لکڑ ہضم پتھر ہضم

inspecter

قریب تیس سال پہلے کی ایک یاد آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے۔ میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں بے اختیار میری ہنسی چھوٹ جاتیہے۔ میرے بالکل پڑوس میں خالد صاحب رہا کرتے تھے اس وقت عمر تیس پینتیس سال ہو گی۔ کپڑے کا کام کرتے تھے ۔ کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھ سکے تھے۔ یعنی چٹے ان پڑھ تھے۔ شام کو جب دیکھتے کہ میری بیٹھک میں کوئی دوست آ گئے ہیں تو وہ بھی تشریف لے آتے۔

وہ میرے پڑوسی تھے اور یہ حق خوب استعمال کرتے تھے ان کی خاصیت یہ تھی کہ موضوع محفل کچھ بھی ہوتا وہ اس کو رد کرکے کوئی نئی اور انتہائی بے وقوفانہ بات سے کسی اور موضوع کو شروع کرنے کی اپنی تئیں کوشش کرتے ۔ پھر ایک دن وہ بڑے روہانسے ہو کر آئے اور بتانے لگے کہ کسی دوست کو انہوں نے دو تین دفعہ بڑا پر تکلف کھانا کھلایا تھا لیکن جب وہ خود ان کے گھر گئے تواس  نے پانی کا بھی نہیں پوچھا۔

اس پر طرہ یہ کہ پھر خالد صاحب کے گھر آ دھمکے۔ خالد صاحب کے گھر کے افراد کہیں گئے ہوئے تھے۔ مہمان کے نہ نہ کرنے پر بھی خالد صاحب نے انہیں گوشت بھون کر کھلایا ۔ یہ گوشت انتقاما" کھلایا گیا تھا۔ جس کے بارے میں پوری معلومات انہوں نے دوست کو تو نہ دیں ہمیں مزے سے بتا دیا کہ گھر کی پالتو بلی پکڑ کر خالد صاحب نے بھون کر کھلا دی تھی۔ خالد صاحب سے مہمان نے دو تین دفعہ پوچھا کہ گوشت ذرا ربڑی قسم کا ہے۔ کھنچتا ہی چلا آ رہا ہے۔ لیکن خالد صاحب کے ہاتھوں میں ذائقہ ہی کچھ ایسا تھا کہ وہ جی بھر کر مفت کھانا کھا کر وہاں سے روانہ ہوئے ۔ مہمان راضی۔ میزبان راضی تو کیا کرے گا قاضی۔

آج جب گدھا کڑاہی کی باتیں ہوتی ہیں تو بلی والی بات سے ہنسی نہیں آتی بلکہ تھوڑی سی خفت ضرور ہوتی ہے۔ کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ کیا گارنٹی ہے کہ اس کڑاہی کا مزہ ہم نہیں اٹھا چکے۔ اگر خالد صاحب کے مہمان نے اس وقت بلی کھا کر میاؤں میاؤں کیا ہوتا تو ہو سکتا ہے کچھ مخصوص آوازیں نکال کر ہم پر بھی یہ راز فاش ہو چکا ہوتا۔

شومئی قسمت ہم سنگا پور۔ تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں جا چکے ہیں اور سال بھر تو تھائی لینڈ میں رہ بھی چکے ہیں۔ جہاں رات کو سجنے والی فوڈ سٹریٹس پر دنیا کے کون سے حشرات الارض ہیں جو منہ میں پانی لانے والے انداز میں نہیں رکھے ہوتے۔ سانپوں کے چھلے ہوئے جسم اور نیچے ان کے گوشت سے بنا ہوا سوپ، چوہے ، گلہریاں ، لال بیگ غرضیکہ آپ کی کراہت بڑھتی جائے گی میرے نام ختم نہیں ہونگے۔ بس وہاں کے بیچنے والے جو ستم کرتے ہیں وہ یہ کہ کراہت دلانے کے لئے ان جانوروں کو ان کے صحیح ناموں سے بیچ رہے ہوتے ہیں ہمارے لئے کراہت والے یہ رینگنے والے جاندار شائد کئی اور رنگ و نسل کے لوگوں کے لئے کشش کا باعث ہوتے ہوں گے۔ جیسے ہمارے بچپن میں ہمارے قصبے کے المعروف دو نمبر قصائی بدرے نے سارے قصبے کو کتا کھلا دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کتے کے گوشت میں تکلفاً اس نے کچھ بوٹیاں بکرے کی بھی ڈال لی ہوں۔ لیکن شام کو من حیث القصبہ جتنی الٹیاں اہالیان تاندلیانوالہ کر چکے تھے اگر وہاں کوئی چیک کرنے والا ہوتا تو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں تاندلیانوالہ کا نام آ چکا ہوتا۔

لیکن اسی تاندلیانوالہ کے نزدیک سے اب موٹر وے گذر رہی ہے اور میونسپلٹی والوں کی بجائے کوریا اور چین والے تاندلیانوالہ کے کتے ختم کر رہے ہیں لیکن نہ تو اہالیان تاندلیانوالہ کو الٹیاں آ رہی ہیں اور نہ ہی کراہت کیونکہ وہ ان کتوں کے انجام کو آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے۔ ایک دفعہ ہم زمبابوے وکٹوریہ آبشار دیکھنے گئے تھے تو صبح ہم وہاں کے جنگل کی نباتات اور پھر فیروزی رنگ کے بندروں کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں گم ہو گئے تھے لیکن رات کو ہم تو نہیں ہماری سٹی یہ دیکھ کر ضرور گم ہو گئی تھی کہ بوفے کی میز پر مختلف گوشت کی اقسام سجی ہوئی تھیں۔ لونگ اسٹون شہر کا پانچ ستارہ ہوٹل تھا انہوں نے دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کی خدمت تو کرنی تھی لہذا بانگ دہل ونہوں نے گوشت کی اقسام کے اوپر جانوروں کے نام دئیے ہوئے تھے ۔ کیونکہ افریقہ تھا لہذا شیر کے گوشت سے لے کر سارے جانوروں کا گوشت تناول کرنے کے لئے حاضر تھا۔ اپنے یہ پسندیدہ فیروزی رنگ کے بندر صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ لیکن ہمیں کیا ہے ہمیں پھر بھی کراہت آ گئی اور ہم نے دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ یعنی وکٹوریہ آبشار کے کنارے بیٹھ کر الٹیاں کیں۔

مجھے لگتا ہے من حیث القوم ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم گدھا کڑاہی کھا رہے ہیں یا کتا کڑاہی۔ بس ہمیں کوئی یہ نہ بتائے کہ ہم نے کیا تناول فرمایا ہے۔ ورنہ ہم قے کر دیں گے۔ پتا نہ چلے تو ہم سے زیادہ لکڑ ہضم پٹھر ہضم قوم کون ہے اتنی دیر سے ہم گدھے گھوڑے کھا رہے ہیں۔ کچھ نہین ہوا صرف مزاج میں تھوڑا سا منگولین رنگ آ رہا ہے۔ وہ بھی جنگوں میں گھوڑے کھاتے تھے اور جنگجو کہلاتے تھے۔ ہمارے مزاج کا جنگجو پن کہیں گدھے کھانے کی وجہ سے تو نہیں ابھر رہا۔ ورنہ اگر گدھوں سے نفرت ہوتی تو ہو سکتا ہے ہم ذبح کئے جانوروں کے مذبح خانوں پر سختی کرتے۔ مرغی، مچھلی ، بکرے اور بیف کے گوشت کی صحت بھی چیک کرتے کہ کہیں یہ مرے ہوئے جانور تو نہیں کاٹے گئے ۔ ہم تو اپنی خوراک کی ذمہ داری محکمہ صحت کی ایک آفیسر کو سونپ کر مطمئن ہو جاتے ہیں بے شک اس کے ڈرائیور نے رشوت ہی لی ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *