ٹیچر! ہمارے اسامہ کا خیال رکھنا

baba-jevna
کچھ دن قبل میں نے ایک ہفتے کی چھٹیاں لیں، موسم کی شدت اور سرسراتی ٹھنڈی ہواﺅں نے مجبو ر کر دیا کہ یہ ہفتہ رضائی میں گھس کے گزار ا جائے ،مونگ پھلی او ر چکوال شہر کی مشہور سوغات پہلوان کی ریوڑیاں خاص سردیوں کے دن اور راتیں پُر لطف بنانے کے لیے منگوائی تھیں سوچا کہ گر م بستر میں ہیٹر کے پاس بیٹھا کوسے کوسے سبز چائے قہوے اور مزیدار خشک میوہ جات کھاتے لیپ ٹاپ پہ ناول کتابیں پڑھتے ہفتہ گزار دوں گا - کافی حد تک میں اپنے پلان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب بھی رہا ،ایک شام میں کمبل میں پاﺅں لپیٹے ٹانگوں پہ لیپ ٹا پ رکھے مرزا اسد اللہ غالب کی زندگی پہ بنی نصیر الدین شاہ کی فلم دیکھ رہا تھا کہ زوجہ محترمہ بڑی نزاکت سے ہاتھ میں گاجر کے حلوے کی پلیٹ پکڑے میرے پاس آکر بیٹھ گئیں او ر بولیں آپ نے پورے چار دن اسی طرح اس کمبل میں گھسے گزار دیے ہیں،آپ کو بچوں کی انٹرٹینمنٹ کے لیے بھی کچھ انتظام کر نا چاہیے ،اب وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے آپ کی بھی پیدائش سے پہلے کی فلمیں ا ور کہانیاں دیکھنے اور پڑھنے سے رہے ۔میں نے کہا پاھگی (پاھگی ہم پیار سے اپنی شریک حیات کو کہتے ہیں،گرچہ ہمارے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد وہ بالکل بھی پاھگی نام سےمطمئن نہیں پر ہم انھیں پا ھگی ہی کہتے ہیں) اب اس شدید موسم میں ہم بچوں کو کہاں گھمانے لے کے جائےں ان کی طبیعت بگڑ گئی تو پھر بھی آپ مجھے ہی الزام دیں گی ،تو وہ بولیں جنا ب میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ انھیں اس دھند اور سرد ی میں نتھیا گلی لے جائیں ناران کاغان گھما لائیں ،اگر آپ مرزا اسد اللہ غالب بننے کا سوچ رہے ہیں تو مہربا نی فرما کر یہ خیال اپنے دل سے نکا ل دیں یہ آپ کے بس کی بات نہیں مرزا غالب دنیا میں ایک ہی تھے اور وہ برسوں پہلے جہان فانی سے کوچ فرما گئے ہیں ،اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کے کوئی کارٹون دیکھیں یا بچوں کے ساتھ بیٹھ کے بلبلے ڈرامہ دیکھیں پلیز بچوں کو ٹا ئم دیں ،میں نے کہا جی مائی لارڈ جو حکم پر ہم مرزا غالب کے مداح بھی تو آپ کی ہی بدولت ہوئے تھے میں نے اپنی پاھگی کا ہاتھ پکڑ کے ذرا رومینٹک ہونے کی کوشش کی پاھگی جی نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے کہا اچھا بچے دیکھ لیں گے ،،میں نے پاھگی کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا اچھا میں بچوں کے لیے کوئی کارٹوں یا ان کی دلچسپی کی فلم ڈھونڈتا ہوں آپ بھی سارے کام نمٹا کے آجائیں اور آپ ذرا دیکھیں اگر بچوں نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے تو آج ہم سب مل کے کوئی مزے کی فلم دیکھتے ہیں میری بات سن کے پاھگی انتہائی مشکورانہ انداز میں مسکرائیں اور کمرے سے باہر چلی گیئں،بلبلے ڈرامے ہمارے گھر ایسے ہی دیکھا جاتا جیسے کسی دور میں عینک والا جن دیکھا جاتا تھا بچے دادی دادا کے ساتھ بیٹھ کے محمود ،مومو،خوبصورت،اور نبیل کی اٹھکیلیوں اور چونچلوں کو بہت انجوئے کرتے ہیں مگر جس طرح سے نبیل خوبصورت کو جانو کہتا ہے اور خوبصورت نبیل کو یار کہتی ہے وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کے دیکھنا اور سننا ہضم نہیں ہوتا مومو کی تو کیا بات ہے میرا بیٹا فادی تو باقاعدہ مومو بنتا ہے اور میں فادی کا محمود ہوں جب کبھی میں گھر سے باہر ڈیوٹی پہ ہوتا ہوں تو فادی فون پہ مجھے کہتا ہے ہیلو محمود میں ، میں ِ، بول رہی ہوں میں کہتا ہوں کون ؟ اور فادی پھر مومو کی طرح کتنے ہی الٹے سیدھے نام بولنے کے بعد کہتا ہے محمود میں مومو بول رہی ہوں بہر حال یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ بچے بہت جلدی ارد گرد کے ماحول سے ہر وہ بات سیکھتے ہیں جو انھیں پسند آجائے ،میں نے تھوڑی کوشش کے بعد ایک ڈائنا سارس پہ بنی عرفان خا ن کی فلم ڈاﺅن لوڈ کر لی جسکا نا م تھا جراسک ورلڈ یہ فلم 2015 میں بنائی گئی تھی تھوڑی ہی دیر میں پاھگی اور میرا ساڑھے چار سال کا بیٹا فواد سعید عرف فادی کمرے میں آگئے فلم دلچسپ تھی لیکن صرف فادی کے لیے تھوڑی دیر بعد پاھگی یہ کہتے ہوئے اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں ”بڑی سوہنی فلم ایں“ لیکن فادی فلم میں بہت گم تھا اور ساتھ ساتھ مجھے ڈائنا سارس کے خدوخال حرکات بتا رہا بلکہ یوں کہیے کہ باقاعدہ فادی کمنٹری کر رہا تھا فلم کے ایک سین میں ہیرو اور ہیروئین پہ چمگادڑیں حملہ کر دیتی ہیں اور ایک چمگادڑ ہیروئین کو پاﺅں میں دبوچ لیتی ہے اور ہیرو چمگادڑ کو مار دیتا ہے ہیروئین انگلش فلموں کی ہر ہیروئین کی طرح اٹھتی ہے اور ہیرو کا شکریہ ادا کرتی ہے ہیرو کو گلے لگاتی ہے میں ایسی فلم میں جو صرف بچوں کی دلچسپی کے لیے بنائی گئی ہو شاید ایسے منظر کی توقع نہیں کر سکتا تھا جو اچانک سامنے آگیا ہیرو اور ہیروئین دونوں بغل گیر ہوگئے اور XYZِ،،،،،،،فادی نے یہ سین دیکھا تو کہنے لگا اوے ہوئے پاپا جی گندی فلم،،،،،،،،
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ساڑھے چار سال کے بچے کو کس نے بتایا کہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے ،یہ ہی سوال میرا اسامہ کے والدین سے اور اس کے اساتذہ سے ہے کہ اس کے دل میں ایسی کیا خواہش پیداہو گئی تھی کہ معصوم سے اسامہ نے اپنے والدین کا لاڈ پیار اپنی بھولی بھالی اٹھکیلیوں حرکتوں چھوٹی چھوٹی حسرتوں کو ایک طرف رکھ کر اس نے اپنی سوچ کا مرکز اور محور اپنی کلاس کی ٹیچر کی اداﺅں کو بنا لیا تھا ،اسامہ نے ایسا کیا دیکھ لیا تھا جو زہر بن کر اس کی آنکھوں کے رستے اس کے خون میں اتر گیا اور اس کی فرشتوں جیسی پاکیزہ روح کو غلیظ کر گیا ،یہ کوئی ایک دن میں ہونے والا حادثہ نہیں ہے کہ ایک دن وہ سکول آیا اپنی ٹیچر کے عشق میں گرفتار ہوا اور اگلے دن سکول آکر اس نے اپنے آ پ کو گولی مار لی ،جن بچوں کو اپنے اساتذہ سے حد درجہ لگاﺅ ہوتا ہے وہ اپنے ٹیچرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے لیے یا تو بہت اچھا پڑھنے لگتے ہیں یا سِرے سے ہی کتابوں سے کنا رہ کر جاتے ہیں خود کشیاں نہیں کرتے اس دل سوز واقعے کے پیچھے یقینا ایک کہانی ہے ، آخر وہ ایسے کیا خیالات تھے اور کہاں سے اس کو ملے جن وجہ سے اسا مہ وقت سے پہلے جوان ہو گیا اور اسے نے اپنے لیے لڑکی پسند کرنے کا اور ہر صورت اسے حا صل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، اسامہ کے دوست کون تھے کہیں اس کی دوستیاں اپنے سے بڑی عمر کے بچوں کے ساتھ تو نہیں تھیں اس عمر کے بچوں کو تو اپنے ہم جماعتیوں کی کاپیوں پہ کارٹون اور پھول پتیاں بنا نے سے فرصت نہیں ہوتی وہ تو روز اپنے دوستوں سے خیالوں میں ڈاکٹر انجینیر پائلٹ اور کمانڈوز بن کے ملک و قوم کی خدمت کرنے اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے خوب سجاتے اور شرطیں لگاتے ہیں ان کے آئیڈیل قومی ہیروز ہوتے ہیں پھر ساتویں جماعت کے طالب علم اسامہ کو کیا ہوا؟ ۔ہماری نسل جس بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اس کے ذمے دار کون ہیں ،”ہم خود ہماری بے پردگی “۔کیا یہ ممکن ہے کہ پاغیچے کا ایک نوخیز پھول مکمل مرجھا گیا ہو اور باغبان لا علم ہوں ایسا ممکن ہی نہیں کہ ایک فرشتہ ریموٹ والی کار چھوڑ کے پستول اٹھا لے ایک بچہ چاکلیٹ اور آئس کریم کی ضد کرنے کی عمر میں عشق کا دعوی کرے اور وہ بھی اپنی اس ٹیچر سے جسکا احترام اس پہ ا یسے ہی فرض ہو جیسے ایک ما ں
کا احترام ایک بیٹے پہ، ایک بڑی بہن کا احترام ایک چھوٹے بھائی پہ صرف یہی نہیں بلکہ کسی انتہائی جاہل انسان کی طرح اپنی جان ہی لے لے ۔مجھے اپنا احتساب کرنا ہے اور اساتذہ کو اپنا۔کہیں غیر نصابی سر گرمیوں کی آڑ میں ہم اپنے بچوں کو مذہب سے دور تو نہیں کر رہے ،کہیں آزاد خیالی کا ڈھونگ ہمارے بچوں کو جنسی بے راہ روی کا شکا ر تو نہیں کر رہا ، کہیں اساتذہ اور شاگردوں کی ضرورت سے زیادہ بے تکلفی تو گمراہی کا بیج نہیں بو رہی ،کہیں حصول علم کی خاطر ہم نے بیٹی اور بیٹے کا فرق تو نہیں بھلا دیا ،کہیں ہم نے اپنے بچوں کو استاد کی قدر کرنا سکھانا تو نہیں بھلا دیا ،کہیں ہمارے بچے اس غرور اور تکبر کا شکا ر تو نہیں کہ ہمارے والدین سکولوں میں ہماری پڑھائی کے لیے بھاری فیس ادا کرتے ہیں ،کہیں ہم بچوں کو یہ بتا نا تو نہیں بھول گئے کہ استاد ان کے روحانی باپ کی حیثیت رکھتا ہے ، کہیں ہم اپنے بچوں کو ہارون الرشید اور مامون الرشید کی کہانی سنا نا تو نہیں بھول گئے ،کہیں ہمارے معاشرے کے استاد پیسے کے لالچ کی دلدل میں اس قدر تو نہیں دھنس گئے کہ انھوں نے اپنی اولاد کی طرح بچوں کی اخلاقی تربیت کرنا چھوڑ دیا ہے ،وہ اس ڈر سے بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھانا تو نہیں بھول گئے کہ کہیں بچہ ان کا سکول نہ چھوڑ جائے اور فیس کی مد میں آنے والا پیسہ بند نہ ہو جائے ، ٹیچر میں بھی خیال کرتا ہوں آپ بھی فیسوں کی فکر نہ کرنا بس ہمارے اسامہ کا خیال رکھنا -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *