معروف انشورنس کمپنی کو 1 کروڑ 62 لاکھ ادائیگی کا حکم!

کمپنی نے نظرثانی شدہ شرح سے  3 لاکھ 8 ہزار روپے ہرجانہ 1ہفتے میں اداکرنے کا یقین دلایا۔ فوٹو: فائل

 کراچی -وفاقی انشورنس محتسب رئیس الدین پراچہ نے مختلف شکایات پر بیمہ داروں کو 1 کروڑ 62 ہزار روپے اداکرنے کے احکام دے دیے۔ پہلے کیس میں بیوہ خالدہ پروین نے شوہر کی 2011 میں حادثاتی موت کے بعد ڈیتھ انشورنس کلیم داخل کیااور کلیم نہ ملنے پر شکایت کنندہ نے محتسب عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد کمپنی نے کلیم  وراثتی سرٹیفکیٹ داخل نہ کرنے پررد کیا۔ متعدد سماعتوں کے بعد انشونس محتسب نے حقائق کی روشنی میں حکم دیا کہ مرحوم نے ذیلی بیمہ کمپنی کے متعلقہ بینک میں اکاؤنٹ کھولتے وقت قانونی وارثین کو نامزد کیا تھا لہٰذا انڈیمنٹی بانڈیا وراثتی سرٹیفکیٹ پر 1ماہ میں ڈھائی لاکھ کے علاوہ کلیم ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر پر 5 فیصد بمع ہرجانہ موجودہ بینک شرح پر ادائیگی کریں مگر کمپنی نے صرف ڈھائی لاکھ روپے دیے۔

محتسب عدالت نے بے ضابطگی پر نوٹس دیا توکمپنی  ہرجانے کی مد میں 1 لاکھ 76ہزار 713 روپے دینے پرآمادہ ہوئی مگرمحتسب عدالت نے اسے رد کرتے ہوئے  ہدایت کی کہ مزید 5 فیصد اضافے کیساتھ موجودہ بینک شرح سے ادائیگی کی جائے جس پر کمپنی نے نظرثانی شدہ شرح سے  3 لاکھ 8 ہزار روپے ہرجانہ 1ہفتے میں اداکرنے کا یقین دلایا۔

دوسرے میرین کارگو انشورنس کیس میں نجی ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹر نے کلیم عدم ادائیگی کی شکایت کی کہ یارن فیبرکس، گارمنٹس اور تجارتی مقاصد کے استعمال کیلیے مشینری کی نقل وحمل کیلیے بیمہ کرایا تھا۔ دورانِ نقل و حمل سامان چھینے جانے سے نقصان کی تلافی کیلیے 50 لاکھ کا کلیم داخل کیا جبکہ نقصان کا تعین کرنے کیلیے مقررہ کمپنی سرویئرنے رپورٹ میں واضح کیا کہ بیمہ شدہ کارگو چھینے جانے کی ایف آئی آر دفعہ 406 کے تحت گڈز کیریئر ز کے مالک اور ڈرائیور کے واردات میں ملوث اورمفرور ہونے کیخلاف درج کرائی گئی تھی۔

دوسری جانب سروئیر کے تجزیے کے مطابق ڈکیتی بھروسے کی خلاف ورزی تھی، بعد ازاں شکایت کنندہ نے دفعہ 406 کو دفعہ 392 میں تبدیل کرادیا جس پرسرویئر نے نظر ثانی شدہ سروے رپورٹ جمع نہیں کرائی اور اس بنیاد پر کمپنی نے کلیم مسترد کر دیا جبکہ شکایت کنندہ کا موقف تھا کہ ایف آئی آر میں تبدیلی کی اطلاع  کمپنی کو دی جس نے سروئیر کونہیں بتایا۔

دوران سماعت محتسب عدالت کوپتا چلا کہ کمپنی کی جاری کردہ دستاویز میں کہیں بھی ’’بھروسے کی خلاف ورزی‘‘ کے الفاظ درج نہیں نیز رپورٹ داخل کرنے میں 5 ماہ تاخیر بلاجواز تھی، شکایت گزار کوسروے رپورٹ کے مندرجات سے آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔ محتسب عدالت نے بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے نظرثانی شدہ سروے رپورٹ کے مطابق 40لاکھ 32ہزار روپے 1ماہ کے اندر فریقین کے دستخط شدہ معاہدے پر کلیم ادائیگی کا حکم  صادر کیا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *