ٹرمپ کا معمول خلافِ معمول کیوں؟

khalid mehmood rasool

ہمارا علم مشاہدے اور پچھلے علم کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔ موسم کی پیشین گوئی ہو یا انسانی مزاج آشنائی کی کوشش، گذشتہ علم اور تجربے کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر کل میں جھانکنے کی کوشش ہمار معمول ہے۔ انسانی تاریخ اور معاشرت کا سفر مگر ایک لگے بندھے دائرے میں نہیں ہوتا ۔ انہونی اور خلاف معمول تاریخ کا معمول ہے۔ ناگزیر ہستیاں ہوں یا وقت کی طاقتور تہذ یبیں، جن کے بغیر زندگی اور قیادت کا تصور محال تھا، وقت کی دھول بیٹھتی ہے تو ان کی تصویر یاد کرنا بھی محال ہو تا ہے۔ حضرت علی سے منسوب ایک قول میں اس گورکھ دھندے کی گرہ یوں کھولی گئی : میں نے اپنے ارادوں کی شکست و ریخت سے اللہ کی پہچانا۔
تقریباٌ دس سال قبل کی بات ہے۔ گھر تبدیل کرنے کے تکلیف دہ مرحلے میں ہم اپنے متروک کاغذات اور کتابوں کی چھانٹی کرنے بیٹھے کہ صرف ضروری کاغذات اور کتابوں کا بوجھ اٹھائیں۔ اس چھانٹی کے دوران اپنے زمانے کے مشہور فلسفی بر ٹرینڈ رسل کے مضامین پر مشتمل کتاب ہمارے سامنے آ ئی۔ سرسری ورق گردانی کے لیے کتاب کھولی تو فہرست میں ایک مضمون پر نظر اٹک گئی؛ اکیسویں صدی کی دنیا۔ برٹرینڈرسل 1872 میں برطانیہ کے ایک معروف ارسٹوکریٹ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرنٹی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ریاضی، فلسفہ اور تاریخ ان کے خصوصی میدان تھے۔ انہوں نے طویل عمر پائی اور ستانوے سال کی عمر میں 1970 میں فوت ہوئے۔ درجنوں کتابیں لکھیں، سیاسی طور بھی محرک رہے۔ فلسفے میں ان کے کام کے اعتراف میں انہیں 1950 میں نوبل انعام بھی دیا گیا۔
اپنے وقت کے اس ذہین فطین اور اعلیٰ دماغ نے اکیسویں صدی کے بارے میں کیا لکھا ؟ اکیسویں صدی کی دہلیز پر کھڑے ہم نے بڑے اشتیاق سے یہ مضمون پڑھنا شروع کیا تو کچھ ہی دیر میں ہماری ہنسی چھوٹ گئی۔ برٹرینڈرسل کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اکیسویں صدی میں روسی سوشلسٹ بلاک اور مغربی اتحاد یعنی امریکہ اور اسکے یورپی اتحادی ممالک کے درمیان کشمکش ہی دنیا کا اصل مسئلہ ہو گا۔ نوّے کی دِہائی میں روس ٹوٹنے کے بعد دنیا تیزی سے دو قطبی سے یوں ایک قطبی ہوئی کہ بچے کھچے روس کو اپنی سلامتی کے لالے پر گئے۔ امریکہ بہادر دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر اکیسویں صدی میں داخل ہوا۔ ان کے تجزیے میں آج کے چین کا ذکر بھی نہ تھا، اس کے علاوہ اور بہت کچھ ایسی طاقتیں اور رجحانات جن سے آج اکیسویں صدی کے نین نقش بنے ہیں، ان کاعندیہ تک ان کی تحریر میں نہ تھا۔ انہوں نے گذشتہ کل کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر جس آنے والے کل کو دیکھا تھا، وقت آنے پر اس ٌ کل ٌ کے نین نقش بالکل الٹ نکلے۔
ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے تو کرسٹل بال میں سے مستقبل دیکھنے والوں کو سبکی ہوئی۔ خلاف توقع موصوف وائٹ ہاؤس میں مقیم ہوئے تو صدارت کا ایک خلافِ معمول اپنایا۔ ایک کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے لگے۔ کہاں یہ کہ میڈیا اور دنیا والوں کو امریکی صدر کی ہربات سرکاری پالیسی کے لفافے میں ڈال کر پیش کرنے کا پروٹوکول ایک معمول رہا ہے۔ اور کہاں یہ کہ صدر موصوف صبح سویرے ایک ٹویٹ جاری کر کے اپنے دل و دماغ کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں۔ طبیعت میں خود پسندی اور حاکمیت اس قدر کہ جج نے ان کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف فیصلہ دیا تو انہوں نے اس جج کو نام نہاد بھی کہہ ڈالا اور فیصلے کو انتہائی بکواس بھی کہہ ڈالا۔ اسی پر اکتفا نہیں، یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو گیا اور ان ممالک کے لوگ ملوث ہوئے تو ذمہ دار عدلیہ ہوگی۔ عدلیہ کے فنڈز روکنے کا آپشن بھی انہوں نے سنا دیا۔ کسی عام جمہوری ملک میں صدر یا وزیر اعظم عدلیہ کے بارے میں یوں بات کرنے کا تصور بھی نہیں کرتے چہ جائیکہ امریکہ کا صدر یوں اپنی عدلیہ کی تضحیک بھی کرے اور دھمکیاں بھی دے۔ گذشتہ کل کا مشاہدہ اور علم تو اس انہونی پر سر پکڑ کر بیٹھا تھا کہ موصوف نے امریکہ کے دشمن نمبر ایک روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی عزت کرنے کا اقرار کیا۔ فاکس نیوز کے گھاگ اینکر نے فوراٌ ٹوکا کہ روسی صدر تو قاتل یعنی کِلّر ہے۔ صدر موصوف نے بڑے اطمینان سے جواب دیا؛ وہ تو ہمارے ہاں بھی بہت ہیں، امریکہ نے تھوڑے ہلاکتیں کی ہیں؟ عراق میں ہم نے کیا کیا؟ گزشتہ کل کا علم اس انہونی کے لیے بھی تیار نہ تھا لیکن شاید اب خلافِ معمول ہی معمول بننے جا رہا ہے۔
گذشتہ پینتیس چالیس سالوں میں سرمایہ دارانہ ممالک نے اپنی عالمی حاکمیت کے لیے ایک نئے ورلڈ آرڈر کا ڈھانچہ نہایت مہارت سے کھڑا کیا۔ روس کی شکست و ریخت کے بعد یہ آرڈر بالکل مونہہ زور ہو گیا۔ بلکہ بد مست ہاتھی کی طرح ملکوں ملکوں چڑھائی کرنا اس کا استحقاق سا بن گیا۔ عالمی سیاست کی بساط پر اپنے مہرے اور اپنی من پسند چالوں کے لیے اس ورلڈ آرڈر نے کمال بے دردی سے ہٹ بھی میرا پٹ بھی میرا والا نقشہ قائم کر دیا۔ اس ورلڈ آرڈر کو پہلے ہی غیر متوقع طور پر چین کی حیرت انگیز ترقی اور کئی ایشیائی ملکوں کی پھلتی پھولتی معیشتوں سے خطرہ لاحق ہے۔ اس پر مصیبت یہ کہ گذشتہ چالیس سالوں سے پڑھائے سبق اب الٹا رزلٹ دے رہے ہیں ۔ معیشت میں مارکیٹ اکونومی، مالیاتی مارکیٹوں کی مرکزیت، کسٹمر از کنگ، حکومت کے ہاتھ پاؤں سکیڑنے اور نجی سیکٹر کے ہاتھ پاؤں کھلے چھوڑنے جیسے فلسفے گھول گھول کر پلائے گئے۔ یونیورسٹیاں، تھنک ٹینک اور میڈیا ان خیالات کو انسانی تاریخ کے حتمی نظریات کے طور پر پیش کرتے نہ تھکتا تھا۔ ایک صاحب نے تو حساب کتاب جوڑ کر بتایا کہ اب مزید تاریخ لکھنے کا جھنجھٹ ختم کیونکہ اب ایند آف ہسٹری کا سنگ میل آ گیا ہے۔
قدرت کا مگر اپنا ایک الگ دھار ہے جس میں بہت کچھ بظاہر لافانی دیکھتے ہی دیکھتے فانی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تاریخ کے اپنے جبر ہیں۔ کل کے کمزور آج کے شہہ زور بننے میں دیر نہیں لگتی۔ کہاں یہ کہ امریکہ کو فیکٹریاں باہر دھکیلنے کی جلدی تھی اب نوکریاں دوبارہ واپس لانے کی جلدی ہے۔ کل تک دنیا کا ذہین ترین ٹیلنٹ راغب کرنے پر زور تھا اب روکنے کے لیے ہر حد پار کرنے پر تیار۔ کل تک انسانی حقوق اور امریکن جمہوری روایات کا علم دنیا بھر میں پھیلانے کی فوجداری سنبھالی ہوئی تھی اب ٌ پہلے امریکہٌ کا جھنڈا گاڑنے کی جلدی ہے۔ عالمی میڈیا اور اتحادی ممالک جز بز ہیں کہ جہاں بانی کا یہ انداز دیکھا نہ سنا۔ چالیس سالوں سے جس اشرافیائی سیاست اور معیشت کا نظام چالاکی سے کھڑا کیا گیا وہ ایک سال ہی میں ’ادھڑنے کے درپئے ہے۔ برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کیا کیا یورپ بھی میں نیشنسلٹ دائیں بازو نے بے تحاشا طاقت حاصل کر لی ہے اور اب اس پوزیشن میں آ رہے ہیں کہ مین اسٹریم سیاست دانوں کو دن میں تارے اور دانتوں میں لوہے کے چنے محسوس ہو رہے ہیں۔ امیگریشن اور ملازمتوں کی کمیابی کے مسائل اس چالیس سالہ بھاشن پر غلبہ پانے کوہیں جس میں مارکیٹ اکونومی کی معراج یہ بھی بتائی گئی کہ پیسے کے دنیا بھر میں فری منتقلی کی طرح ایک دن لیبر بھی آزادانہ منتقل ہو سکے گی۔
ورلڈ آرڈراپنی ترتیب نو کے مرحلے میں ہے۔ معمول سے خلاف معمول کی طرف۔ امریکہ اور یورپ ہی کیا، پاکستان میں بھی معمول پر اصرار کرنے والوں کو خلاف معمول کی حقیقت جاننے اور ماننے میں دقّت ہو رہی ہے۔ سیاست دانوں کی کرپشن کو معمول سمجھ لیا گیا ۔ کرپشن کا احتساب سیاسی انتقام کا کھیل تو کم و بیش ہر دور میں تھا لیکن یوں پانامہ کی شکل میں چالیس پچاس سال پرانے حساب کتاب سر عام دینے کی مجبوری آن پڑے گی، کس نے سوچا تھا۔ کراچی میں حکومتی پارٹی کا لاڈلا ڈاکٹر یوں عدالتوں میں خوار ہو گا کہ پوچھنے والا کوئی نہ ہو، سوچا نہ تھا۔ بدیس میں بن باس لیے قائد کی کال پر دس منٹ میں کراچی شہر بند ہونے والے اسی شہر میں اب ان کا ہر سابق رفیق ان سے لاتعلقی میں عافیت سمجھتا ہے ۔۔ انہونی اور خلاف معمول تاریخ کا معمول ہیں۔ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ ہو یا پاکستان میں پانامہ کا عدالتی کٹہرہ، خلافِ معمول ہو رہا ہے۔ اپنے وقت کا برٹرینڈرسل ہو یا کوئی اور جغادری، خلاف معمول کو آتے ہوئے کون دیکھ سکا ہے ۔ یہ بھی انسانی تاریخ کا خاصہ ہے کہ خلافِ معمول معمول بن جائے توآنے والا کل گذشتہ کل کی سادگی پر ہنستا ہے، تدبیر کند بندہ تقدیر کند خندہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *