نہیں ایسا نہیں ہوتا تو اطلاعاََ عرض ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔یہ وہ بدصورت سچ ہے جو گھر کی چار دیواری کے اندر پیار اور فرض کے پردوں کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔اس سچ کے بارے میں بات چیت نہیں کی جاتی لیکن یہ دن بدن خوفناک ہوتا جا رہا ہے۔میں نے اپنی پوری زندگی مختلف عمر اور بیک گراؤنڈ کی لڑکیوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ اُن سب کی کہانیاں سنی ہیں اُنکی حقیقتیں جانی ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ کبھی بھی وہ حقیقت میں کسی کی زندگی کا حصّہ بنیں۔
یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے آپ کو مکمل سونپ دیتی ہیں اور صرف اطاعت ہی کرتی ہیں۔یہ وہی کرتی ہیں جو اُن کے والدین یا گھر والے چاہتے ہیں۔اُن کے گھر والوں کو لگتا ہے کہ شائد وہ ان کو دین اور دنیا دونوں کمانے کو موقع دے رہے ہیں لیکن اصل میں وہ ان عورتوں کو دیکھ کر ہنستے ہیں اور اُنہیں ناکتخدا عورت سمجھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں
’’ شادی نہیں ہوئی تو کیا ہوا ان کے پاس سب کچھ ہے۔‘‘
کوئی ان لڑکیوں سے نہیں پوچھتا کہ کیا وہ خوش ہیں یا وہ اپنی زندگی کے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔ اور مسئلہ اُن کے کنوارے رہنے کا نہیں ہے مسئلہ یہ ہے کہ اس بناء پر اُن سے اپنی زندگی کا فیصلے لینے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔
میری اپنی ایک سہیلی غیر شادی شدہ ہے جبکہ اُس کے سارے بھائی بہنوں کی شادی ہو چکی ہے ۔ اُس نے گیارہ سال اپنی بستر پر پڑی ماں کی خدمت کی اور سب اُس کو کہتے ہیں کہ
’’ اس نے اپنی ماں کی خدمت کر کے جنّت کما لی‘‘۔
اُس نے تو اپنا فرض نبھادیا لیکن باقی بھائی بہنوں کا کوئی فرض نہیں تھا یا شائد وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں اتنے مصروف تھے کہ اُن کو جنّت کمانے کا خیال ہی نہیں آیا۔
اب وہ کہتی ہے کہ
’’ اماں کے جانے کے بعد اب بھائی بھابھی کہتے ہیں کہ باہر نکلا کرو، کہیں جاؤ۔ اب میں اکیلے کیا کروں؟ کوئی دوست ہی نہیں ہے، وقت ہی نہیں ملتا تھا اور اب وقت نہیں کٹتا اسکول کے بعد‘‘۔
اُس کی عمر56سال پے اور وہ اچھا ضاصا کماتی ہے۔میں نے کہا جاؤ دنیا گھومو لیکن اُس نے مجھے ایسی بے یقینی سے دیکھا جیسے بھول ہی گئی ہو کہ گھر سے باہر بھی کوئی دنیا ہے۔
ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں لیکن عورت کے لیے کچھ نہیں بدلا۔
تھوڑی بہت شائد چیزیں بدلی ہوں مگر عمر اور شادی کو آج بھی ایک دوسر کے مقابل ہی دیکھا جاتا ہے۔تیس سال سے اوپر کی غیر شادی شدہ لڑکی کو آج بھی ہتّک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے چاہے وہ کتنی ہی پڑھی لکھی یا امیر کیوں ناہوں۔ کہانی ابھی بھی وہی ہے ابھی بھی لڑکیوں سے قربانی مانگی جاتی ہے اور اُن سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ویسی ہی زندگی گزاریں جیسی اُن کی کسی غیر شادی شدہ رشتے دار نے سالوں پہلے گزاری تھی۔ عملی زندگی میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہالیکن آج بھی اُن کی زندگیوں کے فیصلے اُن کے گھر والوں کے ہاتھ میں ہی ہیں۔اِن کو معاشرے سے چھپا کے رکھا جاتا ہے، اُن کو گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی چیز کی اجازت نہیں ہوتی۔
ایسی عورتیں مختلف سوشل میڈیا گروپس میں اپنی گھٹی زندگی کے بارے میں بات کرتی ہیں۔اُن پہ چیخا جاتا ہے اور کہا جاتاہے کہ اُنہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ عورتیں بات کرتی ہیں کہ اُن کے اُن کے بنے بنائے پلان کینسل ہو جاتے ہیں اور اُنہیں کسی تقریب میں جانے نہیں دیا جاتا۔ وہ کہتی ہیں کہ یہی اِن کی زندگی کا سب سے بڑا خلاء ہے اور وہ بدقسمتی کے جال میں پھنس چکی ہیں۔
مطلب اندازہ کریں کہ ایک 32یا34سال کی سکول ٹیچر، ٹیم لیڈر یا پراجیکٹ مینیجر اپنے گھر والوں کی منتیں کر رہی ہیں ہ اُسے اُس کی سہیلیوں کے ساتھ فلم دیکھنے جانے دیں،اُس کا موبائل چیک کیا جا رہا ہے یا اُس کے گرد کرفیو لگا ہوا ہے کہ جب بھی جانا ہے جہاں بھی جانا ہے سب کو بتا کے جانا ہے۔
ہمارے خاندانی سسٹم میں لڑکیوں کو حفاظت کی جعل سازی کر کے گھر میں بٹھایا جاتا ہے اُن کی آزادی کو سلب کیا جاتا ہے۔سب کو لگتا ہے کہ کہیں یہ خاندان کے نام پر دھبہ نا لگا دیاں۔ یا پھر ’’ لوگ کیا کہیں گے‘‘ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے۔ ایسیے ہی ظلم کی شکار عورتیں کہتی ہیں ہہ اُن کا گلی مں جاک اہنچا اہنچا رونی یا چیخنے کا جی چاہتا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ الدین اپنے بچوں کے بارے میں پریشان رہتے ہیں اور اُن کو خیریت سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ اُن کو اپنی تربیت پر بھی بھروسہ کرنا چاہیے۔اگر ایک عورت کی شادی نہیں ہورہی اور اُسے پتہ بھی نہیں کہ کبھی ہو گی بھی یانہیں تو ساری عمر آپ اُسے قیدی بنا کے تو نہیں رکھ سکتے نا۔
مطلب اگر لڑکی باہر جائے یا پیسہ کما کے لے آئے اور اپنی تنخواہ آپ کے ہاتھ پر رکھے تو یہ اصل میں آپ کا ہی احسان ہے اُس پر تو آپ کو شرم آنی چاہیے۔ عورت کی آزادی کو کوئی دھمکی یا بری بات نا سمجھا جائے۔ اگر ایک عورت کی شادی نہیں ہوتی تو کیا ہوا وہ ایک سمجگدار بالغ عورت ہے، اُس کو آزادی ملنی چاہیے، اُس کو آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ٖفیصلے لے سکے۔ وہ عورت آپ کی ملکیت نہیں ہے اور اُس پر روک ٹوک یا اُس کے حقوق کو پامال کرنا ظلم ہے۔
اگر ہم اپنی عورتوں کے ساتھ سرکس کے جانوروں جیسے سلوک کو روکنا چاہیے نہیں تو ہمارے ملک میں پڑھے لکھے پاگلوں کی تعداد میں ا ضافہ ہوتا رہے گا۔ والدین اور گھر والوں کو اپنی بیٹیوں پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیٹیاں اپنی زندگی میں کچھ بن سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *