' عمران خان کو چار کے ٹولے نے یرغمال بنا لیا'معروف کالم نگار اور مزاح نگار سید عارف مصطفیٰ کا تہلکہ خیز انٹرویو

syed arif mustafa

سوال: کالم لکھنے کا آغاز کب ہوا اور وجہ کیا بنی؟

آپ جانتے ہیں کہ کالم نگاری ایک باؤلے کیڑے کے کاٹنے کی وجہ سے شروع ہوتی ہے اورمیرے لیئے یہ سراغ لگانا مشکل ہے کہ اس کیڑے نے مجھے پہلی بار کب کاٹا تھا اور کیوں کاٹا تھا ۔۔۔ اسکول کے دنوں میں ، شاید جب آٹھویی جماعت میں تھا تب اپنے دوستوں‌ کے لیئے ایک جاسوسی ناول لکھا تھا جو انہی دنوں میں کوئی دوست لے بھاگا حالانکہ لے کے بھاگنے کے لیئے میرے پاس کئی اور بہتر اشیاء بھی تھیں بعد میں وہ خاطر خواہ پچھتایا بھی ہوگا ،،، میں شروع میں خود اپنے نجانے کتنے کالم لکھ کے پھاڑتا رہا ہوں یہ کام بعد میں اخبارات و رسائل کے چند پیشہ ور لوگوں نے سنبھال لیا تھا ۔۔۔۔ شاید 1987 میں عمر شریف کے ایک مزاحیہ ڈرامے پہ ایک تنقیدی مضمون سے آغاز ہوا تھا جس پہ انکی طرف سے طمراق سے جواب لکھوا کے لایا گیا اور شائع کرایا گیا تس پہ میں نے پھر چند چٹکیاں لے ڈالیں یوں جواب الجواب کی نوبت آگئی اور اسے جنگ کے قارین نے بہت پسند کیا تھا

سوال: کراچی کے حالات آپ کے سامنے تبدیل ہوئے، آپ کے خیال میں کراچی کو کس نے زیادہ برباد کیا؟

میرا شہر ویسے تو اپنوں ہی نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا اور یہ زیادہ تر برباد ایم کیو ایم کے ہاتھوں ہوا ، لیکن اس کی بربادی کی شروعات ایوب خان کی جانب سے اس شہر سے دارالحکومت کی حیثییت چھین لینے سے ہوئ لیکن باقاعدہ آغاز اس جلوس فتح سے ہوا کہ جو 1965 کے بنیادی جمہعریت میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو زبردستی ہرانے کے بعد انکے فرزند گوہرایوب نے نکالا تھا اور جس میں محترمہ فاطمہ جناح کی تذلیل کے لیئے ایک ہیجڑے کو سفید بالوں کی وگ لگوا کے ایک ٹرک پہ نچویا گیا تھا اور جب یہ ٹرک لیاقت آباد سے اس تماشے کے ساتھ گزرا تو عوام نے مشتعل ہوکے اس پہ پتھراؤ کردیا اور جلوس کے شرکاء میں سے چند نے ان پہ گولی چلادی جس سے چند لوگ جاں بحق ہوگئےتھے اور یوں کراچی میں پہلی بار لسانی فسادات ہوئے بعد میں بھٹو کے زمانے میں کراچی کو ایک مستقل حریف بنادیا گیا کیونکہ انکے 'ٹیلینٹیڈ کزن' ممتازعلی بھٹو نے بحیثیت وزیراعلیٰ سندھ اسمبلی میں 7 جولائی 1972 کو بدنام زمانہ لسانی بل پیش کرکے منظور کروالیا جسکی رو سے سندھی کو صوبے کی واحد سرکاری زبان قرار سے کے نافذ کردیا گیا تھا اور اردو کو نکال باہر کیا گیا تھا جس کے ردعمل میں صوبہ لسانی فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور متعدد شہری پولیس فائرنگ سے مارے گئے ،،، بعد میں 1985 میں یہ شہر پٹھان مہاجر فسادات کا نشانہ بنا جسکی وجہ ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی موت بنی تھی جو کہ ایک ویگن سے اترتے ہوئے اسی کے نیچے آکے کچلی گئی تھی کیونکہ دو ویگنوں میں ریس لگی ہونے کی وجہ سے ویگن کو باقاعدہ روکنے اور آرام سے اترنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا تھا اور یہ اس وقت کے ٹرانسپورٹرز کا عام رویہ تھا کہ وہ شہریوں کو جانور کی طرح گردانتے معلوم ہوتے تھے پھر تو تلے اوپر متعدد واقعات رونما ہوتے رہے اور یہ شہر بھینک فسادات میں جلتا چلا گیا

سوال: آپ اتنے دبنگ کالم لکھتے ہیں، پھر بھی زندہ ہیں؟

Image result for syed arif mustafa

جی یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے کیونکہ میری ان تحریروں کے باعث میرے علاقے کے بہتیرے لوگ مجھ سے یوں دور بھاگتے ہیں جیسے مجھ سے رابطے سے ہی انہیں 'کچھ'ہوجائے گا ۔۔۔ مجھےلکھنے کے دوران کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں ایسا کچھ لکھ رہا ہوں یہ تو بعد میں پڑھ کے کانپنے والوں سے پتا چلتا ہے کیونکہ میں اپنی دانست میں ایسا کچھ لکھ کے کوئی حیران کن کام نہیں کررہا ، حیران کن بات تو سچ نہ لکھنا ہے۔۔۔ ، میرا اس بات پہ پختہ یقین ہے کہ جبتک اللہ نہیں چاہے گا وہ گولی مجھے نہیں لگے گی کہ جو میرے لیئے نہیں بنی ہوگی ورنہ تو 2012 میں ہی بوری تیار ہوجانی تھی کہ جب ایم کیو ایم والے دس بارہ موٹرسائیکلوں پہ رات ڈیڑھ بجے آکے مجھے گھر سے اغواء کرکے لے گئے تھے لیکن میں ان سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔۔۔ کیسے ۔۔۔ یہ داستان پھر کبھی سہی ۔۔۔۔ اب بھی انہی مگرمچھوں کے درمیان ہی رہتا ہوں اور دھڑلے سے گھومتا پھرتا ہوں

سوال: آپ کو 2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملا تھا‘ آپ عمران خان کے طرفدار تھے‘ پھر یکدم کایا کلپ کیسے ہوئی؟

یہ سب ایک ایسی دکھ بھری ہے کہ آپ خواہ مخواہ اداس ہوسکتے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں میں آپکو کسی اجڑی بیوہ کی مانند دکھائی نہ دینے لگوں ۔۔۔پھر بھی عرض ہے کہ میں وہ پہلا فرد ہوں کہ جس نے کراچی کے کسی اردو اسپیکنگ علاقے میں پی ٹی آئی کا کام شروع کیا ، اور وہ بھی شدید ترین جبر و دہشت کے شباب کے دنوں میں ۔۔۔میرا علاقہ ناظم آباد پاپوشنگر تو ایم کیوایم کا گڑھ ہے ۔۔۔ شدید افسوس کی بات یہ تھی کہ اس وقت پی ٹی آئی کے رہنما یہاں میرے منعقد کیئے گئے اجلاسوں میں وعدے کرنے کے باوجود نہیں آتے تھے اور بعد میں معذرتیں کرتے پھرتے تھے ۔۔۔ این اے 247 سے میری نامزدگی کے لیئے پی ٹی آئی کراچی کے اس وقت کے صدر اشرف قریشی نے دفتر بلوایا تو میں نے یہ کہ کر الیکشن لڑنے سے منع کردیا تھا کہ میرے پاس اسکے لیئے وسائل بالکل نہیں ہیں جس پہ انہوں نے خم ٹھونک کے یہ کہا تھا کہ آپکا الیکشن پی ٹی آئی کے ذمے ہے تب میں نے دستخط کردیئے تھے ۔۔۔ چند روز بعد جب جج کے سامنے اسکروٹنی بھی ہوگئی اور میں وہاں سے بھی کلیئر ہوگیا تب پی ٹی آئی کی جانب سے یہ پیغام ملا کے پارٹی کی پالیسی تبدیل ہوگئی ہے اور اب صرف پنجاب اور کے پی کے میں ہی پارٹی اپنے پیسے خرچ کرے گی اس حیران کن بدعہدی اور وعدہ خلافی پہ میں نے گھر میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی - بعد میں عمران نے جب طاہرالقادری جسے گرو گھنٹال سے ہاتھ ملالیا اور مشترکہ جدوجہد کی بات کی تو میں بہت ناراض ہوکے انکے سیاسی گینگ سے دور ہوگیا اسکے بعد تو ارباب بنی گالہ نے نالائقیوں کا طومار ہی باندھ دیا ۔۔۔ کیونکہ عمران خان کو چار کے ٹولے نے اپنا یرغمال بنا لیا ۔۔۔ تاہم میں اب بھی پارٹی کے پرانے نظریئے کے ساتھ کھڑا ہوں

سوال: آپ کے خیال میں پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہے اور کیوں ہے؟

Image result for syed arif mustafa

ویسے اس سوال کا جواب خود عمران کے پاس بھی نہیں ہے وہ یہی سوال دس مہینے تک یہی سوال ریحام خان سے اور ریحام خان ان سے پوچھتے رہے اورسنا ہے کہ اس سوال کا جواب دینے کے لیئے وہ پھر کسی کو لانے والے ہیں ،،،، ویسے وہ جبتک عمران خان جہانگیر ترین ، علیم خان اور پرویز خٹک جیسے کرپٹ اور گھاگ لوگوں کے نرغے میں محصور ہیں وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرپائیں گے ۔۔۔ وہ کرپشن کے خلاف لڑنے کی باتکرتے ہیں لیکن خود انکے قریب لوگوں میں سے کئی بہت کرپٹ ہیں ، اور ان جیسوں کی دوستی انہیں ہر اصول اور نظریئے سے بڑھ کے عزیز دکھائی دیتی ہے-

سوال: جماعت اسلامی یا پیپلز پارٹی۔۔۔کراچی کے بہتر مستقبل کا حل کس کے پاس ہے؟

پیپلز پارٹی کے لوگ کراچی میں اتنے ہی سمجھیئے جتنے کہ اسلام کی روح کو سمجھنے والے جمیعت العلمائے اسلام میں ہیں یا جس قدر ارباب تقویٰ پارلیمنٹ میں ہیں ، جہانتک جماعت اسلامی کا معاملہ ہے تو کراچی سے اسکا تعلق پہلے کبھی بہت گہرا تھا پھر انہوں نے کراچی کے مسائل کو سمجھنے سے گریز کیا تو کراچی والوں نے انہیں سمجھنے سے گریز کیا ،، اور اب دونوں سمت سے یہ رشتہ جوں کا توں چلا آرہا ہے - جماعت اسلامی ہو یا پیپلز پارٹی، دونوں کراچی کو اپنی سیاسی ایکٹیویٹی کے اسٹیج سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نظر نہیں آتے اس لیئے دونں کا یہاں فی الوقت کوئی مستقبل نہیں ہے-

سوال: آپ مزاح بھی لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں‘ سیاسی کالم آپ کے مزاح کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے؟

اس راہ پہ باقاعدہ لگانے والے تو عطاءالحق قاسمی ہیں جنہیں کسی نے میرا ایک مضمون فیسبک سے اٹھا کے بھیجدیا تھا اور انہوں نے اس وقت میرے پیج پہ سے نمبر لے کے مجھے فون کیا تھا اور بہت سراہا تھا تو مجھے کافی دیر تک یقین ہی نہ آیا تھا کہ یہ واقعی قاسمی صاحب ہی ہیں ۔۔۔ پھر لاہور گیا تو اپنے دفتر میں بہت پزیرائی کی اور اپنی کتابوں کا سیٹ بھی دیا - باقی یہ کہ ظرافت میری طبیعت کا حصہ ہے اور ذہن میں اکثر ہی شگفتگی و شرارت کی لہریں موجزن رہتی ہیں اسلیئے مزاح ذرا آسانی سے لکھ لیتا ہوں ۔۔۔ باقی یہ کہ اب میری سیاسی تحریروں کی کثرت نے یقینناً مزاح کی بہت چائنا کٹنگ کر رکھی ہے- ویسے اب مزاح کی ٹھرک مٹانے کے لیئے اپنے سیاسی کالموں میں بھی اکثر ظرافت کو کھینچ ہی لاتا ہوں ۔۔۔ سیاسی کالم میں اپنے ایک وژن کے تحت لکھتا ہوں جو اس ملک میں بہتری لانے کے لیئے کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی میری دلی تمنا کا عکاس ہے ۔۔۔ اسکے لیئے میں میں کئی جہتوں میں کام کررہا ہوں‌ اور خصوصاً نوجوانوں اور طلباء کے اذہان میں حب وطن کے جذبے کی بیداری میری کوششوں کا محور ہے اور میں اس حوالے سے انکے ذہنوں میں موجود سوالات کے جوابات دینے کے لیئے سرگرم رہتا ہوں - میں ملکی وقار او خود اعتمادی کے حصول کے لیئے قومی زبان اردو کے نفاز کی تحریک کا بھی داعی ہوں اور اس ضمن میں نفاز قومی زبان تحریک کے صدر کی حیثیت سے جدوجہد میں مصروف ہوں ۔۔۔ ملک میں مثبت تبدیلی لانے کے لیئے پی ٹی آئی انقلابی کے نام سے پاگلوں کا ایک قافلہ تشکیل دے رہا ہوں جسکے لیئے اگر مناسب تعداد میں لوگ مل گئے تو اگلے مرحلے میں تحریک نجات کی نوبت آجائیگی اور اس بڑی منزل کی طرف باقاعدہ چل پڑوں گا کیونکہ میرا خیال ہے کہ اب یہ ملک سیانوں کو نہیں پاگلوں کو چلانا ہوگا ۔۔۔ ایسے لوگ جلد یا بدیر مل ہی جائیں -گے ، اگر نہ ملے تو پھر قلم ہی کو علم بنائے رکھوں گا-

سوال: آپ کے بارے میں کہا جاتاہے کہ انتہائی سفاک نگار ہیں‘ کیا صرف سچ لکھنا پسند کرتے ہیں یا سنتے بھی اسی تحمل سے ہیں؟

سفاک کے معنی اگر یہ مراد لیئے گئے ہیں کہ میں سچ لکھتا ہوں اور اس رستے میں کسی اپنے پرائے کی پرواہ نہیں کرتا تو میرا موقف یہ ہے کہ ایسی سفاکی پہ سو مہربانیاں و نرم دلیاں قربان ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ کوئی خاص وصف نہیں کیونکہ ایسا نہ کرنا 'خاص وصف' ہے - میرا قصؤر صرف یہ کہ ایک انگریزی محاورے کی رو سے بیلچے کو بیلچہ ہی کہتا ہوں اور ملک کے سب سے بڑے جھوٹے و دو نمبری کو عامر لیاقت کے سوا کوئی اور نام نہیں دیتا ،،،

سوال : عارف مصطفی میں کیا برائیاں ہیں؟

Image result for syed arif mustafa

اسکے لیئے مجھے خود کو اپنی بیگم کی آنکھ سے دیکھنا ہوگا- اور گمان ہے کہ جو خاص خاص باتیں سامنے آئینگی وہ ممکنہ طور پہ یہ ہوسکتی ہیں 1- میں مطلوبہ مقدار سے چند گرام زیادہ جذباتی ہوں ،2- دوستیاں برقرار نہیں رکھ پاتا کیونکہ دوستیاں وقت بھی مانگتی ہیں اور خلاف مزاج باتوں پہ خامشی بھی۔۔ 3- پہلے خود رائی کی بہت عادت تھی لیکن بتدریج پتا چلا کہ غالب خستہ کے بغیر کوئی کام بند نہیں اور کار جہاں اس قدر دراز ہے کہ اس اس زبان دراز کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔۔۔ 4- لوگوں کی پہچان نہیں رکھتا اور نقصان اٹھانے کے بعد اپنےآپ سے بڑی چھان پھٹک کا وعدہ کرتا ہوں لیکن ہربار لوگ اپنا کام کیئے جاتے ہیں اور میں اپنا ،،،، کچھ لوگوں کے نزدیک مجھ میں بڑی خامی یہ ہے کہ میری طبیعت میں بڑی من مانی ہے اور میں جو بہتر سمجھتا ہوں کرگزرتا ہوں ،،، جوانی میں کیریئر کا آغاز بطور ایکسائز انسپیکٹر کیا تھا پھر اس جاب اور محکمے کو رشوت کی دلدل پا کے ترک کیااور پرائیوٹ جاب کی طرف نکل گیا اور 12 برس ایک ملٹی نیشنل یونیلیور کی مینجمنٹ کا حصہ بنا رہا -پھر کاروبار کیا اور ایم کیوایم کے بھتہ خوروں کو بھتہ دینے سے انکار کے نتیجے میں بہت نقصان اٹھا کے کاروبار بند کرنے پہ مجبور ہوگیا پھر ایروز فارما میں بطور ایچ آر مینیجر کام کیا وہاں مزدوروں کے بدتر حالات اور اپنی بےبسی دیکھی تو استعفیٰ دے کے ایک تعلیمی ادارے میں پڑھانے لگ گیا پھر صحافت کے میدان کا رخ کیا اور اب فری لانسنگ کررہا ہوں -

سوال: آپ کی بے باکی نے کبھی آپ کو نقصان بھی پہنچایا؟

جی ہاں اسکول ، کالج دفتر غرض ہرجگہ پہ اساتذہ و باس زبردست لیکن خاموش حریف بنتے رہے ہیں جبکہ ساتھی طلبہ اور ساتھی افسر اپنے مسائل کے حل کے لیئے مجھے ہی آگے لگاتے تھے - آپ جسے بیباکی کا نام دے رہے ہیں اسے میرے احباب کچھ ایسا نام دیتے ہیں کہ نہایت ناقابل اشاعت ہے ۔۔۔

سوال: یاد آیا۔۔۔ آپ نے افسانے بھی تو لکھے ناں؟

بس جی کالم نگاری یونہی منہ کا ذائقہ بدلنے کی حد تک ہی ہے- جب پہلا افسانہ لکھا تو نجانے کہاں کہاں شائع ہوگیا جس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ کچھ 'خاص' ہوگیا ہے ، لیکن یہ میرے مزاج کا حصہ پھر بھی نہیں بن سکا ہے حالانکہ میرے لیئے بیگم کی یہ سند آئے دن جاری ہوتی رہتی ہے کہ " آپ تو ذرا سی بات کا افسانہ ہی بنا دیتے ہیں

سوال: کالم نگاروں کا سب سے بڑا المیہ کیا دیکھتے ہیں؟

ان میں سے بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ انہیں المیئے کے حقیقی معنی ہی نہیں معلوم... وہ تو وقت پہ سگریٹ یا سگار نہ ملنے کو بھی معاشرتی المیہ گردانتے ہیں اور انہیں خود نہیں معلوم کہ کسی اہم مسئلے پہ انکا کیا موقف ہونا چاہیئے اور کیوں ۔۔۔ لازم ہے کہ صحافی کو صاحب مطالعہ صاحب بصیرت اور واضح رائے کا حامل ہونا چاہیئے مگر ان میں سے بیشتر کا معاملہ یہی ہے کہ 'جنہیں پڑھنا چاہیئے وہ لکھ رہے ہیں' اکثر کالم نگاروں کا یہ حال ہے کہ ہر جگمگاتی چیز سے انکی آنکھیں خیرہ اور عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور انکی رائے مسلسل جھولے لیتی رہتی ہے اور انکے پڑھنے والے مسلسل کنفیوژ ہونے کے بعد انہیں چھوڑ کے کسی دوسرے کو پڑھنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں اور جلد ہی وہاں سے بھی اکتا جاتے ہیں - اکثر کالم نگار ذہنیت کے اعتبار سے یا تو مخبر ہیں یا سوتن ۔۔۔ ایسے میں رائے سازی کہاں سے ہو بس افواہ سازی اور ملمع سازی ہی ہوسکتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *