دہشت گردی کے خلاف جنگ غلط ملک میں لڑی جا رہی ہے، حامد کرزئی

Afghanistanسابق افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اپنی سر زمین پر ہندوستان سمیت کسی بھی ملک کی فوج کی ضرورت نہیں تھی، اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک غلط ملک میں لڑ رہا ہے۔
نئی دہلی میں ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمٹ 2014 کے دوران ہندوستانی صحافی برکھا دت سے گفتگو کرتے ہوئے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ اگرچہ افغان سول افسران کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ فوجی سامان کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھارت کا اہم کردار رہا ہے، تاہم افغان سرزمین پر کسی بھی ملک کی فوج کی ضرورت نہیں تھی۔
اس سے قبل نئی دہلی میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے سابق پاکستانی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی جانب سے اس وارننگ کو 'تکلیف دہ' قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان ، افغانستان کے نسلی گروپوں کو ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔سابق افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ امریکی اور نیٹو فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ’پراکسی وار‘ کے لیے خود کو میدان جنگ نہیں بننے دے گا۔
یاد رہے کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ 'انڈیا افغانستان کے کچھ نسلی عناصر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تو پاکستان بھی وہاں اپنے نسلی عناصر استعمال کرے گا اور وہ یقیناً پشتون ہوں گے'۔
تاہم کرزئی، جو اسلام آباد پر کابل حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ پشتونوں کو آلے کے طور پر استعمال کرنے کا بیان افغانستان کے سب سے بڑے نسلی گروہ کے لیے ’تکلیف دہ‘ تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان ان تین ممالک میں سے ایک تھا جس نے بنیادی طور پر پشتون طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا تاہم 2001 میں امریکی حملے کے بعد اس کا تختہ الٹ گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *