برطانیہ میں مقیم اردو شاعری کی معتبرآواز بشریٰ بختیار خان سے گفتگو

انٹرویو: دنیا پاکستان

بشریٰ بختیار خان شعری افق پر نمودار ہونے والی وہ شاعرہ ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں شعرشناسوں کو چونکا دیا ہے، آپ کے دو شعری مجموعے "دل کے موسم" اور "رسین" شائع ہوچکے ہیں- آپ اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں اورشعری سفر کی منازل بھرپور کامیابی سے طے کر رہی ہیں، دنیا پاکستان نے بشریٰ بختیار خان  سے ایک خصوصی گفتگو کا اہمتمام کیا جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے- ایڈیٹر)


Image may contain: sky

 سوال۔ تعلق پاکستان کے کس شہر سے ہے اور شعرو ادب کا سلسلہ کب اور کیوں شروع ہوا؟

جواب: شہرسرگودھا ،شعر کہنا دسویں جماعت سے شروع کیا, شاعری کہنا قدرت کی طرف سے ملی ہوئی صلاحیت ہے , نثر افسانہ مصوری موسیقی یا دوسرے فنون لطیفہ سیکھنے سے سیکھے جا سکتے ہیں لیکن شاعری قدرت کی عطا کردہ صلاحیت ہے, اس لیے کیوں کا جواز نہیں, جو شاعر ہو وہ ہوتا ہے بنتا نہیں, اب اظہار کا ذریعہ شاعری ہونا یہ الگ معاملہ ہے, سوچنا فطری عمل ہے اور ان سوچے گئے خیالات کو شعری الفاظ میں ڈھالنا شاعر کا کام, مصور تصویری پینٹنگ کے ذریعے اور موسیقار موسیقی کے ذریعے اپنے فنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے اور شاعر شعری صورت میں سوال۔

سوال :خواتین عموماً اپنی تحریر کی نسبت ‘ تصویر سے زیادہ شہرت پاجاتی ہیں‘ آپ کی کسی کتاب پر آپ کی تصویر نہیں دکھائی دی، اس کے باوجود آپ نے کیسے شہرت حاصل کرلی؟

جواب: تحریر مقبول ہوتی ہے تحریر نگار نہیں, بیشتر بلکہ اکثر ایسے شعر ہوتے ہیں جو مشہور ہوتے ہیں اور ان کے خالق و شاعر کا نام نہیں معلوم ہوتا, آج کل کے تیز میڈیا نے ہمیں متعارف کروا رکھا ہے ورنہ ہم کیا ۔ اور مشہور میں ہرگز نہیں اور نہ مری شاعری کا مقصد مشہوری بلکہ مری تخلیق کی نظر -مقصدیت و معنویت پر ہے-

سوال: آپ کی شاعری میں بے باکی اوردبنگ لہجہ جا بجا ملتا ہے‘ یہ آپ کی ذات کا حصہ ہے یا کوئی اندر کی بے بسی؟

جواب: ذات کا حصہ ہر وہ منظر اور مشاہدہ بنتا رہتا ہے جو ہر نئے روز ظاہر ہو, اب اس کو آپ جس انداز میں کہیں وہ آپ کے مزاج اور اسلوب کا آئینہ دار ہوتا ہے، بے بسی معاشرے کا حصہ ہے تو وہ میں بھی محسوس کرتی ہوں اور چپ رہنے سے مسائل حل نہیں ہوتے اس لیے تلخ اور تیز لہجہ ہی سنائی دیتا ہے سوال۔ شاعری ہی کیوں؟ اظہار کے اور ذریعے بھی تو تھے؟ میں پہلے بھی عرض کر چکی جو شاعر ہوتا ہے وہ ہوتا ہے, اظہار کا ذریعہ شاعری شاعر کے لیے ہے, اب جو فطری شاعر ہے وہ گا کر اظہار تو کرنے سے رہا اور اسی طرح مصور کہانی لکھ کر اپنے فن اور صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر سکتا, میرا منصب شاعری ہے اس لیے شعر کہتی ہوں-

سوال۔ آپ کی دو کتابیں بھی شائع ہوئیں‘کیاکتاب کلچر زندہ ہے؟

جواب: کتاب کلچر تو قیامت تک رہے گا کیونکہ قرآن مجید خدا کی کتاب ہی بقا کا ذریعہ ہے, کتاب سے دوری الگ معاملہ ہے, کتاب سے اب بھی لوگ جڑے ہوئے ہیں, اور یہ پاکستان کے لوگوں کو لگتا ہے لوگ کتاب سے دور ہوئے باہر کے ممالک میں اب بھی لوگ کتاب سے جڑے ہوئے ہیں -

No automatic alt text available.

سوال۔ عموماً شاعرات شادی کے بعد عشق مجازی کی بجائے ’عشق مجازی خدا‘ میں مبتلا ے ہوکر شاعری سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، آپ دھڑادھڑ کتابیں لاتی جارہی ہیں، کہیں آپ کے مجازی خدا بھی شاعر تو نہیں؟

جواب: جی وہ شاعر نہیں لیکن با شعور ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاعری ایک منصب اور باعثِ عزت و برکت ہے اگر وہ شاعری ہو, عشق معشوقی کے قصے کہنا تفریح ہوتا ہے, نظریات اور سوچ کے رستے پر چلنے والے مقاصد کو لے کر چلتے ہیں اور مرے مجازی خدا مجھے اس کام میں بہت حوصلہ دیتے ہیں سوال۔ ملک سے باہر رہ کر اردو سے جڑے رہنا مشکل ہے یا لکھنے کے لیے زیادہ وقت مل جاتاہے؟ زبان کوئی بھی ہو ادب اور تخلیق ایک جیسی اہمیت رکھتے ہیں, اردو سے محبت مجھے وطن سے ملی اور اپنے ماں باپ اور خاندان سے ملی اور میں اردو میں سوچتی ہوں تو اردو ہی لکھتی ہوں اور مری سوچ مری مادری زبان کی محتاج ہے اور مری مادری زبان مجھے ماں کے قریب رکھتی ہے اور مری ماں مجھے بولنا اور سوچنا سکھانے والوں میں سے ہیں .

سوال۔ غزل کہنا پسند ہے یا نظم؟

جواب: غزل کہنا پسند ہے لیکن نظم بھی کہتی ہوں, اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ وہ خیال جس کا اظہار کرنا ہو وہ شعر کی صورت میں ممکن ہے یا اس کے لیے نظم کہنا مناسب ہے, اپنی تخلیق پر گرفت آپ کو آپ کے راستوں سے آشائی دلاتی ہے اور آپ کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مجھے اب تیز چلنا ہے یا تھوڑا آہستہ, بہرحال چلتے رہنا ہی بہترین عمل ہے -

سوال۔ جدید شاعری سے کیا مراد لیتی ہیں اور جدیدیت کس حد تک قابل قبولہے؟

جواب: جدت کسی شے کا نام نہیں, کیونکہ آج کو جدت ہے کل وہ پرانی اور روایت کا نام پائے گی, تازگی ہونا زیادہ اہم ہے, شعر جب پڑھا جائے اس میں تازگی ہو, تخلیق میں معنویت و مقصدیت ہو جو ہمیشہ رہے اور تخلیق کی عمر محدود نہ ہو, ایسے اشعار جو انگریزی الفاظ پر مبنی ہو کر غزل اور شاعری کے تقدس اور تغزل پر حرف لائیں وہ بھدے خیالات شاعری نہیں اور بے معنی کی ہوائی باتیں بھی قبول نہیں, شعر کو مکمل ہونا چاہیے جو تازہ ہو اور مکمل ہو اور ہمیشہ رہے, جو گایا بھی جا سکے جو یاد بھی رہے اور پڑھا بھی جا سکے اور جس کے پیچھے جذبات کے ساتھ تجربات اور معنویت اور نظریات بھی موجود ہوں شاعری مقدس منصب ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *