’’گدھ جاتی‘‘ کے مکینوں کو ’’رزق حلال‘‘ کا پیغام

Muhammad-saeed-azhar

پہلے، اِدھر کسی حد تک ماضی بعید ابھی شروع ہی ہوا ہے، 121سی ماڈل ٹائون کی ’’داستان سرائے‘‘ یتیم ہوئی، 5؍ فروری 2017کو مسکین بھی ہو گئی، اشفاق احمد اس داستان سرائے اور اس کے مکینوں کے باپ آپا بانو قدسیہ، ان دونوں کی ماں تھیں، ’’ہر شے فنا ہو جائے گی اور باقی رہ جائے گی تیرے رب کی ذات جو بزرگ و برتر ہے!‘‘
آپا کے جنازے پر سب تھے، یہ دنیا ہے، اس معاملے میں خالق کے ایک فرمان کا مفہوم کچھ اس قسم کا ہے۔ ’’کیا تم سمجھتے ہو ہم نے یہ سب یونہی بے کار تخلیق کر دیا ہے!‘‘ سبھی تھے، ہونا بھی چاہئے تھا، چاہے وہ عینی آپا ہوں (قرۃ العین حیدر)، انتظار حسین، عبداللہ حسین، اشفاق احمد یا آپا بانو قدسیہ، دنیا کے سیارے پر ان کا حق فائق ہے، یہ ان حضرات و خواتین کا استحقاق ہے، لوگوں کو اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں عزت نفس کا تقاضا سمجھنا چاہئے، سچائی یہی ہے!
آپا کے ایک دروازے سے نکل کر دوسرے دروازے میں داخل ہونے کے منظر نامے پر دکھائی دیئے جانے والے نقوش میں ایک نقش اصغر ندیم سید کے آنسوئوں کی شدت، اضطراب، ہجر اور بے قراری سے ابلتی جھلکیاں بھی ہیں، جیسے ان کا پورا وجود اشک بار ہو چکا، ان اشکوں کی تمام تر سکتہ خیز مقدار اصغر ندیم سید کے رخساروں کے مساموں سے فوارے کی طرح پھوٹ جانا چاہتی ہے!
آپ اصغر ندیم سید کی اس کائناتی قسم کی غم آمیز ہیجان کو وہاں پہ حاضر تمام حضرات و خواتین کے ناقابل بیاں کرب کی تصویر کہہ سکتے ہیں، محسوس ہوتا تھا سید تمام حاضرین کے ایک بے ساختہ سے اظہاریئے کی نمائندہ شکل اختیار کر گئے ہوں!
عینی آپا (قرۃ العین حیدر) نے اپنے ناولوں میں سے کسی ایک میں ایک واقعہ بیان کیا، خلاصہ بھارت کے ضلع فرید پور کے علاقے میں ایک غریب برہمن کی لڑکی پر مشتمل ہے، کیسے باپ کی وفات کے بعد پندرہ برس تک اس نے سسرال کے ظلم سہے، پھر ایک رات کشتی میں بیٹھ کے ڈھاکے بھاگ آئی، ایک مسلمان نواب کے ہاں پناہ لی، ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کے باعث بڑی بیگم نے اسے اپنے بچوں کو انگریزی پڑھانے والی ایک میم کے سپرد کر دیا، میم نے لڑکی کو مشن اسکول میں داخل کرا دیا، پادری نے اسے بپتسمہ دیا، اپنی بیوی کے نام پر اس کا نام ایستھر میرین رکھا، اس کی شادی کر دی، قرۃ نے ایسے کئی واقعات کے بیانیے میں آخر کار متعلقہ کردار سے کہلوایا ’’اسرار الٰہی، خداوند خدا کے وسیلوں کے اسرار کوئی نہیں سمجھ سکتا!‘‘
بس یہاں پہ عینی آپا کی کہانی ختم اور شاید آپا بانو قدسیہ کی کہانی شروع ہوئی۔ ’’وقت گزرے جا رہا ہے‘‘ کی حقیقت قرۃ العین حیدر کے سامنے تھی، قرن بیت گئے، قرنوں سے زیادہ شاید انسانی دھرتی کی خوراک ہوئے، قرۃ اس صداقت اور اس وقوعہ پر ساری عمر لکھتی رہیں، برصغیر کے ادیبوں میں شاید کائناتی رمز پر اتنا طاقتور کسی نے نہ لکھا ہو مگر آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی حقیقت‘‘ سے وہ منکر نہیں، الٹا تمام عمر اس کی مبلغ رہیں مگر اسے تسلیم کرنے پر انکاری ہوئیں، اس پر انہوں نے رضا کار راستہ نہ اپنایا، وہ ’’وقت کے گزران‘‘ کی سچائی اور حقیقت پر متفق ہونے کو تیار نہ تھیں، آہ! پھر لمحۂ موجود ایک دروازے سے دوسرے دروازے میں داخل ہوا، کومے میں ہی رخصت ہو گئیں!
ہاں! آپا بانو قدسیہ نے عینی آپا کے متوازی جہت پر اپنا دل کھلتا پایا، وہ ایک دروازے کے بعد دوسرے دروازے کے باہر اس ابدیت کی واقعیت کے ناپیدا اکنار جہانوں کے لامتناہی ارتقا کے یقین پر قائم رہیں، دونوں اپنے اپنے ذہنی کینوس کے حوالے سے انسانیت کے ارتقائی سفر کی نمائندہ و امین ہیں، بہرحال ایک تفریق ضرور تسلیم کرو، اس ابدیت کا کوئی خالق ہے؟ آپا بانو قدسیہ کے پاس تو پیش کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن انہوں نے اس سوال کا اثبات کیا، چنانچہ انسان کو ہمیشہ کے لئے آگے لے کر چلتی رہیں، اسے زندگی کےتنسیخنامے پر دستخط نہیں کرنے دیئے، ان کے ساتھ آپ کی فکری رفاقت آپ کو بھی زندگی کی ہمیشگی کے جنت آفرین سچ کی جانب کشاں کشاں روانہ کئے جاتی ہے، آپا نے اس اطمینان کو زادہ راہ جانا، اس لئے آج کے عہد میں پہلے دروازے سے اِدھر موجود دنیا بھر کے انسانوں کو، دوسرے دروازے سے باہر ارتقائی مسرت پانے کی رہنمائی بھی کی، یونہی تو ’’راجہ گدھ‘‘ کا ناول تحریر کے افق پر نمودار نہیں ہو گیا تھا!
آپا نے دنیا بھر کے لوگوں کو پیغام دیا، ثابت کیا، رزق حرام چھوڑ دو، رزق حلال کی صحرائی جدوجہد پر قائم ہو جائو، تم اور تمہاری نسلیں شفا پائیں گی، دوسرے دروازے کے باہر ناقابل پیمائش ارتقائی جنت سے سرفراز ہوں گی، مسرت اور لذت کا حجم اور وسعت لفظی حد بندی کے آخیر کو بھی عبور کر جائیں گے، بانو قدسیہ نے اپنے عہد کے بندے کو زمین کے فساد اور روح کےانتشار، دونوں کو چاروں شانے چت کرنے کی راہ بتلا دی، کیا تو اتنا بھی نہیں جانتا کہ پاک رزق سے لہو میں ایسی مثبت لہریں پیدا ہوتی ہیں جن سے روح میں کوئی مفاشرت پیدا نہیں ہوتی، جس وقت حلال رزق پیٹ میں پہنچتا ہے تو انسان رب کی ثنا اور اس کے احکامات کا خود بخود پابند ہو جاتا ہے لیکن جب رزق حرام جسم کے اندر داخل ہوتا ہے تو منفی لہروں کا جال لہو میں پھیل جاتا ہے اور ہر جرثومہ کی زندگی منفی طور پر متاثر ہوتی ہے اور وہ وقت سے پہلے ٹوٹنے لگتا ہے، اس گدھ سے پوچھا جائے کیا یہ اس حقیقت سے واقف نہ تھا (راجہ گدھ)
’’گدھ جاتی‘‘ اس حقیقت سے خوب اچھی طرح واقف ہے، اب کیسے عرض کریں، ’’یہ رزق حلال کی ناگزیریت کے جینے کی کس کُلفت میں آب ڈال رہی ہیں!
دریا ئے نہستان اور روحوں کے ڈبوں سے لے کر وہ حضرت بابا ترت مراد علی شاہ تک سب حق ہے، انسان کو ٹیکنالوجی کے علم نے راہ دکھلائی ہے، ساتھ ہی اس کا علمی ظرف آزمائش کا قیدی ہے، اسے سپر ٹیکنالوجی کے مطلوبہ ادراک کی ضرورت کا احساس نہیں ہو رہا، عینی آپا بھی اسی بحران کا چارہ بنیں، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ اس ادراک کے کنگروں کو چھونے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن ’’گدھ جاتی کے مکینوں کو رزق حلال‘‘ کا سندیسہ دے کر آپا نے تو جان کنی کی حالت میں مبتلا کر دیا ہے؟‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *