میاں شریف کی جائیداد تقسیم کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع!

3

اسلام آباد ۔ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے میاں شریف کی وفات کے بعد جائیداد تقسیم کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں ۔ نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کو دی گئی معافی سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کر دیا گیا ۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر مل ریفرنسز میں مسترد کیے جانے کیخلاف اپیل نہ کرنے کے نیب کے فیصلے کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی ۔ نیب نے اسحاق ڈار کی معافی سے متعلق ریکارڈ جمع کرایا جس کے مطابق 20 اپریل 2000 کو اسحاق ڈار نے معافی کی درخواست دی ۔ 21 اپریل 2000 کو چیئرمین نیب نے معافی کی درخواست منظور کی ۔ 24 اپریل کو تحقیقاتی افسر نے بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست دی تھی ۔ 25 اپریل کو اسحاق ڈار کا اعترافی بیان ریکارڈ ہوا ۔ اسحاق ڈار اور مریم نواز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کیخلاف نااہلی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائرہوئی ، عدالت نے نااہلی کی درخواست اور پھر انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی ۔ حدیبیہ پیپر منی لانڈرنگ کیس میں 2 رکنی بینچ کا فیصلہ ٹائی ہونے پر معاملہ ریفری جج کو بھجوا دیا گیا ۔ ریفری جج نے نیب کی دوبارہ تحقیقات کی استدعا مسترد کر دی ۔ عدالتی استفسار پر شاہد حامد نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں ہوا ۔ اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کیس ختم ہوگیا ہے ، صرف الزام کی بنیاد پر کسی کو نا اہل نہیں کیا جا سکتا ، منی لانڈرنگ کا الزام 1992 کا ہے اس وقت اسحاق ڈار کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتے تھے ، یہ 25 سال پرانا معاملہ ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ 25 سال پرانا معاملہ ضرور ہے لیکن 2014 تک زندہ رہا ۔ شاہد حامد نے کہا کہ 25 برسوں میں اس معاملے کو ہائیکورٹ کے 13 ججز مختلف ادوار میں سن چکے ہیں ۔ لاہور ہائیکورٹ کے پانچ ججز کے مطابق ایف آئی اے کو بیرون ملک اکاؤنٹس کی تحقیقات کا اختیار نہیں ، نیب ریفرنسز غیر قانونی ہونے پر ختم کیے گئے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے والا مجسٹریٹ احتساب عدالت میں پیش ہوا? کیا مجسٹریٹ نے اعترافی بیان کی تصدیق کی? شاہد حامد نے کہا کہ اس وقت نیب قانون کے تحت مجسٹریٹ کا پیش ہونا لازمی نہیں تھا ، نیب قانون کے تحت معافی کے بعد اسحاق ڈار ملزم نہیں تھے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسحاق ڈار کو مکمل معافی فراہم کی گئی ، اسحاق ڈار نے چیئرمین نیب کو تحریری درخواست معافی خود پیش کی ۔ اعترافی بیان کے بعد اسحاق ڈار اٹک جیل میں رہے ، شاہد حامد نے کہا کہ حراست کیخلاف عدلیہ سے رجوع کیا گیا ۔ اعترافی بیان کو اسحاق ڈار کیخلاف استعمال نہیں کا جاسکتا ، حتمی ریفرنس میں اسحاق ڈار کا نام ملزمان کی فہرست سے نکال دیا گیا ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان معافی کے بعد ریکارڈ ہوا ، وعدہ معاف گواہ کے تحفظ اور شواہد کے تحفظ کیلئے بھی اسے حراست میں رکھا جاتا ہے ، مشترکہ ٹرائل میں اعترافی بیان نواز شریف کیخلاف استعمال ہو سکتا تھا ، اسحاق ڈار کے وعدہ معاف گواہ بننے پر ان کے خلاف اعترافی بیان استعمال نہیں ہوسکتا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسحاق ڈار کو معافی اعترافی بیان پر دی گئی ، اگر اعترافی بیان ختم ہو جائے تو معافی بھی ختم ہو جاتی ہے? اسحاق ڈار کا اعترافی بیان نیب کے ریفرنس میں تھا ، لاہور ہائی کورٹ ریفرنسز کو مسترد کر چکی ۔ بینچ نے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار اپنے اعترافی بیان پر قائم ہیں ? شاہد حامد نے کہا کہ عدالتی بیان کے بعد اسحاق ڈار کو اٹک قلعے میں رکھا گیا ، اٹک قلعے میں کیسے رکھا جاتا ہے اگر خواجہ آصف موجود ہیں تو ان سے پوچھ سکتے ہیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا تسلیم کر رہے ہیں کہ شواہد 184 تین کے مقدمے میں ریکارڈ ہو سکتے ہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جب تک کسی عدالتی فورم پر معاملہ بحال نہ ہو یہ ایشو ختم ہو چکا ہے ، آپ کہہ رہے ہیں جس کسی نے اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کی حقیقت معلوم کرنی ہے چند دن اٹک قلعے میں گزار آئے ، شاہد حامد نے کہا کہ تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کی حیثیت نہیں ہے ، جس رقم کی بنیاد پر ریفرنس بنایا گیا وہ قومی خزانے کی نہیں تھی ، حدیبیہ پیپرز ریفرنس میں سٹی بینک کے اکاؤنٹس کا معاملہ تھا ، ایک ہی الزام پر کسی کو دوسری مرتبہ پراسیکیوٹ نہیں کیا جا سکتا ، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دوسری پارٹی کا موقف ہے کہ نیب نے عدالت عالیہ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں کی ، سمجھتے ہیں کہ قانون کے تحت ایک الزام پر دو مرتبہ ٹرائل نہیں ہو سکتا ، نیب نے حدیبیہ پیپر منی لانڈرنگ کیس میں اپیل دائر کیوں نہیں کی ۔ شاہد حامد کے دلائل مکمل ہونے پر پراسیکیوٹر جنرل نیب وقاص ڈار نے عدالت کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں کہ معافی کی درخواست کس نے لکھی لیکن اس پر دستخط اسحاق ڈار کے ہیں ۔ 21 اپریل کو چیئرمین نیب نے اسحاق ڈار کی معافی کی منظوری دی ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کو دی گئی معافی مشروط تھی یا غیرمشروط? ۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو مکمل معافی دی گئی ، 25 اپریل 2000 کو اسحاق ڈار کا اعترافی بیان ریکارڈ ہوا ، 16 نومبر2000 کو نیب نے حتمی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کی ، فائنل ریفرنس میں اسحاق ڈار کو بطور گواہ شامل کیا گیا ، 27 مارچ 2000 کے عبوری ریفرنس میں اسحاق ڈار ملزم تھے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر حتمی ریفرنس دائر ہوا ۔ لاہور ہائیکورٹ سے ریفرنس منسوخ ہونے پر نیب کو تشویش ہونی چاہیے تھی ، کیا نیب ریفرنس میں صرف ایک ثبوت یا شہادت تھی، اس کا مطلب ہے کہ نیب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے ، بینچ کا کہنا تھا کہ کیا ازسرنو تحقیقات کے معاملے پر اپیل نہیں کرنی چاہیے تھی ، کیا آئندہ کبھی نیب دوبارہ تحقیقات کی درخواست مسترد ہونے پر اپیل نہیں کرےگا? نیب مقدمات میں اپیل اس لیے بھی دائر کی جاتی ہے کہ دوسری پارٹی سے ملنے کا الزام نہ لگے ، وقاص ڈار نے کہا کہ اپیل دائر کرتے تو سپریم کورٹ سے جھاڑ پڑتی تھی، نیب بورڈ اجلاس میں اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ ہوا جس کے منٹس موجود ہیں جس پر جسٹس آصف سعید نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے کہا کہ وہ نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے منٹس منگوا لیں ۔ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے میاں شریف کی وفات کے بعد ان کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق تفصیلات بند لفافے میں جمع کرائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف فیملی کا ریکارڈ صرف عدالت کے دیکھنے کیلئے ہے :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *