ایک امیج جو شہباز شریف کا پیچھا نہیں چھوڑے گا

عباس ناصرabbas masir

کچھ ہفتے قبل کسی نامعلوم شخص نے اپنے سمارٹ فون کے ذریعے ایک بوڑھی عورت کی ویڈیو بنائی جو اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔  اس کی بیٹی لاہور میں ایک ہسپتا ل کے باہر ایک شیٹ پر پڑی اپنی ماں کے علاج کےلیے ڈاکٹر کا انتظار کر رہی تھی اور ماں کے آخری اوقات میں اس کے لیے بیڈ کی درخواست کر رہی تھی۔ جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا اور ٹی وی چینل پر آئی پنجاب حکومت فوری ایکشن میں آئی ، میڈیکل سپرنڈینٹ کو معطل کیا اور واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔ ابھی تک اس انکوائری کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ اسی دوران ایک ڈان ریڈر نے ایک اور مسئلے کی طرف میری توجہ دلانے کی کوشش کی ۔ میں ذیل میں ڈاکٹر مریم ترار جو شالامار میڈیکل اور ڈینٹل کالج لاہور میں پروفیسر ہیں کی ایک ای میل نقل کر رہا ہوں۔

آج میں ایک اہم حادثے کے بارے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں جس میں ایک لیڈی جناح ہسپتال کے کوریڈور میں ایک بڑھیا زندگی کی بازی ہار گئی۔ جناح ہسپتال پہنچنے سے قبل اسے 2 دوسرے ہسپتالوں میں جگہ نہیں ملی  جب کہ یہ وقت صبح کا تھا۔ وہاں سے اسے میڈیکل یونٹ 1 میں شفٹ کیا گیا جہاں ہر بیڈ پر 2 مریض موجود تھے۔ وہ خاتون سخت بیمار تھی اور اس کے ساتھ ایک خاتون  تھی۔ وہ فوری طور پر بیڈ پر جگہ حاصل کرنے  میں ناکام رہی۔ ڈیوٹی پر موجود میڈیکل سٹاف نے بیڈ کا بندو بست کرنے کی ناکام کوشش کی اور تھوڑی دیر بعد یہ خاتون کوریڈور میں ہی دم توڑ گئی۔ اس عورت کا معاملہ موبائل فون پر ریکارڈ کر لیا گیا اور ٹی وی چینل کو ارسال کیا گیا۔ ایک انکوائری بٹھائی گئی اور میڈیکل سپرنڈینٹ کو معطل کر دیا گیا جس نے ابھی ایک ماہ قبل چارج لیا تھا۔

اس سپرنڈینٹ کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک ایسے ادارے کا ہیڈ تھا جہاں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ اور سہولیات کم تھیں۔ و ہ مریض کو واپس بھی نہیں بھیج سکتے تھے۔ دوسرے ہسپتالوں کے سربراہوں نے اس مریضہ کو جگہ نہ دے کر آرام سے جان چھڑا لی۔ معطل کیے جانے والے ایم ایس پانچویں ایسے شخص ہیں جنہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا جب کہ واقعہ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی میڈیکل ہیڈ اس طرح کے رسکی معاملات ہاتھ میں لینے کی جرات نہیں کریں گے۔ (اس ای میل کو مختصر کیا گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب کا نام ا ن کی مرضی سے شامل کیا گیا ہے)۔

اس ہفتے 2 مزید ایسے واقعات پیش آئے جن سے یقین ہوتا ہے کہ جہاں پنجاب حکومت بڑے پراجیکٹس میں مکمل طور پر مصروف ہے وہاں یہ  صحت جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کیے ہوئے ہے ۔ میٹرو بس اور اورینج لائن ٹرین پر تو کام ہو رہا ہے لیکن صحت کےمحکمہ کی کارکردگی بہت مایوس کن ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے سوسائٹی کے غریب اور لاچار لوگ فائدہ اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔اسی ہفتے ایک نیوز سٹوری سے معلوم ہوا کہ  لاہور کے میو ہسپتال میں کچھ غیر معیاری ادویات بہت زیادہ قیمتوں پر دل کے مریضوں کو دی جارہی ہیں۔ ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات میں مصروف ہے اور پتہ لگا رہی ہے کہ میو ہسپتال کے باہر کون سے ایسے میڈیکل سٹور ہیں جہاں سے اس طرح کی جعلی ادویات بنائی اور بیچی جا رہی ہیں۔

غیر معیاری اور خطرناک دوائیں دیے جانے کے علاوہ ستم یہ ہے کہ یہ دوائیں اصل قیمت سے دس گنا زیادہ قیمت پر بیچی جا رہی ہیں۔ بیچارے مجبور مریض لاعلمی کی وجہ سے اس قدر زیادہ رقم خرچ کر کے یہ جعلی دوائیں استعمال کر رہے ہیں۔

اس ہفتے سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں 17 میں سے 7 وینٹی لیٹر کام نہیں کر رہے۔ زندگی بچانے کے لیے وینٹی لیٹر کی اہمیت مسلم ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے سٹاف کو آئی سی یو میں بھی ایمبو بیگ استعمال کرنے پڑے۔ عام طور پر یہ بیگ سانس کو چلتا رکھنے کے لیے ایمرجنسی شعبہ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی ہسپتال کے چلڈرن آئی سی یو  وارڈ میں بھی وینٹی لیٹر کی کمی کے بارے میں انکشاف ہوا۔

شاید یہ چند واقعات پوری کارکردگی کا خلاصہ کرنے کے لیے کافی نہ ہوں لیکن چیف منسٹر شہباز شریف کے آبائی شہر میں شعبہ صحت کی یہ حالت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ شہباز شریف کو چست اور تیز طراز حکمران مانا جاتا ہے لیکن اس طرح کے واقعات ان کے اس امیج کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ جب لاہور میں حکومت کی کارکردگی یہ ہے تو دوسرے شہروں میں بہتری کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟  پانامہ گیٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے پاس شریف خاندان کے مالی اعدادوشمار  جو سامنے آئے ہیں وہ ایک عام ووٹر کی سوچ سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔

 ووٹر اپنے لیڈرز کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں چاہے وہ نواز شریف ہوں، آصف زرداری ہوں یا شہباز شریف۔ سب سیاسی رہنما اپنا چیک اپ کروانے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اور امریکہ اور برطانیہ میں علاج کرواتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ملک کی حالت کے لیے بہترین طریقے سے کام کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی مریض ہسپتال کے فرش پر تڑپتا نہ دکھائی دے۔ اگر اس بوڑھی عورت کے واقعہ سے بھی شہباز شریف کا ضمیر انہیں نہ جھنجھوڑ پائے تو پھر کیا چیز ایسی ہے جو ان کو اپنی غلطیوں کا احساس دلا سکے گی؟ آخر کیا چیز ہمارے حکمرانوں کا کام کرنے کی ترغیب دینے میں معاون ہو سکتی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *