عجب شادی کی غضب داستان

syed arif mustafa

آج میری شادی کی سلور جوبلی سالگرہ ہے یہ بات مجھے میرے بچوں نے یاد دلائی بیگم بتاتیں تو شاید یوں کہتیں کہ نو ہزار ایک سو پچیس دن ہوگئے۔۔۔ ایسی رفاقت کا حساب تو انگیلیوں کی پوروں پہ دھرا ہوتو کیا عجب ۔۔۔۔ بہرطوراللہ کی ایک نیک بندی نے مجھ جیسے 'ٹیڑھے میڑھے' بندے کو بھگتتے ہوئے 25 برس مکمل کرلیئے گویا قانونی اعتبار سے ایک مکمل عمر قید کی میعاد تو پوری کر ہی لی ۔۔۔۔ اس 'ٹیڑھے میڑھے' سے یہ مراد نہ لی جائے کہ ہمارے سر میں بڑے گومڑے پڑے ہوئے ہیں یا پیٹھ میں کوئی کبھ نمایاں ہے یا سینہ ،سینہ زوری پہ مائل ہے بس یہ ہے کہ ہمارا طرز زندگی عام ڈگر سے کافی مختلف ہے اور اسی سبب ان 25 برس میں ہماری ازدواجی زندگی عجب ڈھنگ سے گزری ۔۔۔۔ ہمیں میک اپ زدہ چہرہ میں پیچھے قدیم مصر کی مدفون ممی جھانکتی دکھائی دیتی ہے اسلیئےانہیں تقریباً شروع ہی میں بالکل صاف منع کردیا کہ ہماری مجبوری کا فائدہ اٹھاکے اور ہمیں یوں ڈرا ڈرا کے ہماری بہادری کا امتحان لینے کی کوشش نہ کیا کرو ۔۔۔ دوسرا معاملہ یہ ہوا کے شادی کے چند ہی دنوں بعد ہم نے اپنا بستر سہاگ تج دیا تھا اور اپنا منجی بسترا الگ کمرے میں لگا کے 25 برس وہیں لکھتے پڑھتے گزار دیئے ،،،کیونکہ ہمیں مطالعے کی لت پڑی ہوئی تھی اور ہماری بیگم اس گھر سے تشریف لائی تھیں کہ جہاں عشاء کی نماز کے بعد جاگتے پایا جانا داخل از مکروہات تھا اور اور رات 12 بجے تک تو کراچی سے چلی انکی سپنا ایکسپریس کا 'ملتان' آجاتا تھا ۔۔۔ رہا مطالعہ تو حصول تعلیم کے بعد انکی طرف تو مطالعے کا مطلب اخبار میں اک ذرا دیر کو جھانکنا ہی کثیر مطالعہ شمار ہوا ۔۔ اس لیئے اسی کمرے میں بلب جلا کے رات گئے تک مطالعہ کرنا تو قابل دست اندازیء پولیس بھی ٹہرایا جاسکتا تھا اور بالائے ستم یہ کہ ٹیبل لیمپ سے چھن کے آتی روشنی کی جھار بھی انکی نیند کی سوکن سمان تھی ۔۔۔
اسکے علاوہ اس از خود کمرہ بدری کی ایک وجہ انکا غیرمعمولی ڈسپلن بھی تھا ہمارے سسر نے اپنی جملہ 9 اولادوں کو نہایت سخت ڈھنگ سے پالا تھا اور اس عجب ڈھب سے سونے کی عادت ڈلوائی تھی کہ جیسے کروٹ لینا بھی بڑی بدتہذیبی ہو ۔۔۔ عموماً منہ پہ چادر تان کے اور لاش کی طرح سیدھے پڑے رہ کر ہی سونا اور اسی میت ناک آسن میں اٹھنا معمول تھا اسی لیئے کبھی کبھی ایسے گھور خدشات جنم لیتے تھے کہ ناک کے نیچے ہاتھ رکھ کے سانسوں کی آمدورفت جانچنے کو بھی دل کرتا تھا۔۔۔ ۔۔۔ صبحدم تو چادر ہٹاکے منہ دیکھنے کی ہمت بھی نہ ہوتی تھی تصور میں بھی ناک میں پھوئے سے لگے محسوس ہوتے تھے ۔۔۔ نیند پہ ایسی آہنی پدرانہ تربیتی گرفت پہلے نہ دیکھی تھی نہ سنی تھی ایسے میں اپنے سونے کے بےڈھب انداز پہ تو باقاعدہ احساس جرم ہوتا تھا کہ سونے کے تھوڑی ہی دیر بعد ہمارے ہاتھ پاؤں یوں بے لگام ہوکے بکھرتے تھے کہ جیسے کوئی گوریلا چٹان پہ گولی کھاکے مرا پڑا ہے ۔۔۔ یوں ہماری یہ کمرہ بدری از خود جلاوطنی جیسا کیس تھا جو کہ شروع شروع میں بیگم کے لیئے قابل قبول نہ تھا لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی اسکی عادی ہوگئیں ۔۔۔ ارررے اررے میں بھی آپکو کہاں سے کہاں لے گیا یہ ازدوجی زندگی کی دلچسپ کتھا پھر کبھی سہی ۔۔۔ شادی کی اس سلور جوبلی کے موقع پہ آپ میرا وہ مضمون پڑھیئے جو اس سفر کے یوم آغاز سے متعلق ہے یعنی تقریب شادی کی داستان ۔۔۔ ذیل میں یہ مضمون آپکے مطالعے کے لیئے حاضر ہے
----------------------------------------------------------------------------------
بے بسی کا سفر ......... ( طنز و مزاح )
-------------------------
کسی بھی بشر کے دو سفر عجب لاچارگی کے ہوتے ہیں ،، سب کچھ دوسروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور بس ہوئے چلا جاتا ہے،،، ایک وہ سفر جب بندہ بحالت لاش میت کے گہوارے میں ہو اور دوسرا جب بندہ بصورت دلہا، عروسی سواری میں ہو،،، اس سفر کا اختتام بھی تقریباً یکساں ہوتا ہے،،، سارے حاضرین منہ دیکھ دیکھ کر آگے بڑھتے جاتے ہیں،،، تھوڑا سا فرق منزل کی جانب سفر میں ضرور ہے پہلا والا سفر سفر بالجبر ہے اور دوسرا سفر بالرضا ہے،،، لیکن اکثر صورتوں میں آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی۔۔۔۔ کچھ متعفن کیسیز میں تو دونوں طرح کے مسافروں کیلیئے یہ نغمہ بھی قدر مشترک ہے"ع- آج ہی ہم نے بدلے ہیں کپڑے،،، آج ہی ہم نہائے ہوئے ہیں،،، تاہم اس بات میں شک ہے کہ اگرمرحوم کو جاتے جاتے بھی دوسری سواری(دلہےکی کار) کا آپشن مل سکتا تو وہ لحظہ بھر کیلیئے تامل کرتا یا نہیں یا صرف نصف لحظہ ہی میں جست لگا دیتا،،،،،
دلہاؤں کی اس تاریخی بےکسی پہ نفرین بھیجتے ہوئے ہم نے گویا طے کرلیا تھا کہ اگر ہم بھی کبھی مبتلائے شادی ہوئے تو خود کو یوں بے بس ہوکر تماشا نا بننے دیں گے،، بلکہ ہشیاری چوکسی ومستعدی کی ایسی تابندہ مثال قائم کرینگے کہ اس کی روشنی میں عرصہ دراز تک حواس باختہ دلہاؤں کو لعنت ملامت کی جاسکے گی ،۔ اور غفلت شعار نوشے اپنی ازدواجی عاقبت سنوار سکیں گے،،، لیکن استغفراللھ،، اسکا مطلب لیکن یہ بھی ہرگز نا لیا جائے کہ ہم اپنا جوتا چوری نا ہونے دینے اور اسکے بجائے خود کسی اور کا جوتا چرا کر سب کو حیران کر دینے کا سوچ رہے تھے،، ہمارے "چوکسی پروجیکٹ" کا آغاز تو قبل از شادی کی رسومات سے ہی ہوگیا تھا کیونکہ ہم نے صاف اعلان کردیا تھا کہ فضول رسومات نہیں کی جائیں گی ...لیکن جب سنی ان سنی کرتے ہوئے انکا آغاز کردیاگیا اور یکا یک اعلان ہوا کہ نجانے کس رسم کو ادا کرنے کیلیئے سات سہاگنیں آگے آجائیں تو پھر ہم نے اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اس طرح کی دلاآزار رسم کی سخت مذمت کی اور کہا کہ سات سہاگنیں نہیں بلکہ کوئی بھی بیوہ خاتون یہ رسم کروائیں،،، تو پھر باقی رسومات کو ہی لپیٹ دیا گیا اور موقع پہ موجود سبھی خواتین ان رسومات کو برملا واہیات اور فضول قرار دینے میں ہم سے زیادہ مستعد ہوگئیں اور یہ سارا بکھیڑا دفعتاً سمیٹ لیا گیا،،،
،،"میاں بارات ٹھیک 9 بجے لے آنا" تنبیہی انداز میں یہ بات ہمارے ماموں نے ہم سے 2 ماہ پہلے ہی کردی تھی جوکہ ہماری بھانجہ گیری کے بعد اب ہماری داماد گردی سے دوچارہونےوالے تھے ، ہماری شادی ہماری ماموں زاد سے ہوئی ہے،،انہی سے ہوسکتی تھی کہ کسی اور میں ہم ایسے آئیٹم بھگتانے کا یارا نہ ہوسکتا تھا،، لیکن ہمارے ماموں جان یعنی سسر محترم بھی بہت خاصے کی چیز تھےانکو بھگتنے کا کس بل بھی ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی وہ کسی سے بھی اپنا کوئی بھی کام مسلسل تعاقب اور موسلادھار یاد دہانی کے بل پہ کرالینے کا بہت خاص وصف رکھتے تھے،،،خصوصاً یاددہانی کی ضمن میں اپنے پیغام کا مضمون ہربار ایک نئے ڈھنگ سے باندھتے تھے ،،، میر انیس نے تو منظر نگاری پہ اپنی قدرت کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ،،،"اک پھول کا مضمون ہوتو سورنگ سے باندھوں،،،" انکی ملاقات اگر ہمارے ماموں سے ہو سکتی تو وہ بالیقین انکی شاگردی کے بوریئے پہ بیٹھ رہتے،،، مختصر سی بات کو پھیلانےمیں ایسا ید طولیٰ پایا تھا کہ محض ایک ہی تل سے سیر بھر حلوہ بنانے پہ قادر تھے،،، تاہم نرم دل تھے کسی کے چہرے پہ تکلیف کی رمق بھی نہیں دیکھ سکتے تھے اسلیئے مخاطب کو طول کلام کی وادی میں اتارتے ہی اسکی جانب سےآنکھیں موند لیتے تھے.. کچھ تو انکی اس تابڑ توڑ پیچھے لگنے کی عادت اور ڈسپلن پسندی کے سبب اور کچھ ہمارے اپنے، ماضی کے دعووں اور عزائم کی رو سے بھی لازمی تھا کہ ہم بارات حسب اعلان ٹائمنگ پہ لے آئیں... اسی لیئے سارے رشتہ داروں اور احباب کو پہلے سے ہی کئی کئی بار خبردار کرد یاتھا کہ سارا کام کارڈ پہ درج ٹائمنگ کے عین مطابق ہوگا،،،اسی سبب صورتحال یہ تھی کہ ہم بارات لیکر شادی کارڈ کے مطابق ٹھیک 9 بجےہال جا پہنچے تھے جبکہ وقت آس پاس کے ہالوں میں صرف الو، انتظامیہ اور اباجان قسم کے لوگ ہی بول رہے تھے
کچھ لوگ فوج میں نا جاسکنے کا بدلہ معاشرے سے گھر میں ہی بچوں کی فوج بناکر لیتے ہیں سسر مرحوم کی بابت یہ معاملہ تھا یا نہیں ، تاہم گھر میں اولاد کی ریل پیل اور نظم وضبط کی سخت پابندی اسی جانب اشارہ کرتی تھی،،، اس میں بھی نظم سے زیادہ توجہ ضبط پہ ہواکرتی تھی ،، اس لحاظ سے انکی صحیح جگہ یا تو اینٹی اسمگلنگ اسکواڈ میں بنتی تھی یا پھر ضبط تولید کے محکمے میں،،،لیکن اللھ تو چونکہ اسمگلروں کا بھی رازق ہے اور دوسرے وہ وہ بقول ٹیگور بچوں کی پیدائش کی شکل میں ابھی انسانوں سے مایوس بھی نہیں ہوا اسلیئےان جگہوں سے موصوف کو دور ہی رکھا،،، مرحوم نے ڈسپلن کے ایسے سخت اصول گھر کی حدود میں نافذ کردیئے تھے کہ کسی بھی فوج میں ایسے اصول متعارف ہوتے تو بیشتر فوجی آغاز ہی میں خوشی خوشی کورٹ مارشل کرالیتے .. اس سب کچھ کے باوجود زیادہ تر نہایت نامطمئن رہاکرتے تھے ، سارے علوم پریشانیات گھول کے پی رکھے تھے .. ہمہ وقت تنقید کی بندوق لیئےپھرتے تھے اور ہر آسان ہدف پہ نشانہ باندھ لیا کرتے تھے،،، نکاح سے ایک ماہ پہلے ہی ہم سے بطور فرمائش مگر با طریق فہمائش یہ بھی بتا دیاتھا کہ "قائدے کی رو سے نکاح کیلیئے قاضی تم لاؤگے۔۔۔اس پر ہم نے ایک نہیں دو پلے پلائے نکاح خوانوں کو دھردبوچا، جن میں سے ایک کا رول متبادل یا اسٹپنی کا تھا ،،، لیکن ہماری تاریخی لاپرواہیئوں کی شہرت سے خائف ہوکرماموں جان خود بھی ایک دائمی سے بوسیدہ سے قاضی کو اچک لائے اور ہال میں ہمارا اور انکا لایا ہوا قاضی جب آمنے سامنے ہوئے تو اسی وقت ریکٹر اسکیل پہ اک چھوٹا سا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا،،، دونوں ایکدوسرے کو دیکھ دیکھ کر نظروں نظروں ہی میں غرا رہے تھے بڑی مشکل سے ہم نے اپنے قاضی کو اپنے خاندان اور احباب کی متوقع کئی شادیوں کی زرخیزخبریں بہم پہنچائیں، انہیں بلانے کی خوشخبری سے شادکام کیا اور بنا کام ہی پورا معاوضہ دیکر رخصت کیا ۔۔۔
بلاشبہ شادی ہال میں ہم نہایت کشاں کشاں پہنچے لاریب ہمارے اوسان بجا تھےاور حواس خمسہ حددرجہ چوکس،،، گھر سے ہی نہایت چاق و چوبند رہنے اور ہوشیار نظرآنے کا عزم کرکےجو نکلے تھےکیونکہ ہم ہمیشہ مذاق اڑاتے رہے تھے کہ اپنی شادی کے مواقع پہ کیا انجینیئر کیا ڈاکٹر اور کیا پلمبر و میکنک سبھی ٹائپ کے دلہے یکساں سائزکے چغد بنے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔ ہم کہا کرتے تھے کہ کسی بھی شادی کے تمبو میں آپکو صرف 2 افراد نہایت بد حواس دکھائی دینگے ان میں سے ایک وہ جسکی پتلون کی زپ یکایک ٹوٹ گئی ہو اور دوسرا ...؟ اور دوسرابلاشبہ دولہا ہی ہوگا،،،! ہم نے بوقت نکاح ،،اپنے حواس کی بیداری کا برملا مظاہرہ اک شوخی کی صورت اسوقت کیا کہ جب قاضی نے "قبول قبول قبول" کے تقاضے کی تکرار باندھی اور یہاں ہمارے پاس "ایک چپ تھی سب کے جواب میں،،، قاضی اور حاضرین کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔۔ اسکے علاوہ کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہ سکتے،،،کیونکہ پھٹنے والی چیزوں میں زیادہ تر آنکھیں ہی آسانی سے مشاہدے کی گرفت میں آسکتی ہیں ،،، دلہن کے والد جو ہمارے ماموں بھی تھے حسب موقع غش کھا کر گرنے کیلیئےمناسب جگہ ڈھونڈھنے لگے۔۔۔ لیکن اسٹیج پہ جگہ بہت کم تھی اور ایسی رسومات کیلیئے تو انتہائی ناکافی،،، ماحول میں یکایک سناٹا سا گونج گیا
" ذرا آزادی کے ان چن آخری لمحات کو تو اور انجوائے کرنے دیجیئے نا قاضی جی"
ہمارے لبوں سےجیسے ہی یہ فقرہ نکلا،،، فضا میں ایک باجماعت سکون کی سانس سنائی دی اور ہمیں بہت ہی ناز بردارانہ احتیاط سے کئیوں نے گھُرکا،،،، اس موقع پہ بھی تمہیں مذاق کی سوجھ رہی ہے،،،!! بعد کی رسومات میں بھی ہماری شوخیئ طبع اپنے عروج پہ رہی اور ہم دلہا سے زیادہ شہ بالا دکائی دیئے ،،،جبکہ دستور "شہ باؤلا" نظر آنے کا تھا،،، کھانا شروع ہونے پر ایک ایک دوست کو اسکی نشست پہ جا جا کر پوچھا ۔۔۔ چونکہ کسی بھی بشر کی زندگی میں سب سے زیادہ عزت اور نازبرداری کادن شادی کا ہواکرتا ہےاور ایسے ایسوں کو بھی ہاتوں ہاتھ لیا جاتا ہے کہ جو عام حالات میں لاتوں لات کے ہی قابل گردانے گئے ہوتے ہیں سو ہم نے بھی جوابی حملے نا ہونے کا یقین کرکے، ڈھیروں جگت بازیاں بھی کیں اور مجبور متاثرین کے بے بس قہقوں کو خوب انجوائے کیا،،
رخصتی کا وقت آن پہنچا اور اب تک کوئی گڑبڑ نا ہوئی تھی ،،، ہماری خود اعتمادی کا گراف اطمینان بخش لیول پہ پہنچا ہواتھا،،، دلہن صاحبہ غرارہ سنبھالے کچھ اس آہستگی سے سیڑھیاں اتر رہی تھیں گویا بیٹری سے چلنے والی گڑیا کا چارج ختم ہورہا ہو،،،فتحمندی کے سرشار احساس کے ساتھ ہم ہر
سمت بھپتیاں اچھالتے اپنی عروسی گاڑی میں آبیٹھےجو پھولوں اور کلیوں سے یوں سجی تھی کہ کسی گورے کی میت والی خاص وین معلوم ہورہی تھی،،، گولاگنڈا سی سجاوٹ والی اس گاڑی کا واپسی کا سفر 11 بجے شروع ہوا،،، کار ہمارا پھوپھی زاد عبدالحفیظ چلا رہا تھا،، ذرا ٹک کر بیٹھے تو تھکان اور ہیجان نے بیجان کردیا اور دماغ کچھ دیر کیلیئے ماؤف سا ہوگیا،،، ہوش اس وقت آیا کہ جب یکایک کار رکی آناً فاناً اترے تو خود کو مزارقائد کے سائڈ کے پھاٹک پہ کھڑا پایا،،، "ہائیں ہائیں،،، یہ کیا ہے حفیظ۔۔۔؟ " ایک دلدوز چیخ جیسی آواز ہمارے گلے سے نکلی جو ہمیں بھی اپنی نا لگی،،، "کیا مزار قائد کو نہیں پہچانتے آپ۔۔ سلامی دیجیئے اس عظیم عمارت کو ؟" عبدالحفیظ نے بڑے رسان سے جواب دیا ،،، بھئی یہ سب کیا ہے ۔۔۔ نارتھ ناظم آباد سے گلشن اقبال جاتے ہوئے یہ مزار قائد رستے میں بھلا کہاں پڑتا ہے،،، ؟ اس الٹےبانس بریلی والی حرکت کے ارتکاب پہ اس ستمگر نے کہا کہ "ارے بھائی یہ دراصل میں آپکو سزا دے رہاہوں، ہر کام میں ٹائم اور شیڈول کا پہاڑا پڑھنے کی سزا،،، غضب خدا کا ابھی وہاں آس پاس کے کسی ہال میں کوئی بارات اتری بھی نہیں تھی اور آپ شتابی سے رخصتی بھی کراچکے۔۔۔" کافی دیر تنگ کرنے کے بعد کار پھر چل پڑی ،،، واپسی کے اس سفر میں ہم نے دل ہی دل میں کم ازکم یہ تو مان لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو،، شادی والے دن کسی بھی طرح کے دولہا کی باگیں اسکے اپنےہاتھ میں نہیں رہتیں۔۔۔ بعد میں ثابت ہوا کہ شادی کے دن کے بعد تو بالکل بھی نہیں رہتیں۔۔

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *