ایل ڈی اے کی کرپشن 

Ata ullah wadood

وزیر اعظم جب سے پانامہ کے بھنور میں پھنسے ہیں تب سے فیتہ کا ٹنے کے مشن پر رواں دواں ہیں اور مختلف مقامات پر مختلف پراجیکٹس کا افتتاح کرتے ہوئے جہاں ان پراجیکٹس کے عوامی مفاد میں ہونے کے متعلق رطب اللسان ہیں وہیں اپنے سیاسی مخالفین پر گھن گرج کے ساتھ خوب برستے رہے اور آڑے ہاتھوں لیتے رہے خاص طور پر ان کا نشانہ عمران خان رہے۔اور خیبر پختو نخوا حکومت کے متعلق نکتہ چینی میں مصروف عمل رہے کراچی سے حیدرآباد کے موٹر وے کے ایک سیکشن کے افتتاح کے موقع پر فرمایا جہازوں میں پھرنے والوں کو سڑک کی اہمیت اور افادیت کا کیا پتہ ؟ اس تاریخی خطاب کے بعد اپنے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر گورنر ہاؤس کراچی کی طرف روانہ ہو گئے ۔
میاں صاحب سیاسی مخالفین سے ان کے میگا پراجیکٹس میں خامیاں نکالتے پر شکوہ کناں ہیں اور اپنے پراجیکٹس پر ہونے والی جائز تنقید کو بھی کسی خاطر میں لانے پر تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے ماتحت بیوروکریسی کھل کھیلنے میں مصروف ہے اور کرپشن کا ایک سونامی ان پروجیکٹس کے ساتھ ہے جو یقینابعد میں میاں صاحب کی سیاسی ساکھ کے لئے تباہی کا موجب ہو گا۔
پنجاب پر شہباز شریف تقریباََ نو سال سے حکمرانی فرما رہے ہیں اور مسلم لیگ کا گڑھ لاہور شہر جس کے انتظام و انصرام کی بنیادی ذمہ داری ایل۔ ڈی ۔اے پر ہے۔
اور یہ ادارہ کرپشن کے دلدل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے، ایل۔ڈی۔اے کے ڈائریکٹر کمرشلائزیشن طارق نے کرپشن کے تمام ریکارڈ ز کو مات دیتے ہوئے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا چکے ہیں ۔
کئی عمارات کمرشلائزیشن فیس کی ادائیگی کے بغیر ہی کمرشل کر دی گئی ہیں۔کچھ حصہ عمارت کا کمرشل کروا کر ساری عمارت کو کمرشل کر کے استعمال کیا جا رہا ہے۔
جب ان کرپٹ افسران سے اس بابت سوال کیا جائے تو کہتے ہیں اوپر سے نیچے تک سب کا حصہ ہے کر لو جو تم نے کرنا ہے،کیا شہباز شریف کا بھی اس میں حصہ ہے ؟ ؟؟؟دعوے کرتے ہیں ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔کیا ایل ۔ڈی۔اے میں ہونے والی کرپشن کی جواب طلبی ان کے اختیار میں نہیں ؟؟؟
ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شفقت اپنے تیءں پھرتیاں دکھانے میں مصروف ہیں ، جعلی آپریشن کر کے غیر قانونی شادی ہالز سربمہر کیا جاتا ہے اور چند دنوں کے بعد ڈی سیل کر دیا جاتا ہے، اور غیر قانونی تعمیرات گرانے کی جعلی کاروائیوں کو میڈیا کی زینت بنوا رہے ہیں جب کے حقیقت کچھ یوں ہے کہ ملی بھگت کے ساتھ غیر قانونی بلڈنگز کی ایک دیوار گرا دی جاتی ہے اور بھاری نظرانے وصول کر کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ تعمیر کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ شہباز شریف کے آگے نمبر بھی بن جاتے ہیں اور جیب بھی خوب گرم ہو جاتی ہے۔
کیا جب یہ شادی ہالز تعمیر ہو رہے تھے تو اسوقت ایل۔ڈی۔اے افسران ستو پی کر سورہے تھے؟ ؟گڈ گورنس کے دعویدار شہباز شریف اس ضمن میں کیا جواب دیں گے؟ ؟پورا پنجاب تو دور کی بات ہے لاہور شہر ہی کرپشن میں گوڈے گوڈے تک ڈوب چکا ہے اور شہباز شریف ایک پائی کرپشن کی گردان کر رہے ہیں، حضور ایک پائی ہم واقعی ثابت نہیں کر سکتے یہاں تو کروڑوں اور اربوں کی بات ہے۔
جب ہم بولتے ہیں لکھتے ہیں تو چند نام نہاد صحافی کہتے ہیں یہ صرف کیڑے نکالنا جانتے ہیں جناب اگر قومی خزانے کو ایل۔ڈی۔اے یا کوئی اور ادارہ کروڑوں کا نقصان پہنچائے تو کیا ہم بولیں بھی نہ؟ ؟راجہ صاحب لنک روڈ ماڈل ٹاؤن کی عمارت ایل ۔ڈی۔اے کی کرپشن کی زندہ تصویر ہے بغیر کمرشلائزیشن فیس اربوں روپے کی عمارت کھڑی کر دی گئی ہے اور ڈائر یکٹر کمرشلائزیشن طارق کہتا ہے کہ کر لو جو کرنا ہے ہم نے تو ایسے ہی کام کرنا سیکھا ہے اور ایسے ہی کریں گے ، ساتھ ہی ڈھٹائی سے جواب دیا میرا تبادلہ ہو گیا ہے شنید ہے کہ نیا ڈائریکٹر نان ٹیکنیکل بندہ ہے۔
انشاء اللہ اگلے کالم میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمٹ کے شاہی عملے کے لئے پاس کرائی گئی عوامی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال کر شاندار گاڑیوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھوں گا۔
شہباز شریف سے استدعا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے صورتحال کا نوٹس لیں وہ وقت دور نہیں جب وہ کٹہرے میں کھڑے ہو کر دوسروں کی کرپشن کا جواب دے رہے ہوں گے۔انشاء اللہ ہم نے کرپشن فری معاشرہ بنانے کا اعادہ کیا ہے جلد ہی ڈی وٹامنز جیسے نجی اداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لے کر آئیں گے جو کروڑوں روپے کی سیلز ٹیکس چوری میں ملوث ہیں اور ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کی گرفت کمزور ہو چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *