قو م کی نظریں عدلیہ اور فوج پر

ausaf-sheikh

پاکستان کے مشہور کیس پاناما کیس کی سماعت مکمل ہو گئی ہے، معزز عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا کہ بہت اہم کیس ہے ، مختصر فیصلہ نہیں دے سکتے یعنی فیصلہ تفصیل سے آئے گا یقیناًمعزز عدالت سپریم کورٹ کے 5 سینئر جسٹس پر مشتمل بنچ نے جو بھی فیصلہ سنایا وہ بہترین اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو گا، قوم کو معزز عدالت سے امید بھی یہی ہے کہ انصاف کیا جائے گا اور امید ہے یقیناایسا ہی ہو گا، قوم سپریم کورٹ میں چلنے والے اس کیس کی لمحہ بہ لمحہ کاروائی الیکٹرانک میڈیا بالخصوص میڈیا پر دکھائی جانے والی سیاست دانوں کی بات چیت اور مختلف ٹاک شوز سے ملتی رہی، کچھ ٹی وی چینلز کے سپریم کورٹ میں ہونے والی کاروائی پر تبصرے اور باتیں اپنے اپنے لیڈروں یعنی من پسند لیڈروں ۔۔۔۔ کے حوالے سے مختلف ہوتی رہیں، ہم نے روزانہ دیکھا کہ حکومتی حمایتی مخصوص چینل لگا کر بیٹھے ہوتے اور مخالفین دیگر چینل پر اپنی پسند کی گفتگو سن رہے ہوتے اور اس کے بعد اپنے اپنے تبصرے اور بحثیں شروع ہو جاتیں ۔
پاناما کیس کا فصلہ جو بھی آئے وہ معزز عدلیہ جو ہم سب سے بہتر سمجھتی ہے اور جانتی ہے ویسا ہی ہو گا لیکن اتنے مہینوں کے دوران عوام پر بہت سے انکشافات ہوئے بہت سے مرحلے اس کیس میں آئے اور کیس کی رٹ کیے جانے سے چند ہفتوں قبل کے بیانات اور پھر کیس کے دوران گزشتہ کئی سالوں کے بیانات ، حقائق اور دیگر باتیں سامنے آئیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ حکومتی اراکین نے کتنی مرتبہ اپنے قائد کی حمایت میں بیان بدلے اور بیشتر مرتبہ تو یہ دیکھا اور سنا گیا کہ اپنے قائد پر الزام کے جواب میں مخالفین پر الزام لگائے گئے اپنے قائد کادفاع کم کیا گیا اورایسے ہی الزامات دوسروں پر لگا دیئے گئے بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا رہا کہ جس کسی پر چوری کا الزام لگایا جائے تو چور آپ پر بھی الزام لگا کر کہے کہ آپ بھی تو چور ہیں اس میں تو چور نے اپنی چوری تسلیم کر لی۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ الزام لگانے والے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکیں اس کا کیا مطلب نکلتا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سپریم کورٹ میں چلنے والے کیس پر عوامی سطح پر کوئی بات نہ کی جاتی لیکن یہاں تو دھمکیاں تک سنی گئیں بہت سے بیانات اور پروگرام ایسے دیکھے جسے سپریم کورٹ کو عدالت کے باہر بیٹھ کر ثبوت دیئے جا رہے ہوں یا راستہ دکھایا جا رہا ہو۔ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جس دن متوقع تھا اس سے قبل وزیر اعظم بیرون ملک دورے پر چلے گئے اور اس سے قبل جب ڈان لیکس کامعاملہ ایک بار پھر موضوع بنا تو وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز لندن چلی گئی، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا یہ سپریم کورٹ ہی جانتی ہے کہ تفصیلی فیصلہ کب آئے گا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے سب کو قبول کرنا چاہیے عمران خان ، شیخ رشید اور دیگر اپوزیشن ۔۔۔ بالخصوص اس کیس کے مدعی بار بار کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہو گا ، حکومتی اراکین کا بھی یہی دعویٰ ہے حالانکہ ماضی میں اس حوالے سے ان کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا۔ جنہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کا عدالت کے باہر ہر ممکن دفاع کر نے کی کوشش کی اور کئی مرتبہ ان کے لہجوں میں دھمکی آمیز عنصر بھی پایا گیا حالانکہ یہ کیس مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ نواز شریف کے خلاف ہے۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا رویہ اس کے سربراہ آصف علی زرداری جیسا رہا کبھی کچھ سمجھ نہیں آیا کہ پیپلز پارٹی آخر کیا چاہتی ہے اپنے انہی غیر واضع رویے کی وجہ سے پی پی پنجاب میں ختم ہو نے کے قریب آ چکی ہے اور صرف یہ کھیل کھیل رہی ہے کہ فیصلہ کچھ بھی آئے ، آنے والے انتخابات میں کوئی جماعت انتی نشستیں حاصل نہیں کر پائے گی کہ وہ اکیلی یا چند چھوٹی پارٹیوں کو شامل کر کے حکومت بنا سکے، پی پی خود کو صرف سندھ میں مضبوط کر نے کی کوشش میں مصروف ہے کہ آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف میں جن کے ساتھ داؤ چل سکا مل کے حکومت میں آسکے۔
سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا سر آنکھوں پر لیکن تحریک انصاف اور عمران خان مسلسل جدو جہد سے نواز شریف کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھ جہاں تک لے آئے یقیناان کا کارنامہ ہے جتنے راز افشا ہوئے جتنی حقیقتیں کھل کر عوام کے سامنے آئیں اب اگلا کام عوام کا ہے اور عوام اپنا بہترین فیصلہ انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے ہی دے سکتے ہیں یہ تو پاناما کا فیصلہ آئے گا ابھی تو ڈان لیکس کا معاملہ بھی سامنے آنا ہے اور اس کا سامنے آنا ضروری بھی ہے۔
اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے دشمن قوتیں جس طرح مل کر ہمارے خلاف متحرک ہیں دہشت گردی کے ذریعے ہمیں جتنا نقصان پہنچا یا جا رہا ہے پاک فو ج اس سے بخوبی نمٹ رہی ہے لیکن ضروری ہے کہ ایسے کیسوں کے منصفانہ فیصلوں سے ملک کے اندر ملک دشمنوں کا جو سیاسی لبادے میں ہیں کا بھی سختی سے محاسبہ کیا جائے ، اس سلسلے میں قوم کی نظریں عدلیہ اور فوج پر ہیں۔

قو م کی نظریں عدلیہ اور فوج پر” پر بصرے

  • مارچ 5, 2017 at 4:03 AM
    Permalink

    اچھا کالم لکھا ہے اوصاف شیخ صاحب نے ۔ سیاست دانوں نے کچھ نہیں کرنا ۔ قوم کا مستقبل بلا شبہ عدلیہ کے دلیرانہ اور منصفانہ فیصلوں اور پاک فوج کی نہ صرف دہشت گردوں اس کے ساتھ ساتھ کرپشن ، ڈرگ مافیا ، جواء مافیا ، تھانہ ، پٹواری سطح پر ظلم کے خلاف بلا امتیاز کار روائی میں ہے

    Reply
  • مارچ 5, 2017 at 4:07 AM
    Permalink

    اوصاف شیخ کا کالم ۔۔۔ قوم کی نظریں عدلیہ اور فوج پر بلا شبہ عوامی امنگوں کا ترجمان ہے ۔ ورنہ یہ جوتوں کا کھیل جاری رہے گا

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *