وزیر اعظم کی تقریر میں قطر نہیں تھا بعد میں ذکر سامنے آیا ، سپریم کورٹ

3729

اسلام آباد ۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ پاناما کی کہانی میں قطری سرمایہ کاری اہمیت رکھتی ہے لیکن وزیر اعظم کی تقاریر میں قطری کا ذکر نہیں ، سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کے لیے فنڈز کہاں سے آئے ، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کھلی کتاب کے صفحے گم ہونے کے ریمارکس پر خواجہ سعد رفیق کے بیان پر تبصرہ ، کہتے ہیں میرے ریمارکس پر محترم رکن اسمبلی نے بہت ڈانٹا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی ، پراسیکیوٹر نیب وقاص ڈار نے اسحاق ڈار کیخلاف عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل نہ جمع کرانے کا ریکارڈ اور حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کے سے متعلق اجلاس منٹس بھی پیش کیے ، وقاص ڈار بتایا کہ اس وقت کے پراسیکیوٹر نے اسحاق ڈار کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز دی ، چیئرمین نیب نے پراسیکیوٹر کی تجویز سے اتفاق کیا ۔ عدالتی استفسار پر نیب حکام نے بتایا کہ ایسے لاتعداد مقدمات ہیں جن میں اپیل دائر نہیں کی گئی جس کی وجہ ججز کے فیصلے کا اختلاف تھا ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایسے بہت سے مقدمات ہیں جن میں ججز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا مگر نیب نے اپیل دائر کی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیب کی باری آنے پر اس پہلو کو زیر غور لائیں گے، جسٹس گلزار نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر میں قطر نہیں تھا بعدمیں ذکر سامنے آیا ، طارق شفیع کے پہلے بیان حلفی کے بعد دوسرے بیان میں بہتری لائی گئی ۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حسین نواز نے 1996میں برطانیہ سے قانون کی تعلیم مکمل کی ، حسن نوازنے 1999 میں برطانیہ سے گریجوایشن کی، ریکارڈ سے ثابت ہے کہ فیکٹری کی فروخت سے بارہ ملین درہم ملے ، ہو سکتا ہے فیکٹری منافع سے واجبات ادا کیئے گئے ہوں ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا 75 فیصد شیئرز کی فروخت سے قرضے کی ادائیگی ہوئی? فیکٹری کے باقی واجبات کا کیا بنا ، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 75 فیصد شیئرز کی فروخت سے ملنے والے 21 ملین درہم قرض کی مد میں ادا کیے گئے ، بزنس پر کنٹرول میاں شریف کا تھا ، طارق شفیع روزانہ کے امور نہیں دیکھتے تھے ، عدالتی بینچ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں چھ نئے صنعتی یونٹ لگانے کا ذکر کیا ، جب ملک میں چھ نئے صنعتی یونٹ لگالیے تو پھر دبئی فیکٹری لگانے کی کیا ضرورت تھی ۔ سلمان اکرم راجانے کہا کہ دبئی سٹیل ملز کو یو اے ای کے خاندان نے 2001 میں بند کر دیا ، جدہ فیکٹری دبئی کی مشینری سے قائم کی گئی ، جدہ فیکٹری میں اس کے علاوہ نئی مشینری بھی لگائی گئی ، دو ہزار ایک کے بعد حسین نواز نے میاں شریف کی رہنمائی میں مشینری خریدی ، سات نومبر کے تحریری جواب میں بارہ ملین درہم کی سرمایہ کاری کا ذکر ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ طارق شفیع کو قطرسرمایہ کاری کا علم تھا تو بیان حلفی میں ذکر کر دیتے ، سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کے لیے فنڈز کہاں سے آئے ، حسین نواز کے مطابق فلیٹس قطری سرمایہ کاری سے ملے ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قطری شاہی خاندان معاملہ میں شامل تھا اس لیے ذکر نہیں کیا گیا ، ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں ٹرائل ہورہا ہے ، طارق شفیع کو کٹہرے میں بلا کر تمام سوال پوچھ لیے جائیں ۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ میں نے اپنے ریمارکس میں وزیر اعظم کی زندگی کی کھلی کتاب کے کچھ صفحے گم ہونے کی بات کی ، انہوں نے خواجہ سعد رفیق کا نام لیے بغیر کہا کہ میرے ریمارکس پر محترم رکن اسمبلی نے بہت ڈانٹا ، غلطی ہو سکتی ہے کہ ہمیں نظر نہ آیا ہو ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا یہ سب کچھ دانستہ طور پر کہا گیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس کہانی کا اہم حصہ قطری سرمایا کاری ہے ، وزیر اعظم کی تقریر اور طارق شفیع کے بیان حلفی میں قطر کی سرمایہ کاری کا ذکر نہیں تھا ۔ حسین نواز کے وکیل نے کہا کہ اسمبلی اور قوم سے خطاب عمومی نوعیت کے تھے ، قطری خاندان کی رضامندی کے بعد قطر کی سرمایہ کاری کا موقف سامنے لایا گیا ۔ بینچ کا کہنا تھا کہ نظر نہیں آرہا کہ بارہ ملین درہم کی رقم کیسے ملی ، فیکٹری کی فروخت کے معاہدے کے مطابق بارہ ملین درہم ملے ، ہر معاہدے میں بینک کا ذکر ہے ، 12 ملین درہم کے معاملے میں کیش کا ذکر ہے ۔ جو دستاویزات لائی گئی ہیں ان سے بات ثابت نہیں ہوتی ۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بارہ ملین درہم کی رقم ریکارڈ میں ثابت ہے ، دیکھ لیں ، یہاں جرح یا ٹرائل نہیں ہو رہا ، یہ کوئی عجب کی بات نہیں، نقد رقم بھی لی جاتی ہے ، 12 ملین درہم اونٹوں پر لے جانے کی بات کی گئی ، 1980 میں دبئی میں ہزار درہم کا نوٹ موجود تھا ، یہ اتنی بڑی رقم نہیں تھی کہ اونٹوں پر لے جائی جاتی ، شریف فیملی کا جہاز کراچی بندرگاہ پر روکنے سے 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ۔ شریف فیملی نے 1993 سے 1996 میں لندن فلیٹس نہیں خریدے ، لندن فلیٹس کی 1993،96 میں مالیت 7 کروڑ روپے بنتی تھی ۔ عدالتی استفسار پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں ، شریف فیملی کے بچے شروع سے لندن فلیٹس میں رہ رہے تھے ، شریف فیملی 1993،96 میں آف شور کمپنیوں کی مالک نہیں تھی ، شریف فیملی نے لندن فلیٹس 2006 میں خریدے ، 2006 سے پہلے کمپنیوں کے بیئرر سرٹیفکیٹس الثانی خاندان کے پاس تھے ۔ الثانی خاندان نے 1993،96 میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے فلیٹس خریدے ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا حمد بن جاسم سے پوچھ لیں کہ انہوں نے یہ فلیٹس کب خریدے ۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ، شریف کے فیملی کے بچے وہاں رہ رہے تھے ، بینچ کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس لندن فلیٹس سے متعلق رجسٹرار کا ریکارڈ تو ہوگا ، شریف فیملی کے بچے وہاں کیسے رہ رہے تھے ، حسن اور حسین نواز کب سے وہاں رہنا شروع ہوئے ، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 1993 میں حسن اور حسین نواز وہاں رہتے تھے ، خاندانی تعلقات کی بدولت حسن اور حسین لندن فلیٹس میں رہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بڑے گہرے خاندانی تعلقات تھے کہ شریف فیملی 13 سال تک فلیٹس میں رہائش پذیر رہی ، حسین نواز کے وکیل بولے شریف فیملی فلیٹس کا کرایہ ادا کرتی تھی ، الثانی خاندان کے پاس لندن میں بہت سے فلیٹس ہیں ، عدالت مفروضوں کو نہ دیکھے ۔ شیزی نقوی نے رحمان ملک رپورٹ کی بنیاد پر فلیٹس کی ملکیت شریف خاندان کی بتائی ، شیزی نقوی پاکستانی ہے جو ابھی تک التوفیق کمپنی کے ساتھ وابستہ ہے :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *