گھریلو سماعت

abid-hassan-333x400
یہ د وسری بیوی کا چکر کب سے چل رہا ہے؟ آفس سے واپسی پر گھر داخل ہوتے ہی بیگم نے سوال کیاتواس اچانک سوال سے ایک لمحے کے لیئے مجھے بھی خود پر شک ہو گیااور میں نے فوری طور پر خود سے پوچھاکہ کہیں میں نے دوسری شادی تو نہیں کر لی؟
میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی دوسری بیوی نہیں ہے اور میں اپنی اکلوتی بیوی کے ساتھ رہتا ہوں۔ پتانہیں یہ کہاں سے میری بیویاں نکال کر لے آتے ہیں؟میں نے ایک ہی سانس میں وضاحت دیتے ہوئے جواب دیا۔ایسی وضاحتیں میں ٹی وی پر بہت سن چکی ہوں، اور سچ اس سے سو فیصدمختلف ہوتا ہے۔کچھ دن گزرنے کے بعد آپ بھی کہہ دیں گے ’الحمدللہ یہ دوسری بیوی میری ہی ہے‘۔ بیگم نے یکسر میری وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا۔بیگم میری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے اور۔۔۔ اور اس کے کچھ صفحے پاسورڈ پروٹیکٹیڈ ہیں بیگم نے میری بات کاٹتے ہوئے جملہ مکمل کیا۔بیگم تم جانتی ہو میں ایک شریف شوہر ہوں، میں نے اپنی معصومیت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ ہاں آج کل شریفوں کی جو شرافت سامنے آ رہی ہے اس کے بعد میرا آپ پر سے بھی اعتبار اٹھ گیا ہے۔
میں نے تنگ آ کر پوچھا،کم از کم یہ تو بتا دو میری’ آف شور بیوی‘ کا انکشاف کن پیپرز میں ہوا ہے؟میں نے ’آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا‘ میں پڑھا ہے کے اس ہفتے آپ دوسری بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں گے، بیگم نے راز افشاء کرتے ہوئے جواب دیا۔خدا کا خوف کرو، یہ ان کے لیئے ہے جن کی دو شادیاں ہو چکی ہیں، میں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔ ویسے بھی اگر ان کی ہر بات سچ ہوتی تو شادی سے پہلے ہی دو تین بارمیری طلاق ہو چکی ہوتی، کئی بار نوکری سے نکالا جا چکا ہوتا اور کم از کم ایک بارمیرا بھی پرائز بانڈ نکل آتا، لیکن یہ ہر بار ایک وفاقی وزیر کا ہی نکل رہا ہے۔خیر بھوک لگ رہی ہے ،یہ بتاوٗ آج کیا پکایا ہے؟ میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا۔پائے بنائے ہیں بیگم نے جواب دیا۔ چارپائی توڑ دی؟ میں نے فقرہ کسا۔ فی الحال بکرے نے انویسٹ کیئے ہیں۔ 20-25 سال بعد آپ اس کے پوتے کو ان کے بدلے میں کہیں فلیٹس وغیرہ لے دینا، لیکن دھیان رہے، اس کے بیٹوں کو اس ڈیل کی کانوں کان خبر نا ہو۔بیگم نے تفصیل بتاتے ہوئے جواب دیا۔ سارا دن نیوز چینلز دیکھ کر تم بھی سیاستدان ہو گئی ہو، میں نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔
کھانے کے بعد بیگم نے شاپنگ پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس کے جواب میں میں نے جیب خالی ہونے کا رونا ریا۔ جس کو بیگم نے فورا رد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس مہینے کی تنخواہ کے ساتھ بونس دیا گیا تھاجو آپ نے مجھ سے چھپایا، آپ کے فلاں دوست نے فیس بک پربونس ملنے کی مبارکبادبھی دی تھی۔میں نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا، میرے دوست کی مبارکباد کو اسحاق ڈار کے ’اعترافی بیان‘ کی طرح ہی سمجھا جائے، اس میں کوئی صداقت نہیں۔اگر اس میں صداقت نہیں ہے تو آپ نے اس کے خلاف اپیل کیوں دائر نہیں کی، میرا مطلب دوست کو جوابی کمنٹ کر کے تصحیح کیوں نہیں کی؟بیگم نے قانونی نقطہ اٹھایا۔آج بہت تھکا ہوا ہوں، اس لیئے کل چلیں گے، میں نے کوئی جواب نا بننے کی وجہ سے سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ آپ سے جتنے بھی سوال کرو کسی ایک کا بھی تسلی بخش جواب نہیں ملتا، ہر بار پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں، بیگم نے ریمارکس دیتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست قبول کر لی۔
اگلے دن آفس سے واپس آتے ہی بیگم نے شاپنگ کی لسٹ تھما دی جسے دیکھ میرے منہ سے بے اختیار نکلاکہ ایسے ردی کاغذ پکوڑے رکھنے کے کام آتے ہیں۔ بیگم نے ان ریمارکس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کھاناملتوی کرنے کی دھمکی دی۔جس پر میں نے دوبارہ پیسوں کی کمی کی نشاندہی کی۔جس پر بیگم نے اس مہینے کی ’منی ٹریل‘ کا تقاضہ کر دیا۔جس پر میں نے پورے اعتماد کے ساتھ بیگم سے وعدہ کیا کہ میرے پاس پوری منی ٹریل موجود ہے،جو مناسب وقت پر سامنے لائی جائے گی۔بیگم نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کھانالگانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
ٰ کھانے کے بعد بیگم نے دوبارہ منی ٹریل کا تقاضہ کیا تو میں نے گھر کا سربراہ ہونے کے ناطے استثنیٰ طلب کیا جسے بیگم نے رد کرتے ہوئے کہا کہ استثنی توآج کل وزیراعظم کو نہیں مل رہا آپ کو کیسے ملے گا۔حالانکہ وزیراعظم کی اس سال کی کارکردگی کو انٹرنیشنل لیول پربھی سراہا جا رہا ہے۔ بیگم وہ وزیراعظم نہیں بابر اعظم کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔
خیر اب تم اسرار کر ہی رہی ہو تو میں منی ٹریل دے دیتا ہوں۔ کچھ دن پہلے آفس سے واپس آتے ہوئے سڑک پر ایک آدمی کو وزیراعظم کی زندگی کے متعلق ایک کتاب بیچتے ہوئے دیکھا جس کا عنوان’داستان حیات ‘تھا۔اس کتاب کا کچھ ذکر میں سوشل میڈیا پردیکھ چکا تھا۔ اس آدمی کے مطابق اس کتاب میں کسی سرمائے کی بغیر ارب پتی بننے اور عربوں سے تعلقات بنانے کا نسخہ بھی دیا گیا ہے۔ جس پر عمل کرتے ہوئے کوئی بھی چند سالوں میں کاروبار اور جائیداد کا مالک بن سکتا ہے۔ میں نے فورا اس کی قیمت پوچھی جو اس نے آٹھ ہزار روپے بتائی۔آٹھ ہزار میں میرے دو سوٹ آ جاتے، بیگم نے ٹوکا۔ شاندار مستقبل کے سامنے چند ہزار روپے کی کیا قیمت، اسی لیئے فورا اسے آٹھ ہزار دے کر کتاب خرید لی، میں نے وضاحت دی۔جاتے ہوئے اس شخص نے ایک ’احتیاط‘بتائی کے کتاب کا آخری صفحہ نہیں کھولنا۔ میں نے اس نصیحت کو’حکمت‘مانتے ہوئے پلے سے باندھ لیا۔ بیگم نے دوبارہ ٹوکتے ہوئے رسید کا تقاضہ کیا۔ تمام لین دین کیش کی صورت میں ہوااس لیئے کوئی رسید یابینک ٹرانزایکشن موجود نہیں، میں نے معاملہ کلیئر کرتے ہوئے جواب دیا۔بیگم نے یہ دلیل فورا رد کرتے ہوئے اس کو الف لیلی کی کہانی کہا اور بے یقینی سے دیکھتے ہوئے مجھے اپنے دلائل مکمل کرنے کا کہا۔
گھرآ کر تم سے چھپ کر کتاب پڑھنا شروع کی تاکہ تم مجھے ڈسٹرب کرتے ہوئے مجھے میری کامیابی سے دور نا کر دو۔کتاب کے شروع میں ایک ایسے متقی اورفرشتہ صفت نوجوان کاذکر کیا گیا تھا جو پنجاب سے اٹھ کر پورے ملک پر چھا جائے گا۔ اس کی ان گنت خصوصیات پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ نوازشریف نے بھی اس شخص کی تلاش کے لیئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہونگی۔بحرحال سوائے آخری صفحے کے ساری کتاب پڑھ لی لیکن نا تو کہیں بل گیٹس یا وارن بفٹ بننے کانسخہ نظر آیا اور نا ہی اس نوجوان کا کچھ پتا چلا جس کا ذکر شروع میں کیا گیا تھا۔اس سے مجھے یقیں ہو گیاکہ کتاب کے کچھ صفحات غائب ہیں۔ پھر آخری صفحے کے بارے میں خیال آیا تو تجسس بڑھا، خود کو روکنے کی کوشش کی لیکن پھر خیال آیا ہوسکتا ہے مطلوبہ نسخہ اسی صفحہ پر لکھا ہوگا۔ جلدی سے آخری صفحہ کھولا، اور اس پر لکھا تھا۔ ختم شد، قیمت 800 روپے۔
بیگم غصے سے اٹھی اور کتاب اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا، میں اس کو جلانا چاہتی ہوں۔میں یہ نیک کام پہلے ہی کر چکا ہوں، میں نے دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے جواب دیا۔
منی ٹریل پیش کی جاچکی۔Case Demolished

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *