لاہور کی گلیوں سے ورلڈکپ فائنل تک

عمران اے خان

Image result for imran ahmad khan

میں اکثر اس الجھن میں رہتا ہوں کہ وسیم اکرم جیسے عظیم انسان کو کس حیثیت سے یاد رکھا جا سکتا ہے۔ وہ ایک بہترین بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر رہے ہیں لیکن ان کی زندگی میں میچ فکسنگ جیسے بُرے لمحات بھی آئے ہیں۔ پچھلے ہفتے ان کی ون ڈے میچز میں 400 وکٹیں مکمل کرنے کی سالگرہ تھی۔ اس لیے میں پریشان کن باتیں بھول کر وسیم اکرم کی اچھی یادوں کو تازہ کرنا چاہتا ہوں۔

1992

گیند شارٹ آف لینتھ تھی جو آف سٹمپ کے پاس آ کر گری، ایلن لیمب اس گیند کو کیسے کھیل سکتے تھے؟ کیا انہیں آگے آنا چاہیے تھا؟ یہ اتنی فُل نہیں تھی۔ کیا وہ پیچھے رہ کر ہی کھیلتے؟ یہ بال زیادہ شارٹ بھی نہیں تھی۔ وہ بےچارے اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ اگلی گینڈ آف سٹمپ سے کافی باہر تھی۔ کرس لیوس نے اپنی فرنٹ لیگ کو آگے بڑھایا لیکن وہ بروقت ایسا نہ کر پائے ۔ گیند اندر کی طرف آئی اور 2 گیندوں پر وسیم اکرم کے 2 شکار ہو گئے۔ اس اوور سے میچ پاکستان کی طرف جھکنا شروع ہو گیا۔ اگر کسی کو وسیم اکرم کی قابلیت پر شک تھا یہ ان 2 گیندوں سے سب شکوک و شبہات دم توڑ گئے۔

وسیم اکرم ایک بہترین کرکٹر تھے اور ان کی قسمت میں لکھا تھا کہ وہ اس بڑے موقع پر اپنے آپ کومنوائیں۔ انہوں نے 18 گیندوں پر 33 رنز سکور کیے اور پاکستان کا ٹوٹل 249 تک پہنچ گیا۔ ایک موقع پر انگلینڈ کے جب 141 سکور تھے اور چار کھلاڑی آوٹ تھے تو لگتا تھا انگلینڈ آسانی سے جیتے گا۔ 87000 لوگوں کے سامنے وسیم اکرم نے پہلے بیٹ سے اور پھر بال سے اپنا لوہا منوایا۔

1997

1992 کے ولڈکپ کے وقت میں بہت چھوٹا تھااور ورلڈکپ کی کامیابی کو پوری طرح انجوائے نہیں کر پایا۔ پاکستان کرکٹ کے ساتھ میرا محبت کا افئیر 1996/97 میں ہونے والی کارلٹن اینڈ یونائیٹڈ سیزیز میں شروع ہوا جو آسٹریلیا میں کھیلی جا رہی تھی۔ میں اسوقت صرف 5 سال کا تھا اور صبح سویرے اٹھ کر میچ دیکھنے کےلیے تیار بیٹھا تھا۔ موسم بھی سخت سردی کا تھا۔ تب وسیم اکرم نے عمران خان کی جگہ لے لی تھی۔ میں نے عمران خان کی صرف تصاویر دیکھ رکھی تھیں جس میں وہ میلبورن کرکٹ گراونڈ میں واٹر فورڈ کرسٹل ٹرافی اٹھائے دکھائی دیتے تھے۔ اس بار وسیم اکرم یہ ٹرافی تھامے کھڑے تھے اور میں انہیں براہ راست دیکھ پار رہا تھا۔ ان کی تقریر میں انہوں نے رمضان کی برکات کا بھی ذکر کیا۔ میں پوری طرح ان کا گرویدہ ہو گیا۔

2002

ہم ایک بار پھر آسٹریلیا میں تھے۔ وسیم اکرم 36 سال کے ہو چکے تھے۔ وہ کافی عرصہ سے کپتان رہ چکے تھے اور اب ایک بار پھرآخری بار اپنی کپتانی کے گُر آزمانے جا رہے تھے۔ وہ میچ فکسنگ تحقیقات سے بمشکل بچے اور پھر انہیں 7 سال تک ذیابیطس کی بیماری کے خلاف لڑنا پڑا۔ اس موقع پر ان کی ایک گیند آف سٹمپ پر پچ ہوئی جوتھوڑی شارٹ لینتھ گیند تھی۔ ایڈم گلکرسٹ کو اندازہ نہیں ہوا کہ وہ آگے آئیں یا پیچھے رہ کر کھیلیں۔ بال پچ ہونے کے بعد باہر نکلی۔ اگرچہ بال کی موومنٹ دیکھنے کے لیے شیشہ استعمال کرنا پڑ سکتا ہے لیکن بال کی موومنٹ کافی زیادہ تھی۔ یہ کلاسک وسیم اکرم تھے جو آخری لمحے تک بیٹسمین کو پریشان کر سکتے تھے۔ گلکرسٹ نے اس گیند کو سیدھے بلے سے کھیلا اور کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اگلے پلئیر رکی پونٹنگ تھے۔ ہر بالر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سیدھے ہاتھ کے کھلاڑی کو اندر آتی گیند ڈال سکے۔ وسیم اکرم اس مہارت کے استاد تھے۔ اس وقت وسیم اکرم کی گیند کی رفتار 1992 جیسی نہیں تھی لیکن پھر بھی ان کی گیند رکی پونٹنگ کے پیڈ سے ٹکرانے کے بعد بیٹ پر لگی اور ہوا میں اچھل گئی۔ وسیم اکرم نے 20 سالہ شاہد آفریدی کی طرح ڈائیو کر کے کیچ پکڑا اور میچ کا پانسا پلٹ دیا۔ آپ وسیم اکرم کی باولنگ کی ویڈیو کلپ دیکھیں تو آپ کو ان کی قابلیت کا اندازہ ہو گا۔

ان کا رن اپ بہت مختصر تھا اور 10 قدم سے زیادہ نہیں تھا۔ پھر بھی وہ بہترین گیند بازی کر سکتے تھے۔ ان کی باولنگ صرف بیٹسمین کو آؤٹ کرنے میں خطرناک نہیں تھی بلکہ ایسا پیس اور خوف ان کی بولنگ میں تھا کہ برائن لارا جیسے بیٹسمین کو پچ پر گرا سکتے اور لانس کینز جیسے بیٹسمین کو ہسپتال پہنچا سکتے تھے۔ جب وسیم کی بڑھتی عمر کے ساتھ پیس کم ہوا تب تک وہ سوئنگ کی مہارت حاصل کر چکے تھے۔ ان کی باؤلنگ ہر لحاظ سے یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک حقیقی باولر وسیم اکرم سے مختلف نہیں ہو سکتا۔

2011

9 سال آگے چلے جائیں۔ اب وہ 45 سال کے ہوچکے تھے۔ اب وہ کولکتہ نائٹ رائیڈر کے باولنگ کنسلٹنٹ ہیں۔ آئین مورگین کو پوچھا گیا کہ آج کا سب سے خطرناک باولر کون ہو سکتا ہے؟ ان کا جواب یہ تھا کہ وسیم اکرم آج بھی سب سے خطرناک باولر ہیں اور وہ آج بھی بہترین باولنگ کر سکتے ہیں۔

وسیم اکرم کا کیریر بھی باقی تمام پاکستانی کھلاڑیوں کی طرح ٹیپ بال کرکٹ سے شروع ہوا۔ پرانے لاہور کی گلیوں سے کرکٹ سیکھنے والے اس عظیم کھلاڑی کی صلاحیتوں کو پرکھا اور اسے لدھیانہ جمخانہ کلب میں لے گئے۔ وہاں لاہور کے ایک مشہور کرکٹر سعود خان نے وسیم اکرم کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔ لیکن سعود جو شہر کی انڈر 19 ٹیم اور کالج ٹیمز کی کوچنگ میں مصروف رہے ان کو وسیم کی ٹریننگ کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ کسی حد تک یہ کہنا درست ہے کہ باولنگ کی مہارت ان کے خون میں شامل ہے لیکن یہ بات بھولنا اچھا نہیں ہو گا کہ وسیم اکرم نے اپنا لوہا منوانے کے لیے بہت محنت کی اور سخت مشکلات کا بھی سامنا کیا۔

Image result for wasim akram

انہوں نے نیٹ پریکٹس پر گھنٹے صرف کیے اور ایک ڈیلیوری کو صحیح طرح سے ڈالنے کے لیے بہت وقت صرف کیا کرتے تھے۔ وہ ساوتھ افریقا کے خلاف ایسی تین نہ کھیلی جانے والی بالز کیسے ڈال سکتے تھے اگر وہ اس قدر محنت نہ کرتے۔ قذافی سٹیڈیم کی انتظامیہ سے معلوم کیا جائے تو پتا چلے گا کہ وسیم اکرم نے کبھی باولنگ کرنا ترک نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ باولنگ کر کے ہی ایک باولر اپنے آپ کو مضبوط باولر ثابت کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آج تک ان کا یہ ماننا ہے کہ باولرز کو جم سے زیادہ نیٹ میں وقت گزارنا چاہیے۔

وسیم اکرم ایک اچھے باولر ہی نہیں بلکہ اچھے کپتان بھی تھے۔ پہلی بار کپتان کی حیثیت سے انہوں نے صرف 5 ٹیسٹ اور 23 ون ڈے میچز کھیلے۔ شاید اسی وجہ سے اظہر علی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے وقت ملنا چاہیے۔ جب وہ آخری بار کپتان بنے تو ان کی قابلیت پر کسی کو شک نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ ان میں اعتماد پیدا ہو چکا تھا۔ وسیم ہمیشہ میچ ونر کا ساتھ دیتے تھے۔

سپنر کو ڈیتھ باولر کے طور پر استعمال کرنا ایک معمولی اقدام نہیں ہے۔ وسیم کو ثقلین کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے ۔ وسیم کی کپتانی میں عبدا الرزاق ایک اچھے فاسٹ باولر کے طور پر سامنے آئے۔ شاہد آفریدی، اظہر محمود اور شعیب اختر بھی وسیم کے شاگردوں میں سے ہیں۔ 1999 میں 12 سال بعد پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا۔ انڈیا کو پہلے ٹیسٹ میں فتح کے لیے 231 رنز درکار تھے اور دو دن باقی تھے۔ وسیم اکرم نے دن کے آغاز پر مختصر الفاظ میں اپنی ٹیم کو کچھ یوں سمجھایا: میرے ساتھیو، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں گرنا نہیں ہے۔ اس سے زیادہ مختصر مگر جامع پیغام کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ان کے کیریر میں بغاوتیں بھی ہوئیں، ان پر میچ فکسنگ کے الزامات بھی لگے اور زیابیطس کی بیماری کا بھی انہیں مقابلہ کرنا پڑا۔ ہر میدان میں انہیں فتح ہی ملی۔ اس میچ میں بھی کھلاڑیوں نے جان لڑا کر کھیلا اور ایک سنسنی خیز فتح حاصل کر کے سیریز میں برتری حاصل کر لی۔

عمران خان کے ساتھ ان کا موازنہ تو کیا گیا لیکن انہیں عمران خان جیسا سٹیٹس کبھی نہیں ملا۔ وہ 1999 کے ورلڈکپ میں فائنل میں پہن کر بھی ٹیم کو فتح نہ دلا سکے۔ لیکن انہوں نے اپنی ٹیم کو ناقابل تسخیر ہونے کا احساس دلایا۔ لنکا شائر میں 10 سیزنز تک انہیں کنگ کہا جاتا رہا ہے۔ ڈیوڈ لائیڈ جو سابقہ انگلینڈ کرکٹر اور کوچ تھے اور سکائی ٹی وی کے مشہور و معروف کمنٹیٹر بھی تھے نے کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وسیم اکرم نے اپنی ٹیم کو ڈریسنگ روم میں بلایا اور صرف اتنا کہا: "میرے ساتھیو، میرا ایک خواب ہے۔" مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *