مسلم لیگ (ن) سب کو بیوقوف بنا رہی ہے؟

رضا رشید

raza-rashid

سپریم کورٹ میں جاری پانامہ کیس کی سماعت کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں نواز شریف نے بڑی بہادری سے سوسائٹی کے نظر انداز کیے گئے طبقات سے معاملات بہتر کر لیے ہیں۔ دسمبر کے آغاز میں پرائم منسٹر نے قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل فزکس سینٹر کو نوبل انعام یافتہ احمدی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے کاحکم جاری کیا ۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے کتاس راج ہندو ٹیمپل کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ بہت جلد پاکستان اقلیت دوست ملک بن جائے گا۔

مسلم لیگ نواز کی سیاست کا یہ نیا رخ صرف مذکورہ اقدامات تک محدود نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی یہ بازگشت سنی جا رہی تھی کہ ن لیگ لبرل طبقات سے ووٹ حاصل کرنے کےلیے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اوپر سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کی ایک مثال فرید پراچا کا تازہ ترین آرٹیکل ہے جس میں انہوں نے پی ایم ایل این کی طرف سے دیہاتی علاقوں میں سے ماڈریٹ ووٹرز کا ایک حلقہ تیار کیے جانے کے بارے میں لکھا ہے جو پہلے سے ہی بہت فائدہ منداقدام ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ ہم نے حال ہی میں این اے 122 کے الیکشن میں مشاہدہ کیا ہے۔

یہ ایک اچھی سیاسی چال ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد اور دوسری پرو رائٹ پالیسیوں کی وجہ سے جن میں تحریک طالبان سے بات چیت کی پالیسی کی وجہ سے مسلم لین ن کو اس کے حلقے تک محدود کرنے میں کامیاب نظر آتی تھی۔ رائٹ ونگ حلقوں کے علاوہ پی ٹی آئی کو ماڈرن مڈل کلاس کی بھی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ پارٹی کا سٹیٹس کو کے خلاف ایجنڈا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کی نظر انداز ہونے والے طبقات سے جڑنے کی پالیسی ن لیگ کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

البتہ اس بات پر بحث کی جا سکتی ہے کہ کیا واقعی ن لیگ ان اقلیتوں اور دور دراز کے علاقوں کے لبرل ووٹرز کے لیے کچھ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے یا صرف الیکشن کے نقطہ نظر سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اب دیکھیے کہ جیسے ہی نواز شریف نے قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو ڈاکٹر عبد السلام کے نام سے منسوب کیا اگلے ہی دن کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب میں احمدی طبقہ کے ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ مارا اور چار افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس لیے نواز شریف کی یہ کوشش صرف احمدی طبقہ کو وقتی خوش کر کے ان کے ووٹ بٹورنے کی کوشش نظر آتی ہے۔

اس کے بعد وزارت داخلہ کی طرف سے یہ بیان جاری ہوا کہ مذہبی طور پر شدت پسند طبقات جن میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کو دہشت گرد گروپوں میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ رانا ثنا اللہ اب بھی ان طبقات سے خوش نہیں ہیں جب کہ وزارت مذہبی امور ممتاز قادر ی کے قاتلوں کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ سی ٹی ڈی کی طرف سے احمدی طبقہ کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارنے کا مقصد احمدی طبقہ کے مخالفین کی ناراضگی سے بچنا ہے اور حکومت اس طرح کے اقدامات لبرل اور قدامت پسند دونوں طبقات کے ووٹ بینک خراب کرنے سے بچنے کے لیے متضاد پالیسیاں اپنا اختیار کر رہی ہے۔ چوہدری نثار اور ثنااللہ کی مذہبی انتہا پسندوں سے ہمدردی اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت ابھی تک اپنے لبرل سافٹ امیج کو برقرار رکھنے میں ناکام ہے۔

مسلم لیگ اس معاملے میں ڈبل گیم کھیل رہی ہے اور نہ صرف لبرل کلاس کے ووٹ اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے بلکہ قدامت پرست طبقہ کو بھی ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتی۔ یہ متوسط رویہ آج کی سیاست کے لیے ایک بڑی ، تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور رکھنے والی پارٹی کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اب اگر متوسط طبقہ ن لیگ کو ووٹ دے رہا ہے تو بھی اس کی وجہ پارٹی کے کچھ دوسرے اقدامات ہو سکتے ہیں نہ کہ موجودہ پالیسیاں۔ یہاں دو چیزیں ممکن لگتی ہیں ۔ ایک یہ کہ پاکستان کے سیاسی لینڈسکیپ کو دد حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ پہلا طبقہ ایک پارٹی پر مشتمل ہو جائے جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنی پوری طاقت آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ دوسری طرف مختلف پارٹیاں ایک اتحاد کی شکل میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق سیاست کریں ۔

آج سے قبل پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کی جاتی تھی ۔ آج جب پی پی پنجاب میں بہت کمزور ہو چکی ہے تو ن لیگ نے یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے جس کی وجہ سے یہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ یہ حقیقت کہ ن لیگ کی یہ نظریاتی تبدیلی اصل حقیقت سے کہیں دور ہے اور صرف پوائنٹ سکورنگ کا ایک طریقہ ہے اسے کسی طرح سے بھی جمہوریت کے لیے ایک مثبت تبدیلی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دنیا بھر میں بہت پرانی اور مضبوط جمہوری نظام میں بھی قدامت پسند اور لبرل طبقات کے بیچ جنگ دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کمزور ہو جانے کے بعد لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست دو پارٹیوں کے بیچ چائس کے گرد مرتکز ہو چکی ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ایک مضبوط، بہترین طریقے سے منظم فیڈرل پارٹی کی ضرورت ہے جو معاشرے کے پروگریسو تھنکرز کی نمائندگی کر سکے۔ لیکن اب تک اس ملک کی تمام بڑی پارٹیاں اس خلا کو پر کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *