ایک جنرل کے عام تصورات

عرفان حسینIrfan Hussain

آج کل پرویزمشرف جمہوریت کے بارے میں اپنے خیالات سے عوام کو مستفید کررہے ہیں۔بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا اگرچہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ مغربی نظام کو پاکستان کے لیے موزوں نہیں سمجھتے۔ کراچی کے یوتھ فورم سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پیش رووں، جنھوں نے شب خون مارتے ہوئے جمہوری حکومتوں کی چھٹی کرائی، نے دراصل ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ایسا کیا تھا۔ اپنے کراچی والے گھر میں گفتگو کرتے ہوئے سابق جنرل نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اعلیٰ سطح پر فیصلے کرنے کے عمل میں فوج کو بھی آئینی حق دیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے مستقبل میں شب خون مارے جانے اور جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹے جانے کا خدشہ ٹل جائے گا اور فوجی اور سولین قیادت کے درمیان اتفاقِ رائے بھی تشکیل پائے گا۔
اعتراف کہ میری عمر اتنی زیادہ ہے کہ میں نے ان کانوں سے ایوب خان کا فرمودہ بھی سنا ہے کہ...’’پاکستان کے لوگوں کو پارلیمانی جمہوریت راس نہیں۔‘‘پاکستان میں قائم ہونے والی تمام فوجی حکومتوں نے اسی ’’دانائی‘‘ کے تحت عوام کوپارلیمانی جمہوریت کے شر سے بچایا اور اپنی قومی خدمت کی داد بھی پائی۔ ان کا طریق�ۂ واردات(محاورۃً) یہ رہا کہ نااہلی اور بدعنوانی، ہر دو عمل کو وردی پوش حکمرانوں کی آشیربادحاصل رہی، کے کلچر کو فروغ دیتے ہوئے سیاست دانوں کی ساکھ مجروع کردی جائے تاکہ عوام اُنہیں نجات دہندہ سمجھ کر خوش آمدید کہیں۔
کچھ فہم و فراست رکھنے والے پاکستانی یقیناًیہ موقف رکھتے ہوں گے کہ ہمارے سیاست دان کئی عشروں سے خودکشی کے مشن پر پورے خلوص سے گامزن ہیں اور اپنی نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے فوج کو شب خون مارنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ طالع آزما جنرلوں نے پیش کیے جانے والے مواقع سے فائدہ نہ اٹھا نا کفرانِ نعمت کے مترادف گردانا۔ یقیناًوہ ایسے ہرگز نہیں تھے، چنانچہ جمہوری حکومتو ں کے تختے باقاعدہ وقفوں سے الٹے جاتے رہے۔ عوام کو یہ بات ذہن نشیں کرادی گئی کہ یہ بدعنوان سیاست دان اپنی جیبیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ جب بھی جنرل نظام کی بہتری کا بیڑا اٹھاتے، وہ اسے مزید خراب کردیتے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ بھی اُن سیاست دانوں سے مختلف دکھائی نہ دیتے جن سے وہ نفرت کرتے تھے۔صاف دکھائی دیتا کہ وہ بھی کسی نہ کسی بہانے سے اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش میں ہیں۔
فوجی حکومت کے طویل اور تلخ تجربے کے باوجود بہت سے پاکستانی ، جو بظاہر جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں، منتخب شدہ جمہوری حکومت کی کارکردگی سے ناخوش ہونے پر فوجی مداخلت کی ضرورت محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں۔ جب آصف زرداری حکومت میں تھے تو میں نے بہت سوں کو یہ کہتے سنا کہ ’’اس موجودہ بدعنوان حکومت کا تختہ نہ الٹ کر جنرل (ر) کیانی اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا ارتکاب کررہے ہیں‘‘۔ اب جبکہ عمران خان کی احتجاجی تحریک نے گلیوں اور سڑکوں پر ایک ماحول قائم کررکھا ہے تو بہت سے لوگ حیران ہیں کہ اب تک جنرل راحیل شریف نے پی ایم ایل (ن) کی حکومت کو چلتا کیوں نہیں کیا؟ آخر دیر کس بات کی ہے؟
اب یہ ہے وہ پوائنٹ جو میں قارئین کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ابھی بھی جمہوریت کی جڑیں عوام کے دلوں میں گہری نہیں ہیں۔ ہم تبدیلی کے لیے اتنے بے چین ہوجاتے ہیں کہ چار یا پانچ سال کا عرصہ ہم پر گراں گزرتا ہے،ہم ایک دو سال بعد ہی جمہوری حکومت سے تنگ آجاتے ہیں۔یہ دھڑکا ہماری جان نہیں چھوڑتا کہ بدعنوان سیاست دان ملک کو بیچ دیں گے۔ دوسری طرف فوجی آمر عشروں تک اقتدار پر قابض رہتے ہوئے لمبی اننگز کھیلتے ہیں لیکن کسی ’’امپائر ‘‘ کی انگلی کھڑی نہیں ہوتی۔ شاید وردی اور گن کا تحفظ ہر قسم کے بال کو وکٹوں سے دور رکھتا ہے۔
جنرل مشرف کا خیال ہے کہ فوجی حکمرانوں نے سب کچھ قومی مفاد میں کیا۔ سابق جنرلوں کی حب الوطنی پر شک کیے بغیر یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ ان میں سے جو بھی رخصت ہوا(کم و بیش ایک عشرے کے بعد) تو ملک میں وہ خرابیاں، جنہیں وہ دور کرنے آیا تھا، کئی گنا بڑھ چکی تھیں۔ ان کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات کو ایک طرف رہنے دیں، ان کی وجہ سے قومی اداروں کی تباہی کی داستان بہت طویل بھی ہے اور دردناک بھی۔ بتدریج پروان چڑھنے اور بہتری کی طرف گامزن رہنے کی بجائے ہمارے جمہوری نظام کو شدید جھٹکے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ بار بار پٹری سے اتر کر عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے۔ یوں کہہ لیں کہ ہمیں ایک ہی سفر کا بار بار آغاز کرنا پڑتا ہے، لیکن ہم سبق سیکھنے کے موڈ میں نہیں۔ ہمارے کوتاہ بین جنرلوں نے ماضی میں سیاست میں مداخلت کے ساتھ ساتھ غیر دانشمندانہ فوجی مہم جوئی کے ذریعے ہمیں جمہوری اور معاشی ترقی کی راہ سے ہٹا دیا۔ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اُنھوں نے انتہا پسند گروہوں کی مبینہ طور پر سرپرستی کی اور کشمیر اور افغانستان میں مداخلت کو روا سمجھا گیا۔ اس سے نہ صرف ہمارے ہمسایوں سے ہمارے تعلقات میں دڑاڑیں پڑیں، وہیں نفرت پر مبنی نظریات نے پاکستانی معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیا۔
چونکہ فوج ایک لڑاکا فورس ہوتی ہے، اس لیے وہ آج کے تبدیل ہوتے ہوئے عالمی حالات میں ’’سافٹ پاور‘‘ کا تصور تسلیم نہیں کرتی کہ آج گن اور بموں سے زیادہ معاشی عوامل کسی ملک کے مقام کا تعین کرتے ہیں... موجودہ جرمنی اور ماضی کے سوویت یونین کی مثال ذہن میں رکھیں۔ تاہم آج جب پاکستان زوال اور انحطاط کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس عمل کے دوران ہم اپنے روایتی حریف بھارت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں، تو آج فوج کے ماضی کے نظریات کی فاش غلطیاں طشت ازبام ہورہی ہیں۔سب سے بڑھ کریہ کہ جب جنرل سیاسی طاقت حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنے ارد گرد اُن افسران کو رکھنا چاہتے ہیں جو ان جیسا کہ پسِ منظر رکھتے ہوں۔وہ بطور ادارہ فوج کے مفادات کا تو تحفظ کرتے ہیں، لیکن خود کو سولین قوانین کے سامنے سرنگوں نہیں کرتے۔ فوج کی حد تک فیصلوں میں کم و بیش اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کیونکہ کوئی جونیئر افسر سینئر سے اختلاف نہیں کرتا۔
تاہم یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اگر چہ مشرف کی طرف سے مقامی حکومتوں کو تقویت دینے کا مقصد روایتی سیاست دانوں کو بائی پاس کرنا تھا لیکن یہ گراس روٹ لیول پر عوام کو اختیارات تقویض کرنے کی ایک اچھی کوشش تھی۔ اس کے باوجود ایک طے شدہ نظام کو خراب کرنے ملک کا بھلا نہیں ہوا۔یہ بھی غلط نہیں کہ لامحدود سیاسی طاقت بھی بدعنوانی اور نااہلی کی طرف لے جاتی ہے کیونکہ حکمران اصلاحات کا بار اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ مشرف کی ایک بات قابلِ تحسین تھی کہ اُنھوں نے خواتین کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور مذہبی امتیاز کی بنیاد پر انتخابات کا خاتمہ کیا۔ اگر وہ اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے دینی مدرسوں کی اصلاح کرنے اور مذہبی انتہا پسندوں کو لگام دے دیتے تو ہم اُن کے کہیں زیادہ مشکور ہوتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *