پاکستان کی ابتدا سے آج تک کی تاریخ پر ایک نظر

ندیم ایف پراچا  

historic moments 1مہاجرین کی آمد

پاکستان کے بانی قائد اعظم  1947 میں کراچی کے مہاجرین کی شکایات سن رہے تھے۔ کئی لاکھ مہاجرین نے نئے ملک کی طرف ہجرت کی  اور ملک میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا۔ زیادہ تر مہاجرین کو سندھ اور پنجاب کے مہاجر کیمپوں میں ٹھہرایا گیا۔ 1960historic image 2 تک یہ کیمپ جرائم، بے روز گاری اور نشے کے مراکز بن کر رہے گئے۔  70 کی دہائی میں ان کیمپوں اور بستیوں کو ریگولرائز کیا گا اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں
جن میں پانی اور بجلی کی سہولتیں قابل ذکر ہیں۔یہ علاقے اب بھی گنجان آباد ہیں۔ 

یہ تصویر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی ہے۔ یہ ان کے قتل سے 20 منٹ قبل لی گئی تھی۔ لیاقت علی خان تقریر کرنے سٹیج کی طرف جا رہہے تھے جب ایک پختون قوم پرست  سعید اکبر نے انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ پولیس نے اکبر کو اسی جگہ موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اکبر کو لیاقت علی خان کے مخالفین نے یہ کام سونپا تھا۔ لیکن ان دعووں کا کوئی ثبوت آج تک نہیں مل پایا۔

historic image 3
پہلا خلا

1952 میں ڈھاکہ میں لوگ بنگال کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے۔ 1952 میں مشرقی پاکستان میں دنگے فساد شروع ہو گئے جب بنگالی سیاست دانوں نے بنگالی زبان کو قومی زبان بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان دنگوں میں بے سے مظاہرین کی جانیں چلی گئیں۔ 1954 میں بنگالی کو قومی زبان قرار دے دیا گیا۔

قومی ترانے کے خالق

اس تصویر میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندری اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ 1954 کی تصویر ہے۔ جالندھری نے قومی ترانہ 1952 میں لکھا۔ 1954 میں سرکاری طور پر اسے قومی ترانہ قرار دیا گیا۔ قومی ترانہ historic image 4
ملک بننے کے سات سال بعد بنایا گیا۔ 1948 میں جب انڈونیشیا کے صدر پہلے غیر ملکی سربراہ کی حیثیت سے پاکستان آئے تب پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہیں تھا۔ 1950 میں ایرانی صدر کی آمد سے قبل ترانہ کمیٹی پر جلد از جلد ترانہ تیار کرنے پر زور دیا گیا۔ کمیٹی کو الفاظ پر اختلاف تھا لیکن میوزک احمد جی چاغلا نے پیش کر دیا تھا۔ اس لیے 1952 اور 1954 کے بیچ پاکستان کا قومی ترانہ صرف موسیقی کی دھن پر مشتمل تھا۔ جالندھری نے جو الفاظ 1952 میں لکھے تھے انہیں 1954 میں منظور کر لیا گیا اور
پھر قومی ترانہ پہلی بار ریڈیو پر پیش کیا گیا ۔ ترانے کے تمام الفاظ فارسی میں ہیں اور صرف ایک لفظ 'کا' اردو میں ہے۔

آخری قبیلہ

1957 میں کراچی میں قائم ہونے والا یہودی عبادت گاہ ۔ بورڈ پر اردو، بنگالی اور ہبرانی زبان میں لکھا ہے پاکستانی اسرائیلی historic moments 5مسجد۔ 1950 کی دہائی میں کراچی میں 1300 کے لگ بھگ یہودی آباد تھے
۔ یہ عبادت گاہ 1893 میں قائم کی گئی تھی۔ 1936 میں اس کی مرمت ابراہم روبن نے کروائی جو ایک یہودی کونسلر تھے۔ آخری یہودی خاندان نے  60 کی دہائی کے اواخر میں پاکستان سے ہجرت کی تھی۔ عبادت گاہ 1988 تک پاکستان میں ایک ثقافی نمونہ ک
ے طور پر موجود رہی۔ بعد میں اسے ڈھا کر یہاں شاپنگ مال کے لیے پلازہ تعمیر کیا گیا۔


historic image 11 
طاقت کا مظاہرہ

1958 میں پہلا مارشل لا لگنے کے بعد پولیس نے  کراچی کی سڑکوں پر گشت کر رہی ہے۔ یہ مارشل لا پاکستان کے صدر اسکندر مرزا نے آرمی چیف ایوب خان کی مدد سے لگایا۔  دونوں رہنماوں نے سیاستدانوں پر کرپشن اور اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے
استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ آئین کو معطل کر دیا گیا اور ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بجائے جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ کچھ ماہ بعد ایوب نے historic image 6broadcastingمرزا کو برطرف کر دیا اور 1959 میں ایوب خود صدر بن گئے۔

چھوٹی شروعات

اس تصویر میں پاکستان کے پہلے ٹیلیویژن کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستان میں ٹیلیویژن کی آمد 1964 میں ہوئی۔ پاکستان کا پہلا ٹی وی سٹیشن لاہور کے ایک بنگلے میں قائم کیا گیا۔ یہ ٹی وی سٹیشن  جاپانی ٹیکنیشن اور ٹرینر نِپان کارپوریشن کی مدد سے قائم کیا گیا۔ نپان اور ایک پاکستانی انڈسٹریلسٹ سید واجد علی اس پراجیکٹ کے شئیرز کے مالک تھے۔ چینل کو پاکستان ٹیلیویژن کارپوریشن کا نام دیا گیا اور پائلٹ پراجیکٹ کو کراچی اور راولپنڈی تک وسیع کرنے کا آغاز ہوا۔ 1972 تک پی ٹی وی پرائیویٹ انٹر پرائز کی صورت میں موجود رہا۔ جنوری 1972 کو ذوالفقار علی بھٹو نے اسے قومیانے کا فیصلہ کیا ۔ 1974 میں پی ٹی وی سٹیشن کو لاہور، کراچی اور راولپنڈی تک پہنچایا گیا اور بعد میں کوئٹہ اور پشاور میں بھی ٹی وی سٹیشن قائم کیے گئے۔ آج پی ٹی وی کے چھ چینلhistoric image 13 ہیں۔

پی آئی اے کے سفر کا آغاز

اس تصویر میں پاکستانی ائیر لائن کی ہوسٹیس کی موجود ہیں۔ یہ تصویر 1965 کے کراچی ائیر پورٹ کے رن وے کی تصویر ہے۔ 1955 تک پاکستان کی کوئی نیشنل ائیر وے کمپنی نہیں تھی۔ 1955 میں اورینٹ ائیر ویزhistoric image 8 کو قومیایا گیا اور اسے پی آئی اے کا نام دیا گیا۔ 1960 میں پی آئی اے تیزی سے بڑھنے والی ائیر لائن بن گئی۔ اس میں پہلی بار ان فلائٹ تفریحات کی سہولت مہیا کی گئی۔ فرنچ فیشن ڈیزانر پائیر کارڈن نے پاکستان ائیر لائنز کی یونیفارم ڈیزائن کی۔ پی  آئی اے 1970 کی دہائی میں دنیا کی پانچ بہترین ائیر لائن کمپنیوں میں شامل تھی۔ 1980 میں اس کی ساخت بہت کمزور ہونے لگی اور 2000 کی دہائی میں یہ کمپنی دیوالیہ ہوتے ہوتے بچی۔

historic image 9صنعتی ترقی

ایوب خان 1964 میں ایک مینوفیکچرنگ پلانٹ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ایوب دور حکومت کے پہلے چھ سال میں پاکستان کی صنعتی ترقی 8.51 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ ایک بڑی  اہم کامیابی  تھی۔ 1959 سے 1967 کے بیچ ملک کی معاشی ترقی میں بھی 6 فیصد اضافہ ہوا۔

باٹم اپ

1966 کی یہ تصویر مری میں موجود ایک شراب خان کی عمارت کی ہے۔ مری اس شراب کی وجہ سے مشہور ہے جو 19 ویں صدی میں ایک برطانوی کمپنی بناتی تھی۔ 1940 کی دہائی میں ایک زوروسٹیرن تاجر نے اس کمپنی کو خرید لیا ۔ یہ وہ تاجر ہیں جنہوں نے علیحدہ ملک کے قیام کے لیے قائد اعظم کی حمایت کی تھی۔ 50 کی دہائی میں مری بیر اینڈ وسکی کا مقابلہ جرمنی کی بیک اینڈ جونی والکر وسکیhistoric image 10  کمپنی سے تھا۔ مری بیر کمپنی نے ٹیکس کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔ 70 کی دہائی میں یہاں رَم، گِن اور ووڈکا بھی پیش کیا جانے لگا۔ 1977  میں مسلمانوں کے لیے الکوحل خریدنا ممنوعہ قرار دے دیا گیا۔ مری پر پابندی اس لیے نہیں لگائی گئی کہ یہ کمپنی غیر م
سلموں کو شراب مہیا کرتی تھی۔ اس کمپنی کی لائسنس یافتہ دکانیں سندھ اور بلوچستان میں بھی موجود تھیں۔ مری بیر کمپنی آج بھی ایک بڑی ٹیکس ادا کرنے والی کمپنی ہے اور ملک کی معیشت میں سالانہ 4 بلین روپے کا اضافہ کرتی ہے۔

بغاوت

1968۔ایوب کے خلاف نکالی جانے والی ریلی
کراچی کے کلاک ٹاور ایریا سے گزرتی ہوئی۔

ایوب دور کے پہلے سات سال میں مل
ک کی معیشت میں ترقی دیکھنے کو ملی لیکن زیادہ تر دولت صرف 22 خاندانوں کے ہاتھ میں آ گئی۔ 1965 کی جنگ سے ملکی معیشت کو گہرا دھچکا لگا اور 1968 میں غریبوں اور امیروں کے بیچ خلا بڑھنے لگا۔ ایک بغاوت نے ایوب کو 1969 میں حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

اتحاد کی آخری مثال

1970 میں ڈھاکہ میں پاکستانی جھندے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ 1970 کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے شاندار کامیابی حاصل کی جب کہ مغربی پاکستانhistoric image 12 میں پیپلز پارٹی نمایاں رہی۔ 1971 میں جب یحیی خان عوامی لیگ کو اقتدار متنقل کرنے میں ناکام رہے تو مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ پی پی پی نے بھی پارلیمنٹ کی دوسری بڑی پارٹی قرار دیے جانے کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ خانہ جنگی پاکستان کے مشرقی بازو سے علیحدگی کا سبب بنی اور بنگلہ دیش قائم ہوا۔

نئے سیاسی لیڈر کی آمد

مغربی پاکستان میں پی پی پی کو اکثیریت حاصل ہوئی اور  دسمبر 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو ریاست کے سربراہ بن گئے۔

ملک کا نیا نام

historic image 14یہ 1973 ک

ے آئین کے ڈرافٹ کی تصویر

ہے۔ یہ پاکستان کا تیسرا آئین تھا۔

یہ پی پی حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق سے منظور کیا تھا۔ اس آئین کے مطابق پاکستان کو ایک بار پھر اسلام جمہوریہ پاکستان کا نام دیا  گیا۔ یہ آئین آج بھی ملک میں لاگو ہے  اگرچہ اس میں بہت سی ترامیم کی جا چکی ہیں۔

پاپولر گیٹ وے

پرانے کراچی ائیر پورٹ  کی 1974 میں لی گئی تصویر۔ 70 کی دہائی میں کراچی ائیر پورٹ ایشیا کے مصروف ترین ائیر پورٹ  میں سے تھا۔ یہاں دنیا بھر کی ائیر لائنز کی آمد ورفت جاری رہتی تھی۔ پی آئی اے نے اپنے آپ کو ایک بڑی انٹر نیشنل کے طور پر historic mage 15ثابت کیا تھا۔ ائیر پورٹ کے قریب پی آئی اے نے ایک بار، ایک ریسٹورینٹ اور ایک ہوٹل بھی تیار کیا تھا۔ کراچی ائیر پورٹ برطانوی حکمرانوں نے 1943 میں بنایا تھا۔ 60 کی دہائی میں یہ ایشیا کا مصروف ترین ائیر پورٹ بن گیا۔ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر 2 نئے ٹرمینل بنائے گئے۔ 1994 میں اس ائیر پورٹ کو کارگو جہازوں کے لیے مختص کر دیا گیا اور ایک نیا ائیر پورٹ بنایا گیا۔ تب تک کراچی میں ائیر لائنز کی آمد کی تعداد بہت کم ہو چکی تھی  جس کی وجہ دبئی ائیر پورٹ کی بڑھتی ہوئی شہرت اور پاکستان کا سیاسی عدم استحکام تھا۔

اچھا دور

یہ تصویر  1974 کے کراچی ٹوررازم نائٹ لائف کے بروشر کی ہے۔ 70 کی دہائی میں ملک کی سیاحتی آمدن میں دوگنhistoric image 16ا اضافہ ہوا۔ اس وقت اس محکمہ کے سربراہ اندیشر کووازجی تھے جو ایک  تاجر تھے۔ کراچی کے اس نائٹ لائف کا دارو مداد نائٹ کلب، میوزک، بار، سینما، ریسٹورینٹ اور کیفے پر تھا جو صدر، طارق روڈ، اور اولڈ کلفٹن ایریا میں آباد تھے۔ 1977 میں نائٹ کلبوں کو بند کر دیا گیا جب بھٹو کے خلاف 9 پارٹیوں نے پر تشدد تحریک شروع کی۔ ہوٹلوں، کیفے اور پی آئی اے فلائٹ پر الکوحل کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔ 80 کی دہائی میں بہت سے سینمے بھی بند کر دیے گئے۔ سیاحتی شعبہ تیزی سے کمزور ہوتا گیا اور 90 کی دہائی میں اس کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا۔

واپس ترقی کی راہ پر آمد

اس تصویر میں ذوالhistoric image 17فقار علی بھٹو آرمی چیف ضیا الحق کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ 1976 کی تصویر ہے۔ کچھ عرصہ بعد ضیاالحق نے فوجی بغاوت کے زریعے بھٹو کا تختہ الٹ دیا۔

1977 میں ضیا نے حکومت پر قبضہ کر کے پاکستان کو مذہبی ریاست بنانے کا اعلان کیا اور صرف ان لوگوں کو سیاست اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا جو بھٹو کے اس اقدام کی حمایت کرتے تھے۔ یہ انتخابات 11 سال بعد ہوئے جب ضیا  جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہو چکے تھے۔ بھٹو کو اپریل 1979 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔


ڈسکو جنگ

1980 میں نازیہ اور ذہیب کی ضیا الحق سے ملاقات کی تصویر۔ ان بہن بھائیوں کا پہلا میوزیکل البم ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا اور یہ دونوں بہت جلد سپر سٹار بن گئے۔ 1982 میں ضیا نے ان گلوکاروں پر پابندی لگائی جس کی وجہ یہ تھی کہ ضیا کے کچھ وزرا نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ موسیقار عوام کی توجہ بھٹکا کر انہیں مذہبیhistoric image 18 عبادات سے دور کر رہے ہیں۔ لیکن جب نازیہ اور ذوہیب نے ضیا سے ملاقات کی تو ان پر پابندی ختم کر دی گئی۔ پابندی کا مشورہ دینے والے وزرا کو یہ اچھا نہیں لگا۔


توسیع

1982 کراچی شاہراہ فیصل کی تصویر

80 کی دہائی میں امریکی اور سعودی مالی امداد اور فری مارکیٹ پالیس

ی کی وجہ سے ملکی معیشت میں بہتری آئی۔ اس دوران نئے سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کی گئیں۔ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ملک میں منشیات کی بھی بہتات ہو گئی  اور کالا دھن جمع ہونے لگا۔ اسی وجہ سے بعض ممالک نے
پاکستانیوں کو ویزا دینا بن کر دیا ۔

جیت کے طریقے

پاکستان ہاکی ٹیم نے 1984 میں اپنا دوسرا ہاکی اولمپک ٹائٹل جیتا۔ اس سے قبل پاکستان 71، 78 اور 82 میں ہاکی ورلڈ کپ جیت چکا تھا۔ ہاکی پر hockey teamپاکستان کی اجارہ داری کا دور 90 کی دہائی کے آغاز تک جاری رہا۔

کور اپ

اس تصویر میں 1984 میں پی ٹی وی کا خبر نامہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ضیا الحق اکثر ٹی وی پر آنے والیhistoric image 21 خواتین کے لیے نئے نئے لباس کی قوانین جاری کرتے رہتے تھے۔ بعض اوقات مردوں کو ٹی وی پر مغربی لباس میں آنے کی صرف اس وقت اجازت ملتی جب وہ کوئی منفی کردار نبھا رہے ہوں۔ عورتوں کو دوپٹہ لے کر ٹی وی پر آنے کا حکم دیا گیا۔ لباس سے متعلق ہدایات اچانک موصول ہوتیں اور پھر historic image 22اچانک بدل دی جاتی تھیں۔ ضیا دور میں یہ معاملہ ایسے ہی چلتا رہا۔


پہلا دھماکہ

1987 میں کراچی کے علاقے صدر میں ہونے والے دھماکے کی نیوز رپورٹ ۔ یہ پہلا دہشت گرد حملہ تھا جس میں پاکستان کے عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں ہونے والے کار بم دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت نے ان دھماکوں کا الزام افغانستان کی اس وقت کی محرک خفیہ ایجنسی خاد پر عائد کیا۔ اگلے سال یعنی 1988 میں ضیا جس جہاز میں سوار تھے وہ دوران پرواز
دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

جمہوریت کی واپسی

1988 میں جنرل الیکشن کے لیے بینظیر کی لاہور میں ہونے والی ریلی کی تصویر ۔ 1988 کے الیکشن میں پی پی کو فتح ملی اور بے نظیر ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں۔

 1990 میں بے نظیر حکومت کو صدر نے کرپشن اور عدم اعتماد کی بنیاد پر برطرف کر دیا۔ 1993 میں وہ پھر وزیر اعظم بنیں اور 96historic image 23 میں ایک بار پھر کرپشن کے الزامات کی بنا پر حکومت سے باہر ہو گئیں۔ 2007 میں وہ متوقع وزیر اعظم تھیں لیکن انہیں 2007 میں 27 دسمبر کو راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔

گلیوں میں ڈانس کے دن

1993 میں کراچی کے ایم سی سٹیڈیم میں ہونے والے پوپ فیسٹیولpop festival کی تصویر۔ 90 کی دہائی میں کراچی میں پوپ میوزیک بہت تیزی سے پروان چڑھا لیکن 2000 کی دہائی شروع ہوتے ہی یہ سلسلہ شہر کے بگڑتے
ہوئے لا اینڈ آرڈر کی وجہ سے بند ہو گیا۔

سکواش میں تاریخی کامیابی

1993 کے سکواش فائنل میں جانشیرخان کے جہانگیر خان سے مقابلے  کی تصویر ۔ جانشیر خان اوhistoric image 24ر جہانگیر خان نے پاکستان کو سکواش رینکنگ کی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ جیسے ہی یہ دونوں کھلاڑی ریٹائر ہوئے پاکستان میں سکوا ش کا معیار تیزی سے گر گیا۔

کرکٹ کے میدان میں مرکزی حیثیت

1996 ورلڈکپ کے دوران ہیلی کاپٹر لاہور کے قذافی سٹیڈیم کو خشک کرنے کی کوشش میں۔ 1996 کے ورلڈکپ کے میزبان پاکستان، بھارت اور سری لنکا تھے۔ پاکستان اور بھارت نےhistoric image 25 87 کے ورلڈ کپ کی بھی میزبانی کی تھی۔ 87 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان شکست کھا گیا  جب کہ 96 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو کوارٹر فائنل میں باہر ہونا پڑا۔ البتہ 1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی۔

غصیلے وزیر اعظم

1993 میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرفhistoric image 26 سے بر طرف کیے جانے کے بعد نواز شریف کا ٹی وی پر خطاب۔ 93 میں نواز شریف کو پہلی حکومت کو صدر غلام اسحاق نے کرپشن کے الزامات پر تحلیل کر دیا۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی بحالی کا فیصلہ دیا لیکن سپریم کورٹ اور صدر اسحاق کے بیچ  ڈیڈ لاک ہو گیا اور صدر نواز شریف کو حکومت سے باہر رکھنے میں کامیاب رہے۔ ملٹری اسٹیبلمشنٹ نے نواز شریف اور صدر اسحاق دونوں کو استعفی دینے پر راضی کر لیا۔ 1997 میں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بن گئے لیکن تب تک ملکی معیشت بری طرح خراب ہو چکی تھی اور پنجاب میں فرقہ وارانہ شدت پسندی عروج پر پہن چکی تھی۔ نواز شریف نے صورتحال کا اندازہ لگا کر اپنے ملٹری چیف پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی کوشش کی لیکن مشرف نے نواز شریف کو حکومت سے ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 2013 historic image 27میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے۔

دشمن کے علاقے میں

2001 میں مشرف کا اپنی بیوی کے ہمراہ بھارت کا دورہ۔ مشرف نواز شریف کو ہٹا کر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو اور پھر صدر بن گئے۔ اس دور میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئی اور ملکی معیشت میں بھی تھوڑا استحکام دیکھنے کو ملا۔

historic image 28مشرف حکومت کا خاتمہ

2005 میں زلزلے کے دوران ایک گری ہوئی عمارت ۔ تاریخی زلزلے کے بعد مشرف حکومت ہر لحاظ سے کمزور پڑنے لگی۔ ملکی معیشت خراب تر ہو گئی اور اپوزیشن جماعتیں سر اٹھانے لگیں۔

 2007 کے بعد دہشت گرد حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔ 2008 میں مشرف کو استعفی پر مجبور کر دیا گیا۔ پی پی پی نے 2008 کے الیکشن میں فتح حاصل کی اور مرکزی حکومت پر قبضہ جمایا۔

historic image 29سب سے مشہور آرمی جنرل

ہیرالڈ نامی  شمارے کی ماہانہ میگزین میں شائع ہونے والی راحیل شریف کی تصویر ۔ جنرل راحیل شریف کو نواز شریف نے 2013 میں آرمی چیف مقرر کیا۔ جنرل راحیل شریف نے حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کو شدت پرپسند گروپوں اور کراچی میں آپریشن کرنے پر مجبور کیا۔ اس آپریشن کے بعد ملک میں دہشت گردی کافی حد تک کم ہو گئی۔ جنرل راحیل شریف بہت مشہور ہو گئے۔ 2016 کے اختتام پر وہ اپنی ٹرم مکمل کر کے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *