رئیلٹی چیک

ڈاکٹر نعمان نیاز

Image result for Dr Nauman Niaz

میں نے دی نیشن میں چھپنے والا ایک بلاگ پڑھا جس کا عنوان تھا: 'محترم ڈاکٹر نعمان اور یحیی حسینی، آپ کی مصباح کی ٹیم پر تنقید بلا جواز ہے'۔یہ بلاگ 11 جنوری 2017 کو شائع ہوا۔ میں جواب نہیں دینا چاہتا تھا لیکن شاید بلاگ کے رائٹر ایک حقیقی امپریشن دینے کی کوشش کر رہے تھے یا پھر مجھ سے کوئی پرانا حساب چکانا چاہتے تھے اس لیے میں نے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ویسے تو جو انہوں نے لکھا تھا وہ حقیقت سے کوسوں دور تھا کیونکہ انہوں نے اس بلاگ میں میرے کردار پر بھی کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے تو میں قارئین کو بتا دوں کے میرے خلاف آج تک جنسی حراست کا کوئی کیس درج نہیں ہوا۔

ایک خاتون نے نوکری سے نکالے جانے پر البتہ میرے خلاف کیس درج کروایا تھا۔ چونکہ اس وقت میں پی ٹی وی سپورٹس کا ہیڈ تھا اور ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ سنڈیکیشن کے عہدے پر تھا اس لیے کیس میں میرا نام بھی شامل کیا گیا۔ کیس کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہوا کیونکہ اس کیس کا مقصد بھی ہمارے خلاف کیچڑ اچھالنا اور ہمیں اپنی بات ماننے پر مجبور کرنا تھا۔ عوام کے سامنے یہ بات لکھ کر پیش کرنا کہ مجھے عدالت طلب کیا گیا اور مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی بالکل سچ نہیں ہے ۔

جب سے میں نے 1996 سے یہ عہدہ سنبھالا ہے مجھے کسی معاملے میں تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جیسے ہی میں نے مسٹر شہروز کا نام پڑا تو اس کی پروفائل دیکھتے ہی مجھے تمام سوالوں کے جواب مل گئے ۔ ان کے پن ٹویٹ سے ہی معلوم ہو تا تھا کہ وہ بہت بُری حالت اور ڈیپریشن میں ہیں۔ اس لیے میں یہ مناسب نہیں سمجھتا کہ میں اپنے آپ کو اس کی برابری کے لیے پیش کردوں اور ان کی بیوقوفانہ باتوں کا جواب دوں۔ میرے خلاف آج تک بہت سے لوگوں نے بلاگز لکھے اور بعد میں انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں ایسا لکھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کی زبان بہت اچھی تھی لیکن اس بلاگر نے جلدی میں جو منہ میں آیا لکھ دیا اور اپنی زبان تو دور کی بات اپنے خیالات کی پاکیزگی بھی ملحوظ خاطر نہ رکھ سکا۔ آج تک کسی نے شہروز جیسے نوجوانوں کو ہمارے نقش قدم پر چلے کی تلقین نہیں کی۔

ان لوگوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ وہ جتنا بھی بُرا کریں گے ان سے ان کے ہی دامن پر داغ لگیں گے اور ان کی نسل اور والدین کی حقیقت کھلے گی۔ وہ آزادی اظہار رائے کا غلط فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلاگ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رائٹر ہماری مصباح پر تنقید سے ناراض ہے یا صرف میڈیا میں ہلچل مچانے کی کوشش میں ہے۔ اپنے آپ کو تجزیہ کار قرار دے دینا یا کسی کو تنقید کا نشانہ بنا دینا انسان کو خوبصورت نہیں بناتا۔ البتہ میں ایک والد کی حیثیت سے یہ دیکھ کر پریشان ہوتا ہوں کہ کچھ نوجوان سیدھے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور معاشرے کی تباہی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اس معاشرے اور کلچر کا حصہ ہیں اور اپنے بچوں کو اخلاقیات نہ سکھانے پر ہمیں تنقید کا سامنا کرنا چاہیے۔

ہم نے ان بچوں اور نوجوانوں کو خود بگاڑا ہے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں۔ میں نے بازید خان کو میڈیا پر آنے کا کہا اور پھر اسے موقع دیا کہ وہ اپنے آپ کو ڈویلپ کرے۔ اس نے محنت کی اور اپنا لوہا منوایا۔ اسے پی ٹی وی سی کی طرف سے ادائیگی کی کچھ شکایات تھیں۔ پریشانی میں وہ عدالت چلے گئے اور ان کا مسئلہ حل کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں پی ٹی وی سپورٹس میں آنے سے منع کر دیا گیا۔ ٹین سپورٹس اور پی ٹی وی ملک کر براڈ کاسٹ کا کام کرتے ہیں لہذا وہاں کام کرنے سے بھی بازید خان کو روکا جا سکتا تھا لیکن وہ ٹین سپورٹس گے تو انہیں موقع دیا گیا اور اب وہ بہترین کام کر رہے ہیں۔ میں پی ٹی وی کی طرف سے ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔

مظہر ارشد بھی ایک اچھے ماہر شماریات ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سپورٹس اور اس کی مینیجمنٹ کو پابندیوں میں جکڑنے کی کوشش کی تھی۔ جب وہ حد کراس کرنے لگے تو ان کی شکایت ٹین سپورٹس مینیجمنٹ کو کی گئی اور تب وہ خاموش ہوئے۔ اب بھی میں ان کی ترقی دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اتنی ترقی کریں کہ بِل فرنڈل اور بینی گرین جیسے ماہرین کو پیچھے چھوڑ جائیں۔ حیدر اظہر، ریحان الحق، حسن چیمہ اور احمر نقوی کو بھی پی ٹی وی سپورٹس میڈیا میں لے کر آیا۔ میں نے ان لوگوں کو خود میرٹ پر منتخب کیا تھا اور انہیں اپنے آپ کو بہتر کرنے کے کافی مواقع بھی دیے تھے۔ اب اگر کہتے ہیں کہ انہیں موقع نہیں دیا گیا تو یہ ان کی سوچ ہے۔ اگر وہ اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق اپنے رہنماوں کے خلاف بغاوت کا سوچتے ہیں یا طنزیہ فقرے بولتے ہیں تو ہم کیا کر سکتےہیں۔ اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگر کوئی اپنے سینیر کے بارے میں مضحکہ خیز بیان ٹویٹ کرتا ہے تو اس سے وہ یہی دکھائے گا کہ اسے اپنے سینیر کی عزت کرنا اس کے والدین نے نہیں سکھایا۔ اس کے ٹویٹ سے بھی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اب اس الزام کی بات کرتے ہیں کہ میں پی ٹی وی سکرین پر ناجائز قبضہ جمائے بیٹھا ہوں۔ آپ کو یہ سوال سپانسرز اور مارکیٹ والوں سے پوچھنا چاہیے۔ میں ایسے پر مشقت کام میں اپنا پسینہ کیوں بھاوں؟ بیرون ملک کے کرکٹ ماہرین کو پاکستان ٹیکس دہندگان کی رقم سے ادائیگی بھی ایک حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے۔ پی ٹی وی عوام کے ٹیکس پر نہیں چلتی۔ ہم اپنے مواد سے پیسے کماتے ہیں۔ بلکہ ہم پورے نیٹ ورک کے ایڈمنسٹریٹو اخراجات کے معاملے میں مالی مدد بھی کرتے ہیں۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان کا امیج بہتر کرنے اور کرکٹ کو واپس پاکستان میں لانے کے کوشش کی نیت سے بلایا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب پی ایس ایل ۲۰۱۷ کا فائنل لاہور میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو غیر ملکی کھلاڑیوں کو بلانا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ آخری بات ہے کہ مسٹر شہروز نے لکھا ہے کہ پاکستان میں پیسہ صرف کرکٹ سے آتا ہے۔ ان کی یہ بات ٹھیک ہے۔ پاکستان میں کرکٹ سے بہت زیادہ ریونیو آتا ہے۔ دوسرے سپورٹس ذرائع سے بھی کچھ رقوم ملتی ہیں لیکن زیادہ اہم کرکٹ کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ چیز صرف پی ٹی وی سپورٹس تک محدود نہیں بلکہ کوئی بھی دوسرا سپورٹس چینل دیکھ لیجیے وہاں بھی یہی معاملہ ہے۔

یحیی حسینی ایک اچھے اور تجربہ کار ساتھی ہیں جو پہلے نیوز کاسٹر تھے پھر اردو صحافی بنے اور اب اینکر پرسن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ آپ کے ان کے نظریات بھلے ہی پسند نہ آئیں لیکن انہوں نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں ٹھیک لگتا ہے۔ وہ اپنے طریقے سے معاشرے میں بہتری کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ مسٹر شہروز پاکستان کو سپورٹس براڈ کاسٹ مارکیٹ کے طور پر نہیں سمجھتے جس کی وجہ ان کی غلط معلومات ہیں۔ اس موضوع پر ہم پھر کبھی گفتگو کریں گے۔ سب سے آخر میں میں شہروز کی کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔ ہم ہمیشہ اپنے سینئیر ز کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ سینئیرز ہم سے پہلے آئے اور ہم نے ان سے ہی سیکھ کر زندگی کی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *