کراچی لٹریری فیسٹیول ، لبرل حضرات باہر آئیں

فرح ناز زاہدیfarah naz zaidi

کراچی لٹریری فیسٹیول ایک کامیاب پروگرام تھا ۔ اس میں صرف کتابوں اور مصنفین کی بات زندگی کے بارے میں معلومات ہی نہیں تھیں بلکہ  پاکستان کے تخلیقی ذہنوں سے ملاپ کا ایک خوبصورت موقع تھا۔ لٹریچر اور آرٹس  اس طرح کے فورم پر اس لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ لوگ اپنے خیالات اور نظریات کو دوسروں تک پہنچا سکیں اور اپنے بیانیے اور دوسرے بیانیے کے جوابات عوام کے سامنے لا سکیں۔ کے ایل ایف  2017 کا ایک کاونٹر فوئیل سیشن  آرٹ کے ذریعے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں ڈسکشن کے بارے میں تھا۔ ایک پاکستانی موسیقار نے ویڈیو چلا کر پاکستانی موسیقار اور نعت خوان جنید جمشید کو خراج تحسین پیش کیا اور  بتایا کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود کیسے انہوں نے جنید کے ساتھ مل کر دوستی کا سفر جاری رکھا اور بہت سے امن کو پروان چڑھانے والے پراجیکٹس پر اکھٹے کام کیا۔

ایک لبرل اور پروگریسو سکالر نے اس موقع پر جنید جمشید کی لمبی داڑھی  اور لباس کے انتخاب کا مذاق اڑایا  اور پھر عورتوں کے معاملے میں ان کے خیالات پر بھی تبصرہ کیا۔ اس سکالر کے تبصرے موضوع سے ہٹ کر تھے اور  ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پاکستانیوں کو کابھی تک لبر لزم کے معنی سے واقفیت نہیں ہے۔ ڈکشنری کے مطابق لبرل کا مطلب ایسا شخص ہے جو نئے رویوں کو برداشت کر پائے  اور پرانی روایات کو چھوڑ دینے کے لیے راضی ہو، تبدیلی کے لیے تیار ہو رد عمل میں حد سے گزرنے والا نہ ہو ، سماجی ، معاشی اور دوسرے مسائل کو نئے دور کے نظریات کی روشنی میں حل کرنے پر یقین رکھتا ہو۔

ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ لبرل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دوسروں کے بارے میں رائے دینے میں جلد باز نہ ہو، اپنے خلاف جانے والوں کے نظریات کو اہمیت دیتا ہو  اور شدت پسند نہ ہو۔ لبرل ازم اصل میں شدت پسندی اور فنڈا منٹل ازم کی متضاد ہے۔ یہ تمام ببلز کو توڑنے، حدود کو پھیلانے اور نت نئے طریقوں سے مسائل کا حل ڈھونڈنے کا نام ہے۔ اصلی لبرلزم کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر دوسروں کے خیالات کو سننے  کا جذبہ ہو چاہے وہ خیالات آپ کے نظریات سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں۔

آج پاکستان کو حقیقی طور پر لبرل شخصیات کی ضرورت ہے جن کے اپنے جو بھی عقائد ہوں لیکن وہ دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوں اور مذاکرات اور گفتگو پر یقین رکھتے ہوں۔ یہ دانشور عوام کے درمیان محبت اور برداشت کے پل قائم کرنے کی ذمہ داری لیں۔ لیکن جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ بلکل برعکس ہے۔ یہاں عدم برداشت اور مذہبی منافرت کا دور دورہ ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ دوسرے انہیں عقائد کو مانیں جن کو وہ مانتا ہے اور سختی سے اسی عقیدہ سے جڑے رہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو لبرل اور پروگریسو کہتے ہیں وہ بھی انہی شدت پسند لوگوں کی طرح تنگ زہن ہیں۔ ان میں سے بھی زیادہ تر لوگ عدم برداشت  اور اختلافی چیزوں کو نہ ماننے پر بضد رہتے ہیں۔

آپ سوشل میڈیا پر ہی نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔ وہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ داڑھی والا شخص یا حجاب کرنے والی عورت انسانی حقوق کی علمبردار ہو ہی نہیں سکتی۔ ان کا امن قائم کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھانے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے ہی دوسرے طبقہ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ بغیر بازو کپڑے پہننے والی عورت اور میوزک  اور شوبز کے شعبہ سے تعلق رکھنے والا مرد  کبھی پکا مسلمان نہیں ہو سکتا۔

 دوسروں پر چیخ چلا کر  ہم کچھ ریڈرز اور فالوورز کی حمایت حاصل کر لیتے ہیں ۔ کچھ فالوورز وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہمارے دوسروں کے بارے میں شدت پسندانہ بیانات اور مذاق اڑانے کے طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہمارے بہترین ذہن والے لوگ ٹین ایجر کی طرح رویہ اختیار کیے رکھتے ہیں  اور ایسے لگتا ہے کہ وہ پیٹر پین کی طرح خیالوں کی دنیا میں آباد ہیں ۔ میں یہ اس لیے نہیں لکھ  رہی کہ کراچی لٹریری فیسٹیول کی اہمیت کو ثبوتاژ کر سکوں۔ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جو تقریبات لوگوں کے بیچ محبت اور قربت لانے کا باعث ہونی چاہییں وہ ہمارے ملک میں  فائدہ مند اس لیے ثابت نہیں ہو پاتیں کہ لوگ اپنے  سماجی اور نظریاتی مخالفین کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ہم اپنے نظریاتی بلبلے میں سمٹ کر رہنا چاہتے ہیں  اور اپنے پسندیدہ لیڈرز کی تقلید میں اندھے ہوئے چاہتے ہیں۔ کوئی بھی دوسرے کی بات کو سمجھنے کےلیے تیار نہیں ہے۔ ہم دنیا  میں ہمدردی کرنے والوں کے گن گاتے ہیں لیکن خود برداشت کرنے کی طاقت بھی اپنے اندر نہیں پاتے۔ ہم نہ زندہ لوگوں کو بخشتے ہیں نہ مردوں کو۔ اس سب کے باوجود ہمیں یہ غلط فہمی بھی رہتی ہے کہ ہم مسائل کے حل کی کوشش میں ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں کوئی بھی شخص اپنے آپ کو لبرل کیسے قرار دے سکتا ہے؟  اگر پاکستان شدت پسندی سے نجات چاہتا ہے  تو یہاں کہ عوام کو عدم برداشت کا کلچر ترک کرنا ہو گا، دوسروں کی آرا سننا ہو  گا خاص طور پر ان لوگوں کو جو آپ سے اختلاف رکھتے ہیں  اور ان کی آرا کو اہمیت دینی ہو گی۔ پاکستان میں امن کے قیام کی کنجی یہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *