کلائمیکس اور اینٹی کلائمیکس

رؤف طاہرrauf

نیوکاسل(انگلینڈ) سے آئے ہوئے پروفیسر طارق احمد کے لئے یہ فرخ شہباز کا عشائیہ تھا۔ میزبان نے میڈیا سے متعلق کچھ احباب کو بھی جمع کر لیا تھا۔ کہا جاتا ہے، دُنیا میں ایسی اقوام کم ہی ہوں گی جو سیاست سے اتنی دلچسپی رکھتی ہوں جتنی پاکستانیوں میں پائی جاتی ہے۔ جہاں دو پاکستانی جمع ہوئے، سیاست پر بحث شروع ہوگئی۔ سو، یہاں بھی بیشتر وقت عمران کا پلان ’’سی‘‘ موضوعِ گفتگو رہا۔ حاضرین میں عمران کے مداح بھی تھے اور اس کی سیاست اور طرزِ سیاست سے اختلاف کرنے والے بھی۔ طارق احمد کا کہنا تھا کہ عمران کی تضادات سے بھرپور ’’میں نہ مانوں‘‘ سیاست بیرونِ ملک بھی اس کے مداحوں میں مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔ بریڈ فورڈ یونیورسٹی والوں نے کس چاہت کے ساتھ یونیورسٹی کی چانسلر شپ عمران کو سونپی تھی اور یہ بات بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لئے بھی فخر کا باعث تھی۔ گزشتہ روز خبر آئی کہ موصوف نے چانسلر شپ سے استعفیٰ بھجوادیا ہے۔ اندر کی بات یہ تھی کہ بریڈ فورڈ کے طلبہ چانسلر صاحب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لارہے تھے کہ 2005 سے لے کر اب تک اس نے یونیورسٹی کے کسی سالانہ کا نووکیشن میں شرکت کی زحمت نہیں کی تھی۔ (ادھر شوکت خانم کے انتظامی معاملات بھی تشویشناک ہوتے جارہے ہیں، جہاں کئی روز سے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں)اور اب بات کپتان کے پلان ’’سی‘‘ کی طرف آگئی تھی جو 24 گھنٹے بھی اپنی اصل شکل میں برقرار نہیں رہا تھا۔ کس رعونت کے ساتھ موصوف نے اعلان کیا تھا،’’میں 4دسمبر کو لاہور پہنچوں گا اور لاہور کو بند کردوں گا۔ 8 کو فیصل آباد جاؤں گا اور اِسے بند کردوں گا۔ 12کو کراچی پہنچوں گا اور اسے بند کردوں گا، جس کے بعد 16دسمبر کو پورا پاکستان بند کردوں گا‘‘۔
کپتان کا یہ اعلان اور یہ طرزِ کلام اس کے کتنے ہی مداحوں کے لئے حیرت کا باعث تھا۔ جناب عبدالقادر حسن جیسا ان کا مداح بھی حیرت کا اظہار کئے بغیر نہ رہا، ’’لاہور جو کوئی ایک کروڑ کے قریب شہریوں کا گھر ہے، کیا خان صاحب کا کوئی مقبوضہ شہر ہے کہ جسے وہ جب چاہیں کھولیں یا بند کردیں ؟‘‘ بزرگ کالم نویس یہاں اپنے ممدوح کے متعلق یہ کہے بغیر بھی نہ رہے کہ ان کے متعلق کچھ لکھنا اپنی سبکی کرانا ہے کہ نجانے وہ ان الفاظ کی اشاعت تک کیا کچھ نہیں کہہ چکے ہوں گے۔
کپتان کے ان فرامین کو 24گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ شاہ محمود قریشی میڈیا کے سامنے آئے، اب لاہور کو’’بند ‘‘ کرنے کی تاریخ 4کی بجائے 15اور پورے پاکستان کو ’’بند ‘‘ کرنے کی تاریخ 16سے بڑھا کر 18دسمبر کر دی گئی تھی کہ 4دسمبر کو لاہور میں جماعت الدعوۃ کا کُل پاکستان اجتماع ہورہا تھا جبکہ 16دسمبر یومِ سقوطِ مشرقی پاکستان تھا، پاکستان کی تاریخ کا بدترین دن۔ اس بار اس تاریخ کو ’’چہلم‘‘ بھی آرہا تھا ۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تحریکِ انصاف میں فیصلے کس سنجیدگی اور کتنے غوروفکر کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔کیا کپتان، پلان سی جیسے اہم منصوبے کے لئے بھی کورکمیٹی سے مشاورت نہیں کرتاورنہ ان میں سے کسی ایک آدھ کو تو یاد ہوگا کہ پاکستان کی تاریخ میں 16دسمبر کا کیا حوالہ ہے اور یہ بھی کہ اس سال اس روز’’چہلم‘‘ بھی آرہا ہے۔ اور پھر’’بند‘‘ کرانے کا معاملہ بھی دلچسپ رہا۔ کپتان کے اعلان سے تو یوں لگتا تھا کہ جب جب اور جہاں جہاں اس کے قدم پہنچیں گے، تب تب اور وہاں وہاں نظامِ کائنات تھم جائے گا۔ بازار، مارکیٹیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے ، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر سب کچھ بند ہوگا۔ یہاں تک کہ خلقِ خدا بھی سانس تھامے گھروں میںبیٹھ رہے گی کہ ظلِ الٰہی شہر میں وارد ہوچکے ہیں لیکن شاہ محمودقریشی کی وضاحت کے مطابق، ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوگا، بس بڑی بڑی شاہراہوں اور ان شہروں کے انٹری پوائنٹس پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے لیکن لاہور کی تاجر تنظیموں نے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا کہ کپتان کسی خوش فہمی میں نہ رہے، کسی نے زور زبردستی دُکانیں بندکرانے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں انہوں نے بھی ڈنڈا فورس تیار کرلی ہے۔
خود کپتان کو بھی پلان سی کی کامیابی کا یقین نہیں تھا تبھی تو اس نے اس کے ساتھ ہی پلان ڈی کی دھمکی بھی دے دی تھی اور یہ بھی کہ میاں صاحب کو معلوم نہیں، اس کی پٹاری میں اور کتنے پلان ہیں۔ لیکن حالات کا ایک اور پہلو بھی ہے، تصویر کا دوسرا رُخ۔ کپتان کے لئے اسلام آباد کا دھرنا شام گزارنے کا اچھا بہانہ سہی، موصوف نے گزشتہ شب بھی فرمایا کہ وہ سوچتا ہے، دھرنا ختم ہوگیا تو اسکی شامیں کیسے گزریں گی کہ وہ ان کا عادی ہوگیا ہے لیکن اسے احساس ہوگیا ہے کہ لوگ تھک گئے ہیں۔ خالی کرسیوں کا دھرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اس نے 30 نومبر کے’’ فیصلہ کن‘‘ جلسے کا حال بھی دیکھ لیا۔ تحریکِ انصاف کے محرمِ رازدرونِ خانہ کے بقول،’’ حاضرین کی تعداد توقعات سے کم پا کر کپتان اعجاز چوہدری کی باز پرس پر اُتر آیا جو گنتی کی چند کاروں کے ساتھ اسلام آباد پہنچے تھے۔ شاہ محمود کے لئے کپتان نے ایک بہت ہی سخت لفظ استعمال کیا جو لکھا نہیں جاسکتا ‘‘۔تو اب اِسے فیس سیونگ چاہئے کہ وہ اس کمبل سے جان چھڑا سکے؟ شاہ محمودقریشی کے بقول حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو تو فیصل آباد کا احتجاجی پروگرام ملتوی کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ کپتان کا کہنا ہے، جوڈیشل کمیشن بیٹھ جائے تو وہ پلان سی واپس لے سکتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کا اعلان پرائم منسٹر نے 12اگست کو قوم کے نام اپنے خطاب میں کر دیا تھا، 13کو اس کے لئے جناب چیف جسٹس کو باقاعدہ خط بھی لکھ دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ُادھر سے اس بارے میں خاموشی کا سبب، جوڈیشل کمیشن کے قیام میں درپیش بعض آئینی رکاوٹیں ہیں(جنہیں پارلیمنٹ کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے)۔باقی رہی مذاکرات کی بات تو اگست کے اواخر تک یہ بھی جاری تھے۔ آخری دور جہانگیر ترین کے ہاں ہوا تھا اور فریقین میڈیا کو مثبت پیش رفت کی اطلاع دے رہے تھے۔ عمران کو مذاکرات کی رپورٹ پیش کر کے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی ٹاک شوز کے لئے چلے گئے۔ وہ اسٹوڈیوز میں تھے کہ عارف علوی کا فون آگیا۔ وہ واپس پہنچے توکپتان پرائم منسٹر ہاؤس کی طرف مارچ کا اعلان کررہا تھا۔ ادھر اس کا ’’سیاسی کزن‘‘ قائدِ انقلاب بھی پرائم منسٹر ہاؤس پر دھاوے کے لئے روانہ ہورہا تھا۔ جاوید ہاشمی کے بقول، شیخ رشید اور سیف اللہ نیازی کوئی پیغام لائے تھے جسے سنتے ہی کپتان نے پرائم منسٹر ہاؤس کی جانب روانگی کا فیصلہ کرلیا۔وہ جو کہتے ہیں، مچھلی پتھر چاٹ کر واپس آتی ہے۔ کپتان وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے سے دستبردار ہوچکا حالانکہ وہ یہ بات بہ تکرار کہتا رہا تھا کہ مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے ، وہ استعفیٰ لئے بغیر واپس نہیں جائے گا۔ اب وہ جن مطالبات پر اصرار کر رہا ہے، اگست کے اواخر تک ان پر مثبت پیش رفت ہورہی تھی۔ جہاں تک انتخابی اصلاحات کا تعلق ہے، اس کے لئے جون میں پارلیمنٹ (دونوں ایوانوں ) کے ارکان پر مشتمل 33رکنی کمیٹی قائم ہوچکی تھی جس کے لئے عمران نے بھی اپنے تین نمائندے دے دیئے تھے(عارف علوی، شفقت محمود، شیریں مزاری)۔ حکومت اور خورشید شاہ کی طرف سے یہ پیشکش موجود تھی کہ عمران خود اس کمیٹی میں شامل ہوں اور اس کے چیئرمین بن جائیں۔ اسحاق ڈار کی سربراہی میں(جنہیں تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر یہ ذمہ داری سونپ دی تھی) تحریک کے نمائندوں کی شمولیت کے بغیر بھی یہ پارلیمانی کمیٹی اپنے کام میں مصروف ہے۔ شامی صاحب نے فرخ شہباز والے عشائیے میں دلچسپ بات کہی، دھرنا تحریک کے دوران عمران کے لئے کائمیکس کا وقت بھی آیا تھا، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے عمران کی ملاقات ۔ خود عمران کے بقول جنرل صاحب ، وزیراعظم کے استعفے کے سوا باقی معاملات کے لئے سہولت کار کا رول ادا کرنے کو تیار تھے لیکن عمران نے وہ لمحہ ضائع کر دیا۔ عروج کے ساتھ ہی زوال شروع ہوجاتا ہے۔ یہی بات انہوں نے جنرل ضیاء الحق سے بھی کہی تھی، دن کے 12بجے کلائمیکس ہوتا ہے(نصف النہار) اور اس کے بعد زوال کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ تب ضیاء الحق نے کہا تھاکہ اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ آدمی اسی خوش فہمی کا شکار رہتا ہے کہ ابھی تو ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ بجے ہیں، ابھی کائمیکس کا مرحلہ باقی ہے لیکن اُدھر زوال شروع ہوچکا ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *