انوکھے لبرل سے ملاقات( آخری حصہ )

naeem-baloch1

اس کالم کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

میں نے پروفیسر صاحب کے سامنے کتاب کا وہ حصہ رکھا جس میں بیان کیا گیا تھا کہ مسلمان سائنسی علم میں کیوں پیچھے رہ گئے تھے :
’’عباسی خلیفہ المامون ( ۸۳۳۔۷۸۶) کے زمانے میں بیت الحکمت قائم ہوا اور حکومت کے خصوصی تعاون کے تحت دونوں قسم کے نظریوں پر مبنی کتب کے ترجمے عربی زبان میں کیے گئے۔ مسلمانوں نے جب اعتقادی پیچیدگی سے آزاد ہو کر دونوں نظریات کو جانچا تو ان کو پہلا نظریہ حقیقت سے قریب تر نظر آیا۔علم کے مختلف میدانوں میں یہ ترقیاں جاری تھیں کہ باہم اختلافات کے نتیجہ میں عرب خلافت کا نظام ٹوٹ گیا۔ اور اسلامی خلافت کا جھنڈا عثمانی ترکوں (۱۹۲۲ ۔ ۱۵۱۷) نے سنبھالا۔ اس طرح سے سولہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کا مرکز عرب سے نکل کر ترکی کی طرف منتقل ہو گیا۔ یہاں سے تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا جس نے واقعات کے رخ کو بالکل دوسری طرف موڑ دیا۔تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ ایک شخص جو کسی پہلو سے مفید خدمت انجام دیتا ہے، وہی کسی دوسرے پہلو سے بہت بڑی مصیبت کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کی ہے۔ اس کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے خلفائے راشدین کی فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد (عمر بن عبد العزیز) کا اضافہ کیا۔ مگر مورخ اسی خلیفہ کے تذکرہ میں اس ہیبت ناک غلطی کو بھی لکھتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے انتہائی اہم فوجی سرداروں کو ختم کرا دیا۔‘‘
ان الفاظ پر پہنچ کر پروفیسر صاحب نے پوچھا : بھئی یہ کن فوجی سرداروں کی طرف اشارہ ہے تو میں نے بتایا کہ یہ سلیمان بن عبد الملک ہی تھا جس نے محمد بن قاسم ،قتیبہ بن مسلم اور طارق بن زیاد کو بالترتیب ہندوستان، افریقہ اور سپین سے وابس بلا کر بلاوجہ شہید کر ڈلا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اچانک ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ ‘‘میری اس وضاحت کے بعد انھوں نے متوقع طور پر سوال کیا : ’’ ویسے مسلمان یہ بتائیں کہ اگر یہی کام بعد میں یورپ نے کیا یا آج کاا ستعمار کرے تو آپ ان کو کیوں ’’ ظالم ‘ کہتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ مجھے اصولی طور پر آپ سے اتفاق ہے لیکن اس پر گفتگو ہمیں موضوع سے ہٹا دے گی ۔ میرے ہتھیار ڈالنے پر وہ مسکرا کر خاموش ہوئے اور وہ آگے پڑھنے لگے :
’’یہی صورت عثمانی ترکوں کے ساتھ پیش آئی۔ ترکوں نے عین اس وقت اسلام کا جھنڈا سنبھال لیا جب کہ کمزور ہاتھوں میں پہنچ کر اس کے گرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔ وہ کئی سو سال تک یورپ کی مسیحی طاقتوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی دیوار بنے رہے۔ اس اعتبار سے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہی ترک ہیں جو اس حادثہ کا باعث بنے کہ مسلم دنیا میں ہونے والی سائنسی تحقیقات رک جائیں اوران کا مرکز یورپ کی طرف چلا جائے۔ ترک انتہائی بہادر اور حوصلہ مند تھے۔ مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ جاہل تھے۔ علمی تحقیق کے کام کی اہمیت نہ صرف یہ کہ وہ سمجھ نہیں سکتے تھے بلکہ وہ اس کو اپنے لیے ایک سیاسی خطرہ خیال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ علم کے بڑھنے سے رعایا میں ان کے حق میں وفاداری کم ہو جائے گی اور ان کو قابو میں رکھنا نسبتاً زیادہ مشکل ہو جائے گا۔( بالکل ہمارے ہاں کے جاگیر داروں کی طرح جو اپنے علاقے میں تعلیم کو عام نہیں ہونے دیتے کہ مبادا پڑھ لکھ کر کسان اپنے حقوق سے آگاہ ہو جائیں اور ان کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔)یہی وجہ ہے کہ انھوں نے علمی کام کے ساتھ سخت غیر رواداری کا ثبوت دیا۔ جب مسلم سیاست کا مرکز بدلا تو وہ لوگ جو بغداد اور دوسرے مراکز میں سائنس کی تحقیق کا کام کر رہے تھے، وہ منتقل ہو کر ترک دارالسلطنت ’’آستانہ‘‘ میں جمع ہو گئے۔ عباسی خلفاء ان لوگوں کی بے حد قدردانی کرتے تھے۔ انھوں نے ان کے اوپر درہم و دینار کی بارش کر رکھی تھی۔ مگر ترک ان کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر ان سے نفرت کرنے لگے۔ انھوں نے ان کیاس قدر حوصلہ شکنی کی کہ ترک حکومت میں ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ چنانچہ یہ لوگ ترکی چھوڑ کر اٹلی اور فرانس جانا شروع ہو گئے۔ سائنسی تحقیق کا کام مسلم دنیا سے نکل کر مغربی دنیا میں منتقل ہو گیا۔( ترکوں نے علم او راہل علم کی جس طرح حوصلہ شکنی کی اس کی دردناک تفصیل محمد کرد علی شامی کی کتاب ’’تاریخ الحضارۃ العربیہ‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔)
’’مغربی دنیا میں ان سائنس دانوں کی زبردست پذیرائی ہوئی۔ صلیبی جنگوں (۱۲۷۱۔ ۱۰۹۵) میں مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپی قوموں کو شکست ہوئی تھی کہ مسلمان علم و فن میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان جنگوں میں ابتدا میں رومی فوجوں نے یونانی آگ (Greek Fire) استعمال کی جس سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ’’یونانی آگ‘‘ ایک قسم کی پچکاری تھی جس میں آتش گیر کیمیائی مرکب بھر کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا۔ مسلم سائنس دانوں نے اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ایجاد کی۔ اس میں روغن نفط (معدنی تیل) استعمال ہوتا تھا۔ اس کی مار زیادہ دور تک تھی اور اس کا نقصان بھی یونانی آگ سے بہت بڑھا ہوا تھا۔
’’یورپ کے مسیحی قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی علمی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے بیتاب تھے۔ اب جو مسلم دنیا کے اہل علم ان کے یہاں پہنچے تو انھوں نے ان کے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ یورپ میں علم و تحقیق کا وہ کام دگنی شدت کے ساتھ ہونے لگا جو ا سے پہلے مسلم دنیا میں ہو رہا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک ، تقریباً تین سو سالہ عمل کے نتیجہ میں یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو سائنسی اور صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔(صاحبِ کتاب کا اشارہ احیائے علوم (Renissance)کی طرف تھا۔)مغرب کی سائنسی ترقی میں مسلمانوں کے حصہ کے بارے میں مزید تفصیل بریفالٹ کی کتاب تعمیر انسانیت (Making of Humanity) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ سولھویں صدی تک مسلمان علم کے میدان میں استادی کے مقام پر تھے۔ مگر اس کے بعد کی صدیوں میںیورپ نے جو ترقیاں کیں اس نے مسلمانوں کو شاگردی کے مقام پرپہنچا دیا۔ مسلمان خود اپنی لائی ہوئی انقلابی دنیا میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔‘‘
پروفیسر صاحب نے یہ تفصیل پڑھ کرکمزور سی ’ہوں ‘ کی ۔ یہ ایک طرح سے بادل نخواستہ اتفاق تھا۔ کہنے لگے:’’ بات میں وزن تو ہے لیکن اس ایک مثال سے اتنا بڑا نتیجہ نکالنا درست نہیں ۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ یورپ نے مسلمانوں کی ابتدائی قسم کی تحقیق سے فائدہ اٹھایا لیکن جس چیز کو آپ نے ’’توحیدی کلچر ‘‘ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے ، وہ مبالغہ آرائی ہے ، میں اسے درست نہیں سمجھتا ۔ ‘‘ میں نے کہا :’’ دراصل مولانا کی بات میں اس لیے وزن ہے کہ کلیسا کا اثرورسوخ جب یورپی حکومتوں پر کمزور ہوا تو عیسائی مذہب سے بیزار سائنس دانو ں کوآزادی کے ساتھ کام کا موقع ملا، اس کی متعدد مثالیں ہیں لیکن سب سے مشہور اور واضح مثال گلیلیو کی ہے ، جس نے سورج کے ساکن، زمین کے گول اور غیر ساکن ہونے پر بائبل کا گستاخ ہونے کا فتویٰ قبول کیا ۔مولانا وحیدالدین کے مطابق یورپ میں جتنی بھی سائنسی ترقی ہوئی اس کے پیچھے مسلمانوں کا وہ رویہ تھا جسے وہ ’توحیدی کلچر‘ کہتے ہیں اور جس کے تحت مغربی سائنس دانوں نے نیچر کو غیر مقدس سمجھا ،ورنہ اگر گلیلیو ،بائبل کی بات کو مقدس اور حتمی سمجھتا تو زمین کے ساکت اور سورج کے گھومتے رہنے ہی کو درست سمجھتا ۔اس بات کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کوئی بھی پختہ عقیدے والا بنیاد پرست ہندو مسلمانوں کی ہندستان میں آمد سے پہلے گائے کے گوشت پر تحقیق کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا لیکن آج اگر ان کے ہاں کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تو لازمی طور پر ان پر مسلمانوں کے ہزار سالہ دور کا اثر مانا جائے گا جس کے تحت گاؤ ماتا کے تقدس کا عقیدہ کمزور پڑا۔ یا دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں آج مسلمانوں میں آزادئ رائے اور لبرل قسم کے نظریات کی قبولیت کا جو رجحان پایا جاتا ہے ، اس کے پیچھے مغربی افکار کا اثر مانا جائے گا۔‘‘
حیرت انگیز طور پر پروفیسر صاحب نے گفتگو کو آگے نہ بڑھایا دراں حالانکہ میری بات کے آخری حصے میں ان کے موقف کی جزوی حمایت موجود تھی۔ اس کے بجائے انھوں نے میرا ذاتی تعارف حاصل کرنا شروع کردیا ۔ جواب میں، میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو یہ جان کر حیران رہ گیا کہ موصوف ایک معروف مترجم قرآن کے پوتے  ہیں اور ان کا اسلام پر ایمان اٹھ چکا ہے۔( اسی لیے ہم نے ان کا نام بتانا مناسب نہیں سمجھا) باقی سفر میں ان سے متفرق موضوعات پر گفتگو تو ہوتی رہی لیکن خواہش کے باوجود کوئی ٹھوس علمی گفتگو آگے نہ بڑھ سکی ۔ البتہ سفر کے اختتام پر میں نے پروفیسر صاحب کو وہ مختصر سی کتاب تحفے میں دے دی تھی !
(پس تحریر عرض ہے کہ محترم استاد جناب پروفیسر ساجد علی صاحب نے پچھلے کالم پر تبصرہ فرمایا ہے کہ زمین کے گول ہونے کانظریہ تو یونانیوں سے پہلے بھی موجود تھا۔ گزارش ہے کہ مولانا وحید الدین خاں نے اس کی نفی نہیں کہ وہ صرف یونانیوں میں موجود ،دو نظریوں میں سے ایک کو ترجیح دینے کی وجہ بتا رہے ہیں اور شاید اسی سے ان کے دلائل کا ’’سر پیر‘‘ واضح ہونے کی کوئی صورت بھی پیدا ہو سکتی ہے !)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *