بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی ۔۔۔۔قسط نمبر 36

 بشکریہ وینیٹی فیئر میگزین نیویارکsita white

وکٹوریہ ساری رقم حاصل یا استعمال نہیں کر سکتی تھی۔ اسے اسی ماہوار آمدن پر گزارا کرنا تھا۔ لوکاس، جو اس وقت 20برس کا تھا، اسے اس کا باپ اپنی بے حساب دولت کا مرکزی وارث بنا رہا تھا۔
اس وقت تک لوکاس ایک طویل، خوش شکل اور مردانہ صفات کا حامل نوجوان بن چکا تھا۔ اس کے بال گہرے سیاہ اور گھنگھریالے تھے۔انتقالِ اقتدار نہایت خوش اسلوبی سے ہو گیا۔لارڈ وائٹ پولو کے میدان میں اپنے بیٹے کی بہادری پر بالخصوص فخر کرتا تھا۔۔۔ یہ ایک ایسی صلاحیت تھی جسے وہ خود بھی زندگی بھر حاصل نہ کر سکا تھا۔برطانیہ کے قصبے یاک شائر میں متوسط درجے میں آنکھ کھولنے کے زمانے سے وہ اس صلاحیت کو حاصل کرنے کی کوششیں کرتا رہا تھا۔ہیملٹن کا کہنا ہے کہ ’’گورڈن وائٹ کو افسوس تھا کہ وہ لوکاس کو اتنا وقت نہ دے سکا، جتنا کہ وہ دینا چاہتا تھا۔دراصل، اپنی موت سے ذرا پہلے، اس نے مجھ سے کہا تھاکہ اب بس اس کی دو آخری خواہشیں پوری ہو نا باقی تھیں جنہیں وہ دیکھنا چاہتا تھا ۔ ایک یہ جان لینا کہ لوکاس نے ایک بہتر مستقبل حاصل کر لیا ہے اوردوسری یہ کہ اس نے خوداپنے لئے گھوڑوں کا ایک فارم تیار کروا لیا ہے۔‘‘
بہرحال، وائٹ کی موت کے بعدبھی، مسائل اپنی جگہ موجود تھے۔کاغذات کے مطابق، اس کی جائیداد سے متعلق متعدد تنازعات نے سراٹھا لیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *