ماں جائے سے جدائی کا غم !

naeem-baloch1

نصف صدی سے بھی تین برس زائد کی رفاقت کی داستان کا حال کہاں سے شروع کروں ؟
وہ مجھ سے ایک سال چھوٹے تھے ، میٹرک تک ہم اکٹھے پڑھتے رہے ، بچپن کے سارے خوبصورت دن اکٹھے گزارے، ان کا تعلیمی رکارڈ کوئی خاص نہیں تھا، علم و ادب سے ان کو کوئی دلچسپی نہ تھی۔۔۔لیکن یہ ان کی شخصیت کا تعارف نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ ان تمام خوبیوں سے متصف تھے جس کی بنیاد پر اللہ کی عدالت نے اصل کامیابی کا فیصلہ کرنا ہے ۔ شرافت ، وضع داری اور طبیعت کی نرمی ان کے اصل اوصاف تھے۔ صرف ایک واقعہ ان کی دل نوازشخصیت کوجاننے کے لیے کافی ہو گا ۔
مجھے ہمیشہ اسی وقت کوئی کام کہتے جب بہت مجبور ہو جاتے۔۔۔میں دنیا نیوز سے وابستہ تھا کہ ان کا فون آیا :میں نے کمیٹی ڈالی تھی ، دو ماہ قبل ملنی تھی ، مگر وہ دے نہیں رہا ، پہلے وعدہ کرتا رہا لیکن اب فون ہی نہیں اٹھاتا ۔ پوچھا : کوئی ثبوت ہے ؟ کہا : ہاں ، وہ کارڈ جس پر وہ کمیٹی لے کر دستخط کرتا تھا۔پوچھا : پہلے سے واقفیت تھی ، کہا : بس ایک دو د فعہ د کان پر آیا ، گاہک تھا، کارڈ دکھایا ، میں مان گیا ۔ میں نے اس کا فون نمبر لیا ، شبیر کو لے کر اس کے گھر بھی گیا ، اس سے خوددعدہ بھی لیا، مگر آدمی واقعی فراڈ تھا ، تب میں نے کرائم رپورٹر سے متعلقہ تھانے فون کروایا ۔ تھانے دار نے شبیر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ایک دو دن میں پیسے دے جائے گا ۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے شبیر سے پوچھا: رقم ملی ؟ بولے :ہاں ، کچھ پیسے دے گیا تھا ، بہت رو رہا تھا کہ میرے پاس یہی کچھ ہے ، بھائی کو نہ بتانا۔۔۔ پولیس مارے گی بھی اور پیسے بھی بٹورے گی ، کیا تم چاہو گے کہ میں پولیس کو بھی رشوت دوں اور تمھیں بھی پیسے دوں ؟ میں نے پوچھا کہ پھر تم نے کیا کہا ؟ بولے : میں نے تھانے دار کو فون کر دیا تھا کہ پیسے مل گئے ہیں !
اپنی اسی عادت کے مطابق تکلیف کا اس وقت بتایا جب دکان کھولنے کے قابل نہ رہے ، کسی مقامی حکیم کی دواکھائی، فرق پڑنے کے بجائے تکلیف بڑھی تو چھوٹے بھائی تحسین احمد کو بتا یا،اس نے فوراً ڈاکٹر ہارون یوسف سے وقت لیا جو پہلے ان کے ہپاٹائٹس کا کامیاب علاج کر چکے تھے ۔ انھوں نے ابتدائی رپورٹس دیکھیں تو جگر کا سی ٹی سکین کروانے کا کہا اور گہری پریشانی کا بھی اظہار کیا ۔ تب مجھے بتایا گیا اور وہ بھی شبیر نے نہیں بلکہ تحسین نے! اور کہا کہ ایک دوست نے خون کی رپورٹ دیکھی ہے اور کہا ہے کہ الفا فیٹو پروٹین کی مقدار دس سے زائد نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ سترہ سوچالیس ہے ، یہ کینسر کی واضح علامت ہے۔ میں نے اسی وقت کالج سے چھٹی لی اور سیدھاشبیر کے پاس پہنچا۔ اسے بڑا مضمحل دیکھا ۔ اس کا خیال تھا ہپاٹائٹس کا وائرس دوبارہ ایکٹو ہو گیا ہے ۔ میں نے رپورٹس موبائل سے اپنے دوست ڈاکٹر منیر احمد کو وٹس اپ کر دیں اور تسلی دے کر مگر بوجھل دل سے واپس آگیا۔اگلے دن ان کی طبیعت مزید خراب ہوئی تو انھیں اتفاق اسپتال داخل کرادیا گیا۔ اسی دوران ان کی سی ٹی سکین رپورٹ آچکی تھی اور اس کی فائیڈنگ کے مطابق وہ ’’کرانیکل لیور ڈیزیز‘‘ کے مریض تھے جبکہ اتفاق اسپتال والوں نے تین دنوں کی ’’ٹیسٹ زنی ‘‘کے بعد اپنے سب سے بڑے ماہر جگر ڈاکٹر’ انعام اللہ سلیم ‘کے حوالے سے بتایا کہ انھیں ہپاٹائٹس سی ہے ۔اگلے دن ڈاکٹر ہارون سے بھی وقت لے لیا ۔ مگر انھوں نے رپورٹس دیکھ کر ہماری جان ہی نکال دی : ’’انھیں کینسر ہے ۔۔۔۔دس سینٹی میٹر سے بھی بڑا ٹیومر ہے ، ان کا کوئی ٹرانس پلانٹ ، کوئی آپریشن ممکن نہیں ،آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ تین ماہ ہیں ، میں آپ کو اپنے سینئرز کے پاس بھج رہا ہوں‘‘۔اگلے آدھ گھنٹے کے بعد ہم ان کے سینئرڈاکٹر عامرلطیف کے پاس بیٹھے تھے ۔ انھوں نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ کچھ ممکن نہیں،میں زیادہ سے زیادہ اپنے بورڈ کے سامنے کیس رکھتا ہوں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ’’ ٹیس ‘‘کا مشورہ دیں جو ایک طرح سے ٹیومر کو خاص قسم کے ’ایسڈ ‘‘ سے کمزور کرنے کا طریقہ ہے لیکن میں ذاتی طور پر اس کی کامیابی کے لیے پرامید مطمئن نہیں !مختصر یہ کہ ڈاکٹر عامر لطیف نے ہماری پاؤں تلے پوری طرح زمین نکال دی ۔bhai
جب انسان کی خواہش کے خلاف کوئی بہت انہونی بات ہو جائے تو وہ حقائق کے انکار کی کوشش کرتا ہے ، کچھ یہی کیفیت میری بھی تھی ۔ میرا خیال تھا کہ یہ ڈاکٹر بہت ہی ’ایسا ویسا‘ ہے۔ یہ پیسے بنانے کے لیے ہمیں خواہ مخواہ بری طرح ڈرا رہا ہے ۔ لیکن اندر سے میں پوری طرح خوف زدہ ہو چکا تھا۔ انتہائی بجھے دل کے ساتھ اگلے دن یہی رپورٹس ہم نے اتفاق اسپتال کے ڈاکٹر انعام اللہ سلیم کو دکھائیں تو انھوں نے بڑے وثوق سے بتایا کہ مطمئن ہو جائیں انھیں کینسر ہر گز نہیں ۔ یہ سن کر ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا ۔ میں خیالوں ہی خیالوں میں اس کا منصوبہ بنانے لگا کہ شبیر صحت یاب ہو نے کے بعد ان دونوں گھامڑ ڈاکٹروں کے پاس جائے اور کہے کہ موت کی ’خوشخبریاں ‘ سنانے والو ، دیکھو میں بالکل ٹھیک ہوگیا ہوں !
لیکن اندر کا خوف اور ایلفا فیٹو پروٹین رپورٹ چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ تب میں نے ڈاکٹر منیر صاحب کو سارا حال کہہ سنا یا تو انھوں نے ہمیں ڈاکٹرعارف امیر نواز سے ٹائم لینے کو کہا ۔اگلے دن ان کے ہاں پہنچے تو انھوں نے ڈاکٹر عامر لطیف کی ساری باتیں سو فیصد دہرا دیں ، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ ایک بڑی بات ہے اس لیے بہتر ہے آپ سی ٹی سکین کی نئی ریڈنگ کرائیں ۔ یہ امید ٹوٹنے کا پہلا مرحلہ تھا! اورہمارے خوفناک اندیشے اس وقت بھیانک روپ دھار چکے تھے جب ڈاکٹر نجم اور شوکت خانم اسپتال کے بورڈ سمیت دیگر کئی ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ دس سینٹی میٹر سے بھی بڑا یہ ٹیومر، جو اتفاق اسپتال کے ڈاکٹر انعام اللہ سلیم کو بالکل بھی نظر نہیںآیا تھا ، اب جان لیوا بن چکا ہے اور جملہ مسیحان کا ہمارے لیے یہی مشورہ تھا کہ اس کے سوا کوئی چارا نہیں کہ ہم شبیر کو اسپتال سے گھر لے جائیں اور اسے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ زندگی کے باقی دن گزار لینے دیں !چنانچہ جب میں شبیر کو اس کے گھر لے جارہاتھا تو انتہائی کرب کے لمحات سے گزر رہاتھا ۔ رونا چاہتا تھا لیکن رو نہیں سکتا تھا ، اس کے بیوی بچوں اور خود شبیر کی ہمت کو آخری وقت تک برقرار رکھنا ضروری تھا ،یہ خبر موت سے پہلے گھر میں صف ماتم بچھا دیتی ۔ یوں ہم چاروں بھائیوں کو بھائی کی موت کا غم اس کی وفات سے پہلے سہنا پڑا۔ وہ زندہ تھا لیکن ہم بد نصیب اس کی تدفین ، اس کی بیوہ اور یتیم ہونے والے بچوں کے لیے اگلے لائحہ عمل پر گفتگو کرنے پر مجبور تھے! ان کے گھر، جب میں مصنوعی طریقے سے، اس کے بیوی بچوں کو دلاسا دیتا تو اپنی حالت پر ہنسی آتی کہ :
میری آہ کو دبا کر میرے اشک کو چھپا کر
میرا ساتھ دے رہا ہے میرا ظاہری تبسم !
یہ کیفیت اکیس دن مزید رہی اور یوں ستائیس جنوری کا سورج اور شبیر احمد ایک ساتھ ہی غروب ہو گئے!
اس دوران ہومیو پیتھک طریقہ علاج اور کچھ’ بے ضرر‘ ٹوٹکے آزمائے جاتے رہے لیکن یہ تنکے وہ نہیں تھے جو ڈوبتوں کو بچا لیا کرتے ہیں۔
میت کو غسل دینے کا مرحلہ آیا تو بتا یاگیا کہ یہ ایک فن ہے جو مولوی صاحب ہی انجام دے سکتے ہیں ۔ دو عدد مولوی صاحبا ن پڑوسیوں کی وساطت سے آن موجود ہوئے۔ ان سے یہ’ معاہدہ ‘ طے پایا کہ وہ صرف رہنمائی فرمائیں گے ، فریضہ بھائی تحسین اور مجھے ہی ادا کرنا ہے ۔ میرا خیال یہ تھا کہ ان سبز پگڑیوں والوں کی چنداں ضرورت نہیں لیکن انھوں نے میرے علم میں یہ کہہ کر جب اضافہ کیا کہ کفن کے کپڑوں کو کھولیں ، اس میں ایک دستانہ ہو گا ، اس کو پہن کر ستر کے حصوں کو دھونا ہے تو مجھے ان کی موجودگی کی اہمیت کا احساس ہوا ۔ لیکن اگلے لمحے انھوں نے پوچھا کہ اگر بتیاں کہاں ہیں؟ میں نے کہا کہ ان کی کیا ضرورت ہے ؟ بتایا : تاکہ میت کے ارد گرد خوشبو رہے ! تب مجھ پر یہ راز کھلا کہ غسل کے وقت خوشبو پھیلنے کی کہانیوں کی اصل حقیقت کیا ہے ! بہر کیف میں نے ذرا خشک لہجے میں کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں، البتہ اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو میں ایئر فریشنر منگوا دیتا ہوں ۔کسی قدر تردد کے بعد وہ مان گئے ، لیکن جلد ہی انھوں نے فرمایا کہ آپ کی موجودگی اضافی ہے ، صرف تحسین ہی اس کے لیے کافی ہو گا لیکن میں وہاں اس طرح موجود رہا کہ مولوی صاحبان مجھے دیکھ نہیں سکتے تھے مگر میں اس سارے عمل کو دیکھ سکتا تھا ، یوں میں میت کو غسل دینے کے تمام رموز سے واقف ہو گیا کہ میت کو بے ستر کیے بغیر اس کے سارے جسم پر پانی بہانا ہے ! اور مناسب یہی ہے کہ یہ کام میت کے قریبی ورثاء ہی کریں، یہی دنیا سے ہمیشہ کے لیے جانے والے سے تعلق خاطر کا تقاضا ہے !
جنازے کے لیے میت کو اٹھانا اس لیے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے کہ خواتین بجا طور پر سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ اب ہمیشہ کے لیے بچھڑنے کا لمحہ آن پہنچا ، اس لیے بہت زیادہ رونا دھونا ہوتا ہے ۔ روایتی جہالت کی وجہ سے خواتین میں اس کا مقابلہ بھی ہوتا ہے کہ کون زیادہ غم کا مظاہرہ کرتا ہے،لیکن بیوی، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے یہ قیامت کا لمحہ ہوتا ہے ۔ شبیر کی بیگم ہماری سگی خالہ کی بیٹی ہیں ، پھر دونوں میاں بیوی میں بہت پیار محبت تھا ، اس لیے وہ شدت غم سے بے ہوش ہو گئیں ، ہماری اکلوتی بہن علیحدہ سے رو رو کر بے حال ہو رہی تھیں، بہرحال یہ مرحلہ بھی طے ہوا ۔ جنازہ اٹھا اور مقررہ جگہ پہنچا ۔ جنازہ دو جگہ ہونا تھا ، ایک رہائش گاہ پر جو کہ مناواں سے بھی تین چار کلومیٹر دور گلشن رحمان میں ہے ۔ لاہور سے بہت دور اس جگہ پہنچنا کوئی آسان کام نہیں تھا ، اس لیے لوگوں کی سہولت کے لیے دوسرا جنازہ گھوڑے شاہ کے قبرستان میں رکھا گیا جہاں والدہ کی قبر کے ساتھ مرحوم کو سپرد خاک کیا جانا تھا۔ لیکن بڑی خوشگوار حیرت ہوئی جب میں نے ڈاکٹر منیر احمد ، ڈاکٹر شہزاد سلیم ،عزیزم جواد غامدی، برادرم محمد بلال اور جناب فرنود عالم کو بھی جنازے میں شامل ہوتے دیکھا۔ وہ خاصا طویل اور مشکل فاصلہ طے کر کے پوچھتے پچھاتے یہاں پہنچے تھے۔باقی احباب گھوڑے شاہ کے قبرستان میں پہنچے۔
شبیر احمد بہت سادہ دل، بچوں سے بے پناہ محبت کرنے والے ،صلح جو ،دل کے بہت صاف، پکے نمازی،بدعات اور مذہب کے نام پر رسوم و قیود سے بے زار مسلمان تھے۔ بہت واجبی سی دکانداری کے باوجود کمیٹیاں ڈال کرعمرہ کیا۔ کنجوسی کے بجائے بھر پور طریقے سے بیوی بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھا۔ گھر میں چھوٹی موٹی بد مزگیوں کو وہ بہت احسن طریقے سے نبٹاتے ، مجھے ثالثی کے لیے یاد نہیں کبھی کچھ کرنا پڑا ہو، والد صاحب کی وفات کے بعد والدہ انہی کے ساتھ رہیں اور انھوں نے کبھی گلہ نہ کیا میں علیحدہ کیوں رہتا ہوں اور نہ مجھے کوئی شکایت کہ والدہ کا خیال نہیں رکھا۔ ان کو بھلانا ہر گز آسان نہ ہوگا ، وہ بہت یاد آئیں گے۔ ان کی چھوٹی بیٹیاں اعزہ اور فضہ تو کم عمر ہونے کی وجہ سے شاید بہل جائیں لیکن ان کے صاحب زادے جواد احمد، جو کہ ایم کام کے طالبعلم ہیں ، ان کی بڑی بیٹی زنیرہ ،بی اے میں پڑھ رہی ہے
، باپ کو نہ جانے کیسے بھلا پائیں گے،اور ان کی بیوہ۔۔۔۔ اللہ ہی ان کو صبر جمیل دے سکتا ہے ۔ ہم بھائی ان کے ساتھ ہیں ،ہر حوالے سے اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی دعا اور عزم کے ساتھ !

ماں جائے سے جدائی کا غم !” پر بصرے

  • فروری 2, 2017 at 12:29 PM
    Permalink

    موت بہت بڑی حقیقت ہے ۔۔۔۔
    اللہ تعالئی مرحوم کے درجات بلند کرے۔۔ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔۔ اور لواحیقین کو صبر جمیل عطا کرے۔۔۔
    آمین۔۔
    ربنا اتنا فیاالدنیا حسنتہ و فیالآخرتہ حسنتہ
    و قنا عذابالانار۔۔۔۔

    Reply
  • فروری 3, 2017 at 9:12 AM
    Permalink

    اپ کی تحریر پڑھ کر نمناک ہو گیا ہوں ۔ اللہ ان کی مغفرت کرے اور اپ لوگوں کو صبر جمیل عطا کرے۔ یقینا جو غم لواحقین کو ہوتا دوسرا اس کا اندازہ نہیں کرسکتا ہے۔ یہ ایک راستہ ہے جس سے ہر ایک کو گذرنا ہے۔ کل نفس ذائقة الموت۔ ثم الینا ترجعون۔ یہ بات بڑی خوبصورت ہے کہ وہ چھوٹے کاروبار کے باوجود عمرہ کر ائے ہیں۔ بہت زیادہ لکھنا پڑھنا کوئی لازمی امر نہیں اصل ضرورت بنیادی اگاہی اور دینی ذمہ داریوں کی بجا اوری ہے۔ اللہ تعلی اپ کے بھائی کو جنت فردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ اور انہیں اپنے مقربین میں شامل کرے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *