امن کا نوبل انعام ایک امریکی فوجی کو دیا جائے

حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک تنظیم’’روٹس ایکشن گروپ ‘‘ نے ایک لاکھ افراد کے دستخط لیے ہیں کہ اس مرتبہ امن کا نوبل انعام اس امریکی فوجی، بریڈلے ماننگ، کو دیا جائے جس نے وکی لیکس کے ذریعے امریکہ کی ملٹری پالیسی کو بے نقاب کیا تھا۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ 2009 میں امن کا نوبل انعام امریکہ صدر باراک اوبامہ کو دینے کے فیصلے نے نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والے پینل کی شہرت کو داغدار کر دیا تھا کیونکہ امریکی صدر کے فیصلوں نے دنیا کو ایک پر خطر جگہ بنا دیا ۔ اب اس پینل کے پاس موقعہ ہے کہ وہ ایک اچھے انسان کا انتخاب کرتے ہوئے اپنی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کر لے۔
تنظیم کے بانی نارمن سلومن نے پانچ ہزار صفحات پر مشتمل ایک اپیل، جس پر ایک لاکھ سے زائد افراد کے دستخط موجود ہیں، نوبل پینل کو پیش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بریڈلے ماننگ کو نوبل انعام کی اتنی ضرورت نہیں جتنی نوبل انعام کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے بریڈلے ماننگ کی ضرورت ہے ۔
بریڈلے ماننگ ملٹری ایکشن اور میدانِ جنگ سے متعلق سات لاکھ ویڈیو، کیبل پیغامات اور دیگر خفیہ دستاویزات منظر عام پر لایا تھا۔ گزشتہ ماہ اُس پر چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جرم ثابت ہونے پر اُسے نوے سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سلومن کا کہنا ہے کہ جس طرح اس نے عراق جنگ کے حوالے سے حقائق کو بے نقاب کیا ہے، وہ انسانی تاریخ میں امر ہو گیا ہے۔ اس کی طرف سے چرائے جانیو الے ایک ویڈیو میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر اپاچی کو فائرنگ کرتا دکھایا گیا ہے۔ اس کی فائرنگ سے درجنوں عراقی شہری اور کچھ صحافی ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری طرف نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والے پینل کے ڈائریکٹر اسل توجے کا کہنا ہے کہ نوبل انعام کوئی مقبولیت کا مقابلہ نہیں ہوتا کہ زیادہ دستخطوں کی بنیاد پر دے دیا جائے ۔ انعام کا فیصلہ کرتے ہوئے مسٹر الفریڈ نوبل کے طے کردہ اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے ملالہ یوسفزئی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *