تحریکِ پاکستان، ایک اجتہادی تحریک

Muhammad Asif

مسلمانوں کو جدید تاریخ میں جن تحریکوں سے واسطہ پڑا ان میں وہابی تحریک، علی گڑھ تحریک، اور خلافت تحریک تھیں۔
وہابی تحریک نے مسلمانوں میں یہ احساسِ زیاں اجاگرکیا کہ وہ اپنی سلطنت کھوچکے ہیں اور اب اس کی دوبارہ واپسی جہاد کے بغیر ممکن نہیں۔ اس تحریک سے جُڑے تمام علما اور لیڈران اس بات سے قطعی بےخبرتھے کہ ہندوستان سے باہر کی دنیا میں زرعی معاشی یا حربی حوالے سے کیا انقلابات آچکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب یہ لمبے لمبے مخملیں چوغے پہن کر ہاتھوں میں تلواریں لے کرنکلے اور برطانوی افواج سے سیدھی گولیاں کھائیں تو ڈھیر ہوگئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تحریک مکمل ناکام ہوگئی اور مسلم دنیا ایک سو سال مزید پیچھے چلی گئی۔
علی گڑھ تحریک جنوبی ایشیاء کے سب سے پہلے جدید مسلمان سرسید احمد خان کے ہاتھوں معرضِ وجود میں آئی۔ اس نے تعلیمی میدان میں جدت پر زور دیا اور مسلمانوں کے احیاء کاماحول پیداکرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی۔ لیکن یہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے انگریزوں کی وفادارتھی۔
تحریکِ خلافت پان اسلامی نصب العین کے لیے مسلم انڈیا کے گہرےلگاوکی ترجمان تھی مگر یہ علی گڑھ کی سیاسی روائت پسندی اور انگریزوں سے وفاداری کے خلاف عقلی حد سے تجاوزکرگئی اور انگریزوں کی خلاف یہ طئے کیے بغیر کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کیاہوگی،ہندووں کے ساتھ مل گئی ۔خلافتی علماء نے مسلمانوں کوہجرت کاحکم دیاجس سے شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بڑی تعداد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا اور زبردست اقتصادی نقصان کاسامناکرنا پڑا یوں یہ تحریک بھی ناکام رہی۔
تحریکِ پاکستان سابقہ تحریکوں سے اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس کے سامنے ایک معین اور ٹھوس مقصد اور لائحہِ عمل تھا۔ اس تحریک نے جہاد یا ہجرت کی ترغیب دینے کی بجائے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن اور ایک مسلم قومی ریاست وجودمیں لانے کی خاطر جدوجہد کی۔یا عام الفاظ میں برصغیر ہندوستان میں دارالسلام تخلیق کرنے کی کوشش کی۔اس کا نصب العین مبہم نہیں تھا اورنہ اس کی بنیاد مبہم مذہبی رومانیت پر تھی۔ اس تحریک کے سامنے ایک واضح نصب العین تھا۔ جو عسکری کاروائی،تشدد یا احتجاجی سیاست کے زریعے حاصل نہ ہوسکتاتھا۔ بلکہ صرف جمہوری طرزِعمل کے یاعقلی منصوبہ بندی کے زریعے ،یعنی ان علاقوں کے مسلمانوں کے حقِ خوداردیت کے لیے تگ ودو کرنا جہاں وہ اکثریت میں تھے۔
سابقہ تحریکوں سے تحریکِ پاکستان کا ایک فرق قیادت کے معیار کا بھی تھا۔ سابقہ تحریکوں کی قیادت کئی لحاظ سے مختلف تھی۔ علی گڑھ تحریک کے قائدین نے غیر مسلم سیاسی جماعتوں اور انجمنوں سے تعاون اور روادری پرزور دیا تھا۔ وہابیوں اور خلافتیوں کازور انگریز دشمنی پرتھا۔ اُن کا سیاسی ایجنڈا وہابی یا سنی مذہبی عقائدکی تصوراتی مگر کٹر تشریح پر مبنی تھا۔خلافتی علما کی پان اسلامیت اور ہندوستانی قومیت کی آمیزش کی کوشش قطعی غیر منطقی،غیر عقلی اور غیر عملی تھی۔
جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی تقدیر، ان گنت فاضل و قابل علما کی موجودگی کے ہوتے ہوئے بھی گزشتہ دوصدیوں کے دوران چار نمایاں "غیر علما" شخصیتوں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ یعنی سرسید، جمال الدین افغانی، محمد علی جناح اور محمد اقبال۔ بد قسمتی سے ان چارون کو روائتی علما نے کسی نہ کسی مرحلے پر کافرقرار دیا۔
قائد اعظم محمد علی جناح اپنے عظیم پیش رووں کی نسبت زیادہ آزاد خیال تھے۔ اورنگزیب کی وفات کے بعد اس وقت تک مسلم انڈیا نے اس قابلیت اور درجے کاکوئی سیاسی لیڈرپیدا نہیں کیا تھا۔ ایک رفیع الشان نصب العین کے لیے ان کی بےلچک لگن، اُن کی پرعزم پُر استقلال، پُراعتماد اور پُر ایمان قیادت، اُن کی پُرجلال یکسوئی، مقصد کے لیے اخلاص اور فرض شناسی کا جرات مندانہ تصور، اُن کی قانونی مہارت، سیاسی رہنمائی،تنظیمی قابلیت، تجزیاتی صلاحیت،بےخطا قوتِ ادراک، ذہن اور روح کی شفافیت، یہ وہ اعلی صفات ہیں جو اس سے پہلے کسی اور مسلمان رہنمامیں نظرنہیں آئیں۔ اپنے عم عصر سیاسی رہنماوں کے برعکس انھوں نے ہمیشہ بہترین لباس زیب تن کیا۔ اردو کم جانتےتھے ۔ صرف انگریزی بولتےتھے۔اس پربھی مسلم عوام جان نثاری سے اُن کی پیروی کرتے تھے۔ اُن کے ایک سوانح نگار(جناح،از شریف مجاہد)نے لکھا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، اور جو چاہتےتھے اُسے حاصل کرلینے کا طریقہ بھی جانتے تھے۔ صرف نصب العین ہی دلکش نہیں تھا بلکہ اس کی تحصیل کے لیے طلسماتی کشش والا قائد بھی تھا جس نے ارضِ موعود کی طرف مسلم عوام کی قیادت کی اور جس نے فتح اورشکست کے درمیان ایک بڑا فرق پیداکردیا۔ بالآخر محمد علی جناح کی قیادت اور رہنمائی میں پاکستان مسلم قوم کی رائے دہی کے فیصلے سے قائم ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *