ڈان کے ساتھ ہماری زندگی

بشکریہ : مامون ایم عادل

جب میں نے 2007 میں نظفرین سہگل کا انٹرویو کیا تب ڈان نیوز کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن شروع ہو چکی تھی اور سہگل چینل کی سی او او تھیں۔ ان کی ایک بات میرے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈان کے ساتھ ملحق ہونا دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ لوگوں کی ہم سے توقعات بہت زیادہ ہیں اور دوسری یہ کہ ہمیں ان توقعات پر پورا اترنا ہے۔

یہ بات مجھے بہت ایماندارانہ اور ذمہ دارانہ محسوس ہوئی کیونکہ عام طور پر لوگ ایک نیا پراجیکٹ لانچ کرنے کے بہت بڑے بڑے دعوے کرتے نظر آتے ہیں خاص طور پر اگر وہ نوجوان ہوں۔ اس وقت سہگل بھی ایک نوجوان خاتون تھیں ۔ ان کی عمر 26 سال تھی۔ اس کے باوجود وہ بہت ایمانداری کا مظاہرہ کر رہی تھیں اور غیر حقیقی دعووں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں جو اکثر لوگ پر اعتماد دکھانے کی کوشش میں کرتے نظر آتے ہیں۔ سہگل ایک سادہ اور عام خیالات کی انسان تھیں۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ پر کشش اور چست ظاہر کرنے کی کوشش میں نہیں تھیں۔ سیکنڈ جنریشن کے سی او او سے بالکل مختلف قسم کی شخصیت کی مالک تھیں۔ اس سب کے باوجود وہ ایک پر عزم خاتون نظر آتی تھیں۔

اب پورے 10 سال بعد میں ان کے ساتھ سٹی ایف ایم 89 کے آفس میں موجود ہوں اور سہگل اس کی مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ اس وقت بھی اچھے لباس میں ملبوس ہیں لیکن اپنے آپ کو زیادہ پر کشش نہیں دکھا رہیں۔ ان کے بال بھی بکھرے ہوئے نہیں ہیں لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ اکثر وہ جلدی میں ہوتی ہیں چاہے وہ گھر کے کام میں ہوں، بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوں یا اپنی سوشل لائف کے کسی مسئلے میں گم ہوں۔ ان کے 2 بچے ہیں۔ میں ان کو ڈان نیو ز کے زمانے کی یاد دلاتی ہوں اور وہ اس پر پُر جوش ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ٹیم کو متحد کرنا بہت ہی اچھا تجربہ تھا جہاں ہمارے نوجوان ساتھی نئے نئے خیالات پیش کرتے اور کچھ نیا کر دکھانے کا عزم ظاہر کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ڈان کے ساتھ مل کر ملک میں ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے ایک ایجنٹ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیں۔ 2010 میں جب یہ محسوس کیا گیا کہ چینل پر کچھ اردو پروگرام بھی پیش کیے جائیں اور پھر یہ مکمل طور پر اردو چینل بن کر رہ گیا۔

سہگل اس وقت کو ایک مشکل دور قرار دیتی ہیں اگرچہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ چینل کو اردو زبان پر منتقلی کرنا کس لیے اہم تھا۔ ایڈورٹائزر حضرات چاہتے ہیں کہ انہیں زیادہ دیکھا جائے اور مجھے اندازہ تھا کہ اس ملک میں ایک انگریزی چینل کو اتنے ناظرین میسر نہیں ہوں گے جتنے اردو چینلز کو میسر ہوتے ہیں۔ انگریزی سے اردو پر منتقل ہونا ایک آسان کام نہیں تھا۔ ہمیں چینل کی پہچان بنانی تھی، بہت سے لوگوں کو ٹیم سے نکالنا اور نئے لوگوں کو ٹیم میں لانا تھا۔ اس سب کے باوجود سہگل کا خیال ہے کہ انہوں نے کوالٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا اور مانتی ہیں کہ چینل کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں وقت لگا۔ انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ ڈان نیوز دوسرے چینل کی طرح جذبات کی رو میں بہنے سے باز رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ چینل اب بھی ملک کے 5 بہترین چینلز میں سے ہے اور پاکستان میں بے ہنگم آوازوں میں سچ کی آواز کو بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا: ہمارے لیے یہ ایک کڑوا گھونٹ تھا۔ لیکن ہم نے کبھی بھی ڈان نیوز کے ٹریڈ مارک پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ ڈان نیوز اور سٹی ایف ایم 89 کے ساتھ اپنے دس سال میں سہگل جو مسز عنبرسہگل ہارون کی بیٹی ہیں اور ڈان میڈیا گروپ کی چئیر مین ہیں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے اس سے متعلق بہت ہچکچاتے ہوئے سوال پوچھا لیکنسہگل نے بہت ہی اچھے طریقے سے جواب دیا ۔

وہ بتاتی ہیں کہ انہیں وہ وقت یاد آتا ہے جب وہ ایک وکیل تھیں لیکن انہوں نے یہ کیریر چنا جب وہ لندن سکول آف اکنامکس میں ایک طالبہ تھیں اور لا میں ڈگری حاصل کرنے کی کوشش میں تھیں۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے لندن میں موجود لنکلیٹر نامی لا فرم میں شمولیت اختیار کی اور 2 سال وہاں گزارے۔ لیکن اس دوران ان کی توجہ میڈیا انڈسٹری کی طرف ہی رہی۔ میری ماں نے کہا تھا کہ تم جو چاہو کر سکتی ہوں کیونکہ ہمارا ایک پروفیشنل سیٹ اپ قائم تھا جس کو کسی خاص فیملی ممبر کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر تم میڈیا انڈسٹری میں جانا چاہتی ہو تو ڈان نیوز تمہارے لیے بہتر رہے گا اور تمہیں اندازہ ہو گا کہ ایک بزنس کیسے سیٹ کیا جاتا ہے

البتہ انہوں نے کہا کہ میں یہ اچھی طرح سوچ لوں کہ کیا میں واقعی قانون کے راستہ کو چھوڑ کر ڈان نیوز کا حصہ بننا چاہتی ہوں۔

جب سہگل ڈان نیوز کا حصہ بنیں تو وہ سی ای او شکیل مسعود سے ملیں۔ انہوں نے کہا: میں اس پراجیکٹ کے مالک کی بیٹی کی حیثیت سے نہیں آئی تھی اور جن لوگوں کو میں نے نوکری پر رکھا ان میں سے بیشتر کو یہ معلوم ہی نہیں تھا۔ انہیں صرف یہ معلوم تھا کہ وہ میرے ساتھ کام کرنے آئے ہیں۔ 2013 میں جب نرمین چنائے نے سی او او کا عہدہ چھوڑا تو سہگل ایم ڈی بن گئیں۔ تب انہوں نے مارکیٹ میں چینل کی سٹینڈنگ پر ریسرچ کی اور معلوم کیا کہ سٹی ایف ایم 89 کے بارے میں ان کی جو رائے تھی وہ ٹھیک نہیں تھی۔ وہ کہتی ہیں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارے بہت سے سامعین بدل چکے ہیں۔

ایس ای سی بی کے بہت سے لوگ کام کرنے والے لوگ تھے اور انہیں لگتا تھا کہ 89 ان کی بات نہیں سن رہا ہے اور ان کے احساسات سے لا تعلق ہے۔ اس مشکل سے نمٹنے کے لیے سہگل نے کچھ تبدیلیوں کا فیصلہ کیا اور کچھ شو کینسل کر کے ان کی جگہ نئے پروگرام شروع کیے جس سے بہت سے لوگ اس چینل سے منسلک ہوئے۔ لیکن اس بارجب مشکل فیصلے کرنے کا وقت آیا تو چونکہ یہی مرحلہ ان کے سامنے آ چکا تھا لہذا اس بار ان کے لیے زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں۔ انہوں نے بتایا: میں کسی اور پر یہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ اپنے برانڈ کے لیے مجھے سب سے بہترین فیصلہ کرنا ہے ۔ میں نے کچھ مشکل فیصلے کیے لیکن میرے پاس تجربہ موجود تھا اور اب ہم ایڈورٹائزنگ کے حوالے سے ایک بہتر پوزیشن میں ہیں۔

مجھے معلوم تھا کہ میرے فیصلے کچھ لوگوں کو پسند نہیں آئیں گے لیکن میرا کام ان لوگوں کو خوش کرنا نہیں بلکہ اپنا بزنس چلانا ہے اور میری ذمہ داری تھی کہ اپنے ملازمین کو بہتر مستقبل دوں۔سہگل ڈان فلمز کی بھی سی ای او ہیں جو ایک نیا فلم پروڈکشن کا ادارہ ہے جو متیلہ فلمز کی شراکت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ ایک فلم اس وقت پائپ لائن میں موجود ہے اور سہگل کا ماننا ہے کہ یہ ایک کمرشل کامیابی ہو گی۔ ڈان فلم، سٹی ایف ایم 89 اور خاوند اور بچے، میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ وہ سب چیزوں کو کیسے اتنی کامیابی سے کیسے دیکھ لیتی ہیں۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں یہ سب مینیج کر رہی ہوں۔ مجھے ہمیشہ ایک احساس ہوتا ہے کہ میرا کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں ہوا۔ میں ایک پرفیکشنسٹ ہوں۔ ہر کام کو مکمل طور پر ٹھیک دیکھنا چاہتی ہوں۔ وہ مانتی ہیں کہ ان کے پاس کام کرنے کے لیے اپنی مرضی سے وقت منتخب کرنے کا موقع ہے جو ہر چینل اپنے خاتون ملازمین کو مہیا کرتا ہے۔ اس سے انہیں اپنے بچوں کے ساتھ گزارنے کےلیے وقت مل جاتا ہے ۔ شام کو وہ بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں اور بچوں کے سونے کے بعد وہ اپنا کام دوبارہ شروع کرتی ہیں۔ اس دوران وہ اپنے خاوند دانش علی لاکھانی کے ساتھ بھی وقت گزارتی ہیں جو سائبر نیٹ میں ملازم ہیں۔

اس سب کے دوران البتہ وہ سوشل میڈیا کو وقت نہیں دے پاتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں جلد اس کےلیے بھی وقت مہیا کر لوں گی اور کچھ وقت پڑھنے کےلیے بھی نکالوں گی۔ انہوں نے بہت سی مختصر کہانیاں لکھی ہیں اور مستقبل میں بھی تحریری کام جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ چونکہ وہ مستقبل میں ڈان اخبار کو بھی وقت دینے کا ارادہ رکھتی ہیں اسلیے مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی بھی فارغ وقت میسر ہوگا۔ لیکن یہ بات بھی مت بھولیے کہ وہ ایک مصمم ارادے کی خاتون ہیں اور جب وہ کوئی فیصلہ کر لیتی ہیں تو اس کام کو کیے بغیر نہیں رہتیں۔

http://aurora.dawn.com/news/1141590/life-with-dawn

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *