سنوڈن کو پناہ کیوں دی... اوباما نے پیوٹن سے ملنے سے انکار کر دیا

صدر اوباما نے روسی صدر ولادیمر پیوٹن سے ملاقات کا پروگرام ملتوی کر دیا ہے۔ سنوڈن کو پناہ دینے پر روس اور امریکہ کے تعلقات میں تناو کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ روسی حکومت نے امریکی دباؤ کے باوجود سنوڈن، جس نے امریکہ کا راز فاش کیا تھا کہ پرزم پروگرام کے تحت امریکی حکومت کی ایک ایجنسی این ایس اے(نیشنل سیکورٹی ایجنسی) انٹر نیٹ کی نو بڑی کمپنیوں کے تعاون سے دنیاکے بے شمار ممالک کی ای میلز ، ٹیکسٹ پیغامات، وائس کالز اور تصاویر کے تبادلے کو ریکارڈ کر رہی ہے۔ اس کے انکشاف پر دنیامیں ایک بھونچال سا آگیا۔ اس کے بعد سنوڈن مفرور ہو گیا۔ ا س نے کچھ عرصہ ھانگ کانگ میں گزار ا۔ سب سے پہلے گارڈین نے اس کے انکشافات کو شائع کیا۔ یہ انکشافات امریکی تاریخ میں حکومتی اداروں سے وابستہ کسی بھی فرد کی طرف سے افشائے راز کا سب سے بڑا اسکینڈل بن گئے۔ اس کی وجہ سے عالمی اور مقامی سطح پر امریکہ حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد سنوڈن کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ آخر کار اُس نے روسی حکومت سے پناہ کی اپیل کی جو مسٹر پیوٹن نے امریکی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے منظور کرلی۔
سنو ڈن کے معاملے پر دونوں ممالک میں سامنے آنے والا تناؤ دراصل کچھ دیگر معاملات کی بھی غمازی کرتا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ اور روس میں شام کے صدر بشار الاسد کے معاملے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ وائٹ ھاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر اوباما نے اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کا ارادہ ترک کر دیا ہے کیونکہ فی الحال اس ملاقات کے لیے کوئی دوطرفہ ایجنڈہ موجود نہیں ہے۔ وائٹ ھاؤ س کے پریس سیکرٹری جے کارنی نے ایک بیان میں کہا ...’’دونوں حکومتوں کے درمیان میزائل ڈیفنس اور ہتھیاروں کے کنٹرول، تجارت اور کمرشل تعلقات اور انسانی حقوق اور سول سوسائٹی جیسے مسائل پر گزشتہ ایک سال سے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیںآئی ہے۔ چناچہ ہم نے روسی حکومت کو مطلع کر دیا ہے کہ جب تک کوئی مشترکہ ایجنڈہ تلاش نہ کیا جاسکے، اس ملاقات کو التوا میں ڈال دیناہی بہتر ہو گا۔‘‘ مسٹر جے کارنی نے تسلیم کیا کہ روسی حکومت کی طرف سے سنوڈن کو پناہ دینے کا فیصلہ بھی ملاقات منسوخ کرنے کا ایک اہم سبب بنا۔
دوسری طرف ماسکو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدرنے ملاقات کو مسٹر سنوڈن کے کیس سے مشروط کرنے کی کوشش کی۔ مسٹر پیوٹن کے ایک سینئر افسر یوری وی یاشکوف کا کہنا ہے کہ ابھی بھی وہ مسٹر اوباما کا خیر مقدم کریں گے اوروہ واشنگٹن کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات قائم کرنے کے خواہا ں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ روس تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم مسٹر یاشکوف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا... ’’مسلۂ یہ ہے کہ امریکہ مساوی بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ‘‘
اس سے پہلے کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ ان دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان طویل ملاقات ہو گی۔ یہ ملاقات اس ستمبر میں ماسکو میں ہونا طے پائی تھی جب صدر اوباما سینٹ پیٹرزبرگ میں جی 20- اکنامک گروپ کے اجلاس میں شرکت کرنے لیے روس کا دورہ کرتے۔ تاہم سنوڈن کے مسلے پر دونوں ممالک کے تعلقات میں سردمہری کی فضا قائم ہو گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *