سپریم کورٹ میں مریم نواز کی طرف سے داخل کیا گیا جواب ملاحظہ کریں

بشکریہ :حسنات ملک

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پانامہ گیٹ کیس کے معاملہ میں وزیر اعظم کو ضرورت پڑنے پر عدالت طلب کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان 5ججز پر مشتمل بینچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ شریف فیملی کی کرپشن کے خلاف پٹیشن کی سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کی درخواست پر جاری کیا ۔ آصف نے عدالت سے اپیل کی کہ وزیر اعظم کو عدالت طلب کر کے لندن کے لگژری فلیٹس کے بارے میں ان کا بیان ریکارڈ کروایا جائے ۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے نواز شریف کے بچوں کے وکیل کے دلائل سنے گی اور اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعظم کو بلایا جائے گا۔ دوسری طرف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ اپیکس کورٹ نے کھیوڑا مائن کیس کے معاملے میں فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیکل 184/3کے تحت ثبوت اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف اس سے قبل بھی عدالت میں حاضر ہوتے رہے ہیں اس لیے اس کیس میں بھی انہیں بلا کر بیان لیا جانا چاہیے تا کہ شک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔

مریم نواز کا لندن اپارٹمنٹس کی ملکیت قبول کرنے سے انکار

Image result for maryam nawaz

اس منگل کو مریم نواز نے ایک بار پھر لندن پراپرٹی کی ملکیت کا دعوی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کیے جانے والے جواب میں مریم نے ایف آئی اے اور برٹش ورجن آئس لینڈز اینڈ موسیک فونسیکا کے بیچ کسی بھی خط وکتابت کو ماننے سے انکار کیا۔ یہ واقعہ جرمنی کے نیوز پیپر میں پانامہ معاملہ کھلنے کے ایک دن بعد پیش آیا۔ جرمنی کے ایک ڈیلی اخبار نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف کی بیٹی کا منریوا فائنانشل سروسز لمیٹڈ اور لندن کے پارک لین فلیٹس سے براہ راست تعلق ہے۔ یاد رہے کہ پانامہ لیکس میں نواز شریف کے تینوں بچوں کے نام شامل تھے اور بتایا گیا تھا کہ ان کے پاس لندن میں پراپرٹی اور آف شور کمپنیاں موجود ہیں۔

سپریم کورٹ میں مریم نواز کی طرف سے داخل کیا گیا جواب ملاحظہ کریں۔

مریم نواز کا بیان حلفی

میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں۔ میں نے1992 میں ایک پاکستان آرمی افسر سے شادی کی جو بعد میں سول سروس میں شامل ہو گئے۔ وہ 1986 میں کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور آج تک تمام ٹیکس ادا کرتے رہے۔ ہم نے شمیم اگری فارمز رائیونڈ کے ایک مکان میں رہائش اختیار کی۔ یہ تمام فارمز میری دادی کی ملکیت تھے۔ ہمارے 3 بچےہیں جن میں 1 بیٹا اور2 بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹا درہم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ بڑی بیٹی کی کچھ عرصہ قبل شادی ہوئی ہے۔ دسمبر 2000 کوہمیں جلاوطن کر کے پورے خاندان کےساتھ سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ اس دواران میرے خاوند کی نوکری بھی معطل کر دی گئی۔ 2007 میں واپس آ کر ہم نے دوبارہ شمیم ایگری میں رہائش اختیار کی اور میرے خاوند نے الیکشن میں حصہ لیا۔ وہ 2008 اور2013میں ایم این نے منتخب ہوئے۔ میرے خاوند نے کمائی کی تمام تفصیلات سی ایم اے 187/2017 میں درج کروائی ہیں۔ میرے والد نے اپنی دولت میں سے مجھے اپنے پیار و محبت کی وجہ سے بہت سے تحائف دیے۔ انہوں نے یہ تحائف اپنی فیملی کے تمام افراد کی مرضی سے مجھے دیے اور میرے بھائی ہر معاملے میں میرے والد کی مدد کرتے رہے۔ میں 1992 سےاپنے والد کی کفالت سے آزاد ہوں۔ 2013 کےالیکشن کے دوران میں اپنے والد کے ذیر کفالت نہیں تھی۔ میں کبھی بھی لندن فلیٹس کی مالک نہیں رہی اور نہ ہی میں نے ان فلیٹس سے کسی قسم کا مالی فائدہ حاصل کیا۔

دراخواست دہندہ کا نام: عمران خان

ملزم: نواز شریف اور ۹ دوسرے اشخاص

موضوع درخواست: اضافی بیان

عرض کی جاتی ہے کہ

۱۔ مدعا علیہ 4لندن فلیٹس کی مالک یا بینفشری نہیں ہے۔

۲۔ پٹیشنر نے اپنے الزامات کی بنیاد سی ایم اے 7511/2016 کو قرار دیا ہے۔ اس دستاویز پر مدعی علیہ کے دستخط موجود نہیں ہیں۔ اس دستاویز کو پہلے ہی غلط اور بے بنیاد قرار دیا جا چکا ہے۔ کیس کی کاروائی کے دوران مزید ایسے ثبوت پیش کیے جائیں گے جن سے اس دستاویز کا بے کار اور غلط ہونا ثابت کیا جا سکے۔ اسکے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی ثابت کریں گے کہ پٹیشنر کے الزامات بے بنیاد ہیں ۔

۳۔ 7 نمبر مدعی علیہ درخواست دہندہ کا بھائی ہے اوراپنی بہن کے بہت قریب ہے۔ بڑا پوتا ہونے کی وجہ سے وہ اپنے دادا کا بھی چہیتا تھا۔ اس مدعی علیہ کی 2 فیملیاں ہیں ۔ ایک میں 4بچےاور دوسری میں 3بچےہیں۔ دونوں بیویاں مختلف ممالک کی شہریت کی حامل ہیں۔ 2005-2006 میں یہ بچے بہت چھوٹے تھے اور مدعی علیہ کو خوف تھا کہ اگر کوئی آفت ناگہانی واقع ہوئی تو کوئی ایسا شخص ضرور ہونا چاہیے کہ ان کی جائیداد کو دونوں خاندانوں کے بیچ برابری سے شریعت کے مطابق تقسیم کر سکے۔

۴۔ 2005 کےددوران درخواست دہندہ کو مدعی علیہ 7 سےمعلوم پڑا کہ التھانی فیملی اپنی کمپنیوں جو 4لندن فلیٹس کی مالک ہیں کے شئیرز میاں محمد شریف کی انویسٹمنٹ کے بدلے میں ان کے نام کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ منروا فائنانشل سروسز لمیٹڈ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور وہ ان کمپنیوں کی ملکیت میں مجھے شراکت دینا چاہتے ہیں تا کہ اگر ان کی موت واقع ہو جاتی ہے تو دوسرا شریک اس پراپرٹی کو ان کی دونوں فیملیز میں برابر تقسیم کر سکے۔ درخواست دہندہ کو یہ یقین دلایا گیا کہ 7نمبر مدعی علیہ کی زندگی میں انہیں کسی قسم کا بوجھ نہیں محسوس ہو گا اور وہ خود تمام معاملات طے کیا کریں گے۔ درخواست دہندہ نے بھائی کی درخواست قبول کر لی اور کمپنی میں شراکت پر رضامندی ظاہر کر دی۔ لیکن اس کے باوجود درخواست دہندہ نے ایک بار بھی منروا آفس کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی عہدیدار سے ملاقات کی۔

۵۔ درخواست دہندہ کو بتایا گیا کہ 7 نمبر مدعی علیہ اور التھانی فیملی کے بیچ معاہدہ 2006 میں طے پایا۔ کچھ عرصہ بعد منروا کے عہدیداروں نے معاہدے کی تحریر کو حتمی شکل دی اور 2فروری 2006کو جدہ میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ریسپانڈینٹ 9 نےبھی ان دستخطوں کا مشاہدہ کیا۔ پھر یہ معاہدہ لندن بھجوایا گیا جہاں ریسپانڈینٹ 7 نے 4فروری2006کواس پر دستخط کیے۔ اس موقع پر مسٹر وقار احمد اور وکیل جرمی فری مین بھی موجود تھے۔ یہ معاہدہ پہلے سے سی ایم اے 7661/2016صفحہ نمبر 4تا6 پر آن ریکارڈ موجود ہے۔ ریسپانڈینٹ 7نےاس کی کوئی کاپی منروا لمیٹڈ کو ارسال نہیں کی کیونکہ اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔

۶۔ جلاوطنی کے اس سال ریسپانڈینٹ 1، اس کے خاندان کے تمام افراد جدہ میں رہائش پذیر رہے۔ جلاوطنی کے اختتام سے آج تک درخواست دہندہ کے خاندان کے تمام افراد لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔

source:http://tribune.com.pk/story/1305130/pm-may-summoned-panamagate-case-sc/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *