صدقہ جاریہ

عبدل سبحان

abdul subhan

ریحان کی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی تھی کہ غریب ولاچارلوگوں کی مدد کرنا اس کے من میں کوٹ کوٹ کربھراہوا تھا جیسے اُسی اچھے بُرے کی تمیز ہوئی تو غریبوں ، بزرگوں اور لاچاروں سے بے تحاشہ محبت نے اُس کے دل میں ایسے ڈیرے ڈالے تھے کہ اسے ہر کسی کا دُکھ درد اپنامحسوس ہوتاتھااور ایسے مواقع دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتاتھا ہرکسی کے ساتھ بھلائی کرنے کو اُس کا جی ہروقت بے قرار رہتاتھا۔ ایک دفعہ ریحان اپنے ابو کے ساتھ سکول سے واپس آرہاتھا کہ ایک جگہ اُس کے ابونے کسی کام کے واسطے گاڑی روکی تو ریحان نے ایک عجیب منظر دیکھا جس نے ریحان کوحیران وپریشان کردیا۔
اس کی نظر ایک غریب اور عاجز بوڑھے پر لگی جو اپنی پیٹھ پر غربت کابوجھ لادے تکلیف سے قدم اٹھاتے ہوئے ایک درخت کے نیچے بیٹھنے جارہاتھا ریحان گاڑی شیشہ سے لگ کر ہمدردانہ نگاہوں سے اس لاچار انسان کی غربت وبے بسی کامشاہدہ کرنے لگا۔باباجی کے آبلے پڑے پاؤں کانٹوں، پتھروں سے ٹکراتے ہوئے تپتی زمین پرجل رہے تھے،آہستہ آہستہ وہ درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گیا۔ ریحان اسے تکتارہا جس سے ریحان کے معصوم ذہن پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی۔۔۔ریحان کا دل اس کی مدد کرنے کو بے قرار ہوگیاجبکہ باباجی اپنے بوریا سے کچھ دھاگے اور چتھڑے نکال کرپاؤں پر باندھ کر اپنے کام کی تلاش میں نکل پڑتاہے، ریحان اس مشاہدے میں مستغرق تھا کہ اسکا والدگاڑی میںآکر بیٹھ گیا اور گاڑی چل پڑی۔ ریحان نم ناک آنکھوں سے وہ منظر دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ نظروں160سے اوجھل ہوگیا۔
ریحان اس لاچار انسان کی مدد کے لیے دل میں کڑھتارہتاتھا کہ کس طرح اس کی مدد کروں۔وہ ایک کفایت شعار بچہ تھااس کے ابو اسے جو پیسے دیتے تھے وہ اپنی ضرورتوں میں خرچ کرکے کچھ پیسے بچا کر گلہ میں محفوظ کرلیتا۔کچھ رقم جمع ہونے پر اس نے بوڑھے کے لیے بازار سے نئے جوتے خریدنے کے لئے اپنا گلہ توڑا ،پیسے نکالے اور اپنے سائیکل پر سوار ہوکر بازارجاکرنئے جوتے خریدکر بابا کی راہ لی، ریحان اس بابے کے پاس پہنچ کر اسے نئے جوتے دئیے تو اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک پڑے ،پھر اس نے وہ جوتے پہنے اور ریحان کو گلے لگاکر ڈھیروں دعائیں دیں، جس سے ریحان کا خون سیروں بڑھ گیا،ابھی ریحان بابا جی کے پاس بیٹھا باتیں کررہا تھا کہ اتفاقاًوہاں سے اس کے ابو کا گزر ہوا اس نے ریحان کو دیکھاکہ خوشی اور جوش سے اس کا چہرہ تمتما رہا ہے وہ تیزی سے اپنے ابو کے پاس گیا اور اسے سارا واقعہ سنایا تو اس کے والد اس کے اس کام پر بہت خوش ہوئے اور اسے شاباش دیتے ہوئے انعام کے طور پر اسے دوبارہ جیب خرچ دیدیا ۔معزز قارئین!اپنے بچوں کواس طرح کے کاموں پر شاباش اور انعام ضرور دینا چاہیے تاکہ ان میں لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی عادت پختہ ہوسکے ۔
قرآن و حدیث میں بھی انسان کا لوگوں کے کام آنے ، ان کے ساتھ ہمدری و محبت کا رویہ اپنانے اوران کی خیرخواہی پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ یہی وہ چیز تھی جس نے اسلام کی طرف عام انسانوں کو کھینچا اور بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے ۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتاہے کہ نبوت سے پہلے اور بعد بھی آپ کی زندگی کا بہت بڑا حصہ انسانوں کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں صرف ہوتا رہا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا میں جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ ؐ کانپتے ، لرزتے ہوئے سیدہ خدیجہؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ 146146مجھے اپنی جان کا ڈر ہے 145145۔ اس پر سیدہ خدیجہؓ نے فرمایا :146146ہرگز نہیں، آپؐ خوش ہوجائیے خدا کی قسم آپ کو اللہ تعالیٰ رسوانہ کرے گا۔آپؐ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادارلوگوں کو کماکردیتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں، نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں145145۔
لیکن آج مسلمانوں میں خدمت خلق اور دوسرے کی حوصلہ افزائی کا جذبہ آخر کیوں سرد ہے ؟ اگر ہم میں سے ہر ایک یہی سوچ لے کہ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے کیوں نہ میں اپنی آمدنی میں160سے کچھ اللہ کے نام پر لوگوں کو بھی دوں،کبھی کسی سکول میں جاؤں اور پتہ کروں کہ کتنے بچے مستحق ہیں،جن کے والدین سارا دن محنت کرتے ہیں مشکل سے گھر کا خرچ چلاتے ہیں اور اسکول کی فیس بھی بھرتے ہیں تو اپنی جانب سے ان بچوں160کی فیس ادائیگی میں تعاون کردوں،اسی طرح ان کے لئے ماہانہ یا سالانہ وظیفہ مقرر کردوں تاکہ کم ازکم وہ غریب بچے اپنی تعلیم تو جاری رکھ سکیں۔
آپ کے اس عمل سے وہ بچے بھی لکھ پڑھ کر ایسے کئی چراغ روشن کریں گے جوآپ کے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے اور دیئے سے دیا جلتا رہے گا۔اس لئے ایسے نیکی کے کاموں میں اپنے بچوں کو بھی شریک کیجئے اور ان کے ہاتھ سے لوگوں کو دلوائیے تاکہ ان میں بھی اللہ کی راہ میں160خرچ کرنے کا جذبہ پیدا اور مال کی حرص کی بجائے خرچ کرنے کا مزاج بنے اور بخل اور کنجوسی کی جڑ ہی ختم ہوجائے ۔ اسی طرح160اگر وہ از خود کوئی اچھائی یا نیکی یالوگوں کی مدد کریں تو آپ کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جس سے ان کے دل میں مزید ایسے نیکی کے خیالات پیدا ہوتے رہیں گے اور نیکی کی راہ میں160آگے بڑھتے رہیں گے جو یقیناً آپ کے لئے نیک نامی کا باعث بنیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *