پاکستان کی اہم ترین پیداوار کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ!

Image result for ‫کاٹن‬‎

 کراچی -بھارتی کاٹن یارن کی درآمد پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد ہونے کے باعث روئی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ملک کی مختلف منڈیوں میں بدھ کو روئی کی قیمتیں200 روپے کے اضافے سے7ہزار روپے من ہوگئیں جو 5 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے مطابق روئی کے آفیشل اسپاٹ ریٹ بدھ کو50 روپے بڑھ کر 6 ہزار 550 روپے من ہو گئے جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں روئی کی 13 ہزار 676 گانٹھیں فروخت ہوئیں۔ کاٹن جنرز نے بھارتی روئی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ سے مہنگی ہونے اور نئی فصل کی آمد میں تاخیر کے باعث سپلائی کے متعلق خدشات کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ اپٹما کی درخواست پر نیشنل ٹیرف کمیشن کی انکوائری میں سبسڈائز بھارتی یارن سے پاکستانی اسپننگ انڈسٹری کو نقصانات کی تصدیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے این ٹی سی نے بھارتی یارن پر 4ماہ کے لیے 56 روپے کلو تک اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگانے کااعلان کیا تھا۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے اس ضمن میں کہاکہ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ سے بھارتی روئی بھی مہنگی ہوئی ہے جس کے اثرات پاکستانی مارکیٹس پربھی آئے ہیں، توقع ہے کہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں رواں ہفتے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھی ہے مگر یہ ٹیکسٹائل ملز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کچھ عرصے سے بھارت سے ترجیحاً روئی خرید رہی تھیں تاہم یارن پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے بعد اب بھارتی روئی کے نرخ 83 تا 84 سینٹ فی پاؤنڈ ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز بھارتی روئی خریدنے میں دلچسپی نہیں لے رہیں، اس کے نتیجے میں مقامی روئی کی طلب اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ احسان الحق نے کہاکہ پنجاب میں کپاس کی کاشت 15 اپریل سے شروع کرنے کے احکام کی وجہ سے نئی فصل 2ماہ تاخیر سے آئے گی جس سے ملزکے لیے روئی کی سپلائی کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں اور یہ خدشات بھی قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *